رسول رحمت ﷺ بحیثیت امام اقتصادیات

مولانا محمد حسین مشاہد رضوی

مادی زندگی میں معیشت و اقتصادیت کے مسائل نمایاں اہمیت کے حامل ہیں ، انسانوں نے مختلف ادوار میں اپنی فہم و فراست کے مطابق مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی مگر وہ الجھ کر رہ گئے۔ محکوموں نے خواب سے بیدار ہونے کی کوشش کی تو پھر انہیں حکمرانوں کی ساحری نے سلا دیا اور غلام کی بجائے جاگیرداری کا دَور آیا پھر صنعت کا ری یا سرمایہ کاری کا عہد اپنی شوکت کے ڈنکے بجاتا آیا اور یہ بلند و بانگ دعوے کئے گئے کہ معاشی و اقتصادی مسائل حل ہوجائیں گے مگر وہاں بھی مسائل سلجھنے کے بجائے الجھتے گئے اور پھر اشتراکیت اپنی صناعیوں کے خول میں ریزہ کاری کرتی ہوئی طلوع ہوئی مگر تاریخ شاہد ہے کہ اب تک انسانیت ظلم کی قہرمانی چکی میں پس رہی ہے اور ایک دفعہ پھر رہنمائی کے لئے اِدھر اُدھر دیکھ رہی ہے لیکن سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ ان کا اور ان جیسے مسائل کا حل عقل کی روشنی میں سوچنا ممکن ہی نہیں۔ مسائل حیات کا حل تو صرف خالق کائنات جل شانہ کے پاس ہی ہوسکتا ہے اور اس نے صدیوں پیشتر معلم کائنات محسن انسانیت ﷺ کی زبان صداقت ترجمان سے یہ مسائل حل کرائے تھے۔

مصطفی جان رحمت ﷺ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بھی ایک میں مینا ر نور کی حیثیت سے ہماری رہنمائی فرما رہے ہیں ا آپ نے ایک طرف تو لوگوں کی نگاہیں دنیاوی دولت سے ہٹا کر اخروی دولت کی طرف لگادی اور دنیا والوں کو بتادیا کہ اصل کامرانی آخرت کی کامرانی ہے اس لئے فقط دولت دنیا سے محبت نقصان کی باعث ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دولتمندوں کے پاس جو مال ہے یہ سب اللہ کا ہے وہ خود بھی اللہ کے بندے ہیں اسطرح ان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ امین کے طور پر اس مال کو اپنے پاس رکھیں اور اسلامی حکومت کو جتنے مال کی ضرورت ہو خزانوں کے دروازے کھول دیں اس کی بہترین مثال حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی مقدس ذات پاک ہے ۔ اسلامی حکومت کو جب بھی ضرورت ہوئی انہوں نے اپنا اثاثہ حاضر کردیا۔ ادھر رحضور رحمت عالم ﷺ نے ایسا ماحول پیدا کیا کہ غریب محض سوالی بن کر اپنی صلاحیتوں کو ضائع نہ کر بیٹھیں بلکہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور محنت کرکے اپنا رزق تلاش کریں، پھر دولت مندوں پر پابندی عائد فرمادی کہ وہ اپنی دولت تعیشات پر خرچ نہیں کرسکتے بلکہ اسے زکوٰۃ و صدقات کے ذریعہ قوم مسلم پر لٹاتے رہیں، مال و زر گردش میں رہے، اور دولت صرف چند دولتمندوں کے مراکز میں ہی گردش نہ کرتی رہے بلکہ ہر ایک کی ضرورت اس سے پوری ہوتی رہے۔ اور دنیا نے دیکھ لیا کہ چند ہی سالوں میں اسلام کی برکات سے پوری سلطنت ِاسلامیہ میں کوئی بھوکا نہ رہا لوگ اپنی زکوٰۃ لئے لئے پھرتے مگر لینے والا کوئی نہ تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے عہدِ خلافت میں دولت کی ریل پیل دیکھ کر حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ مضطرب ہوئے اور فتویٰ دیا کہ ’’دولت جمع کرنا حرام ہے‘‘۔ تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ آواز پسند عام نہ ہوسکی۔ اور نہ عوام میں کوئی فتنہ پیدا کرسکی ، کیونکہ زکوٰۃ کا قانون پورے نظام کے ساتھ جاری تھا۔ اس آواز کے بے اثر ہونے کا بنیادی سبب یہ تھا کہ لوگ آسودہ حال اور فارغ البال تھے۔ کوئی بھوکا پیاسا نہ تھا اور جوتھے تو عہد عثمانی میں ان کا کھانا بیت المال سے مقرر تھا۔

یہ اسلامی نظامِ اقتصادیات ہی کی برکت تھی کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ جو کبھی کبھی چھ چھ روز بھوکے رہتے تھے ، آپ کتّان کے کپڑے سے ناک صاف کرتے تھے۔ بحرین کے گورنر تھے اور دس ہزار نقد کے مالک تھے۔ اس طرح حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ایک زمانہ وہ تھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا اور آج میرا یہ حال ہے کہ چالیس ہزار درہم میری سالانہ زکوٰۃ کی رقم ہوتی ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ کے دَور کی حالت مہاجربن زید کی زبانی سنئے، فرماتے ہیں کہ ہم لوگ صدقہ تقسیم کرتے تھے ایک سال کے بعد دوسرے سال وہ لوگ جو پہلے صدقہ لیتے تھے خود دوسروں کو صدقے دینے لگتے تھے۔

اشتراکیت ذاتی جائداد کی بالکل نفی کردیتی ہے ۔ سرمایہ داری ملکیت پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتی ایک طرف افراط ہے دوسری طرف تفریط، ان میں اعتدال کی راہ رہی ہے جو انسان کامل مصطفی جان رحمت ا نے پیش کی تھی اور جس کی برکات سے دنیا ایک دفعہ پہلے بھی سرفراز ہوچکی ہے۔ ان تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں اگر صحیح رہنمائی مطلوب ہے اور ٹھوکریں کھانا مقصود نہیں تو اس مینار ہؑ نور کی طرف لوٹنا ہوگا جو سلسلۂ تخلیق و ارتقا کی آخری کڑی ہیں۔

خلق و تقدیر و ہدایت ابتدا است

رحمۃ للعالمین انتہا است