أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الۡجِنَّ وَخَلَقَهُمۡ‌ وَخَرَقُوۡا لَهٗ بَنِيۡنَ وَبَنٰتٍۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ‌ؕ سُبۡحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوۡنَ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے اللہ کے لیے جنوں کو شریک قرار دیا حالانکہ اس نے انکو پیدا کیا ہے اور انہوں نے بلاعلم اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لیں ‘ اور وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے اللہ کے لیے جنوں کو شریک قرار دیا حالانکہ اس نے انکو پیدا کیا ہے اور انہوں نے بلاعلم اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لیں ‘ اور وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ (الانعام : ١٠٠) 

مشرکین کے اپنے شرکاء کے متعلق نظریات اور ان کے فرقے : 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ توحید پر پانچ دلیلیں قائم اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کے نظریات بیان فرما رہا ہے ‘ اور ان کے باطل نظریات کا رد فرما رہا ہے۔ 

حسن بصری وغیرہ نے کہا ہے کہ یہ آیت مشرکین عرب کے متعلق نازل ہوئی ہے اور جنوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنانے کا معنی یہ ہے کہ ہو جنوں کی اس طرح اطاعت کرتے ہیں جس طرح عزوجل کی اطاعت ہوتی ہے۔ قتادہ وغیرہ نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور کلبی نے کہا یہ آیت زندیقوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ اور ابلیس دو بھائی ہیں۔ اللہ انسانوں اور مویشیوں کا خالق ہے اور ابلیس جنات ‘ درندوں اور بچھوؤں کا خالق ہے اور اس قول کے قریب مجوس کا قول ہے جو کہتے ہیں کہ اس جہان کے دو بنانے والے ہیں۔ ایک خدا قدیم ہے اور دوسرا شیطان حادث ہے اور ان کا زعم یہ ہے کہ برائی کا پیدا کرنے والا حادث ہے۔ 

الجامع لاحکام القرآن جز ٧ ص ٤٩۔ ٤٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کے لیے شریک قرار دینے والوں کے حسب ذیل فرقے ہیں :

(١) بت پرست لوگ ہیں۔ یہ اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ بتوں کو کسی چیز کے پیدا کرنے پر قدرت نہیں ہے ‘ لیکن یہ بتوں کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کا شریک قراردیتے ہیں اور بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ 

(٢) بعض مشرکین یہ کہتے ہیں کہ اس عالم کے مدبر کواکب ہیں ‘ اور ان کے دو فرقے ہیں ایک فرقہ یہ کہتا ہے کہ کواکب واجبۃ الوجود لذواتھا ہیں اور ایک فرقہ یہ کہتا ہے کہ یہ ممکنۃ الوجود لذواتھا ہیں اور حادثہ ہیں اور ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ‘ مگر اللہ سبحانہ نے اس عالم اسفل کی تدبیر ان کی طرف سونپ دی ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان ہی سے مناظرہ کیا تھا ‘ جب کہا تھا ” لا احب الافلین “۔ 

(٣) بعض مشرکین یہ کہتے ہیں کہ اس جہان کے دو خدا ہیں۔ ایک برائی کا خالق ہے ‘ وہ اہرمن ہے اور ایک بھلائی کا خالق ہے ‘ وہ یزدان ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ آیت زندیقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ اور ابلیس دو بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انسانوں ‘ مویشیوں اور نیکیوں کا خالق ہے اور ابلیس درندوں ‘ سانپوں ‘ بچھوؤں اور برائیوں کا خالق ہے۔ حضرت نے جو مذہب بیان کیا ہے ‘ وہ مجوسیوں کا مذہب ہے جو یزدان اور اہرمن کے قائل ہیں۔ 

(٤) کفار یہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور وہ یہ کہتے تھے کہ جن سے مراد فرشتے ہیں ‘ کیونکہ جن کا معنی ہے چھپی ہوئی چیز اور فرشتے بھی آنکھوں سے چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ 

(٥) یہود حضرت عزیر کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٥‘ ص ٩٠۔ ٨٨ مختصر اوموضحا “ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

اللہ تعالیٰ کے لیے مولود نہ ہونے پر دلائل : 

اس آیت کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے انہوں نے بلاعلم اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لیں۔ وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے جو وہ بیان کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ سے اولاد کی نفی پر علماء اسلام نے حسب ذیل دلائل قائم کیے ہیں : 

(١) خدا اور معبود کا واجب لذاتہ ہونا ضروری ہے ‘ اگر خدا کے لیے بیٹے کو فرض کیا جائے تو وہ واجب لذاتہ ہوگا یا ممکن لذاتہ ہوگا ‘ اگر وہ واجب لذاتہ ہو تو اس کا مولود ہونا باطل ہے ‘ کیونکہ مولود والد سے متاخر اور اس کی طرف محتاج ہوتا ہے اور واجب لذاتہ کسی سے متاخر اور کسی کا محتاج نہیں ہوتا ‘ بلکہ مستغنی اور قدیم ہوتا ہے اور اگر وہ ممکن لذاتہ ہو تو پھر وہ اللہ کا بندہ اور اس کی مخلوق ہوگا اور مولود والد کا بندہ اور اس کی مخلوق نہیں ہوتا ‘ نیز مولود والد کی جنس سے ہوتا ہے اور ممکن ‘ محتاج اور حادث ‘ واجب مستغنی اور قدیم کی جنس سے نہیں ہے۔ 

(٢) مولود کی احتیاج اس لیے ہوتی ہے کہ والد کی موت کے بعد وہ اس کا قائم مقام ہو اور اس کے مشن کو آگے بڑھائے اور اللہ عزوجل پر موت کا آنا محال ہے ‘ اس لیے اس کا مولود بھی محال ہے۔ 

(٣) مولود والد کا جز ہوتا ہے اور جس کا کوئی جز ہو وہ مرکب ہوتا ہے اور مرکب حادث ہوتا ہے ‘ اس لیے اللہ کا مولود ہونا اس کے مرکب اور حادث ہونے کو مستلزم ہے اور اس کا مرکب اور حادث ہونا محال ہے ‘ اس لیے اس کا مولود بھی محال ہے۔ 

(٤) مولود والد کے مشابہ ہوتا ہے اور اللہ کے مشابہ کوئی چیز نہیں ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ کا مولود ہونا محال ہے۔ 

باقی رہا یہ امر کہ موجودہ عیسائی کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو باپ اور عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا مجازا کہتے ہیں ‘ باپ سے مراد رحیم اور شفیق ہے ؛۔ جسمانی لحاظ سے باپ مرد نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خصوصیت سے بیٹا کیوں کہتے ہو ؟ اور اس پر اصرار کیوں کرتے ہو ؟ ساری کائنات کو اللہ کا بیٹا کہو ‘ وہ سب پر شفیق اور رحیم ہے۔ اللہ تعالیٰ کو شفیق اور رحیم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو عزیز اور رحیم کیوں نہیں کہتے۔ جب کہ باپ اور بیٹا کے الفاظ جسمانی رشتہ کو ظاہر کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جناب سے صراحتا نقص ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متصور نہیں کہ وہ خدا کو باپ کہیں جو اس کے لیے نقص کا موجب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 100