أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ اَنّٰى يَكُوۡنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ صَاحِبَةٌ‌ ؕ وَخَلَقَ كُلَّ شَىۡءٍ‌ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

وہ آسمانوں اور زمینوں کا موجد ہے، اس کی اولاد کیونکر ہوگی حالانکہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے ‘ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ آسمانوں اور زمینوں کا موجد ہے، اس کی اولاد کیونکر ہوگی حالانکہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے ‘ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ (الانعام : ١٠١) 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ابن اللہ ہونے کا دلائل سے رد : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا تھا کہ مشرکین کے عقائد باطل ہیں اور اس آیت میں ان کے باطل ہونے پر دلائل قائم کیے ہیں ‘ ان دلائل کی تقریر امام رازی نے اس طرح فرمائی ہے۔ 

(١) بدیع کا معنی ہے کسی چیز کو بغیر کسی سابقہ مثال اور نمونہ کے پیدا کرنا اور اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں اور زمینوں کو ابتداء بغیر کسی سابقہ مثال کے پیدا کرنے والا ہے ‘ اور یہی عیسائیوں کے عقیدہ کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کیا ہے ‘ جس کی پہلے کوئی نظیر اور مثال نہیں تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس دلیل کا رد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام آسمانوں اور زمینوں کو ابتداء بغیر کسی سابقہ مثال اور نمونہ کے پیدا کیا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ تمام آسمانون اور زمینوں کا باپ ہے اور اگر اس وجہ سے وہ تمام آسمانوں اور زمینوں کا باپ نہیں ہے ‘ تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اس وجہ سے کیسے باپ ہوسکتا ہے ؟ 

(٢) عیسائی جو کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور اللہ ان کا باپ ہے۔ اگر اس سے انکی یہ مراد ہے کہ جیسے انسانوں میں معروف طریقہ سے اولاد ہوتی ہے ‘ اس طرح سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی تو بیوی ہی نہیں ہے تو اس کا بیٹا کیسے ہوگا ؟ نیزمعروف طریقہ سے اولاد کے حصول میں وہ شخص محتاج ہوگا جو علی الفور کسی چیز کے پیدا کرنے پر قادر نہ ہو تو وہ نو ماہ کے انتظار کے بعد اولاد کو حاصل کرے گا ‘ لیکن جس کی شان یہ ہو کہ وہ جس چیز کو پیدا کرنا چاہے تو وہ ایک لفظ ” کن “ فرماتا ہے اور وہ چیز اسی وقت موجود ہوجاتی ہے۔ وہ اس معروف دنیاوی طریقہ سے اولاد کو کیوں حاصل کرے گا ؟ اس دلیل کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ 

(٣) اگر اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹا فرض کیا جائے تو وہ قدیم ہوگا یا حادث ؟ اس کا قدیم ہونا اس لیے باطل ہے کہ بیٹا باپ سے متاخر ہوتا ہے اور قدیم کسی چیز سے متاخر نہیں ہوتا ‘ اور اس کا حادث ہونا اس لیے باطل ہے کہ بیٹے کے ہونے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی صفت کمال حاصل ہوگی یا صفت نقص۔ نقص کا فرض باطل ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ محل نقص نہیں اور صفت کمال حاصل ہونا اس لیے باطل ہے کہ وہ قدیما اور ازلا تمام صفات کمال سے متصف ہے۔ پھر بیٹے کو قدیم ہونا چاہیے ‘ حالانکہ اس کو حادث فرض کیا تھا اور اس دلیل کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ کیا ہے کہ وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ‘ کیونکہ اگر اس کے علم میں یہ ہوتا کہ بیٹے کا ہونا اس کے لیے باعث کمال ہے تو بیٹا ازلی اور قدیم ہوتا ‘ حالانکہ بیٹا باپ سے متاخر ہوتا ہے اور متاخر ہونا قدیم کے منافی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 101