أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً‌ ۚ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَىۡءٍ فَاَخۡرَجۡنَا مِنۡهُ خَضِرًا نُّخۡرِجُ مِنۡهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا‌ ۚ وَمِنَ النَّخۡلِ مِنۡ طَلۡعِهَا قِنۡوَانٌ دَانِيَةٌ وَّجَنّٰتٍ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّالزَّيۡتُوۡنَ وَالرُّمَّانَ مُشۡتَبِهًا وَّغَيۡرَ مُتَشَابِهٍ‌ ؕ اُنْظُرُوۡۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ وَيَنۡعِهٖ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكُمۡ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا۔ پھر اس سے ہر قسم کی نباتات اگائی ‘ پھر اس سے سرسبز کھیت اور درخت پیدا کیے ‘ پھر ان سے تہ بہ تہ لگے ہوئے دانے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے پیدا کیے جو جھکے پڑتے ہیں اور انگوروں اور زیتون اور انار کے باغ اگائے جو ملتے جلتے بھی ہیں اور مختلف بھی ہیں ‘ جب یہ درخت پھل لائیں تو ان کے پھل اور اس کے پکنے کی طرف دیکھو ‘ بیشک اس میں ایمان لانے والے لوگوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا۔ پھر اس سے ہر قسم کی نباتات اگائی ‘ پھر اس سے سرسبز کھیت اور درخت پیدا کیے ‘ پھر ان سے تہ بہ تہ لگے ہوئے دانے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے پیدا کیے جو جھکے پڑتے ہیں اور انگوروں اور زیتون اور انار کے باغ اگائے جو ملتے جلتے بھی ہیں اور مختلف بھی ہیں ‘ جب یہ درخت پھل لائیں تو ان کے پھل اور اس کے پکنے کی طرف دیکھو ‘ بیشک اس میں ایمان لانے والے لوگوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں۔ (الانعام : ٩٩) 

سابقہ آیات سے ارتباط : 

اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے زمین کی نشانیوں سے وجود باری تعالیٰ اور توحید پر استدلال کیا ‘ دوسری بار آسمان کی نشانیوں میں سے سورج اور چاند سے استدلال کیا ‘ پھر تیسری بار ستاروں سے استدلال کیا ‘ چوتھی بار نفس انسان سے استدلال کیا اور اب پانچویں بار آسمان سے نازل ہونے والی بارش سے استدلال کیا۔ اس آیت میں وجود باری اور اس کی توحید پر دلیل بھی ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بھی بیان ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ اولا آسمان سے پانی بادلوں کی طرف آتا ہے اور پھر بادلوں سے زمین پر پانی برستا ہے۔ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ دریاؤں اور سمندروں سے بخارات اوپر اٹھ جاتے ہیں اور بادل بن جاتے ہیں اور برسنے برستا ہے۔ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ دریاؤں اور سمندروں سے بخارات اوپر اٹھ جاتے ہیں اور بادل بن جاتے ہیں اور برسنے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا اس کا معنی ہے آسمان کی جانب سے پانی برسایا۔ 

کھجور کے فضائل اور اس کا مومن کی صفت پر مشتمل ہونا : 

اللہ نے اس آیت میں چار قسم کے درخت بیان فرمائے ہیں۔ کھجور ‘ انگور زیتوں اور انار اور درخت کے پھلوں سے پہلے کھیتوں کا ذکر فرمایا ‘ کیونکہ کھیتوں سے غذا حاصل ہوتی ہے اور درختوں کے پھلوں سے لذت حاصل ہوتی ہے اور غذا لذت سے اہم اور اس پر مقدم ہے ‘ اور کھجور کو باقی پھلوں پر مقدم کیا ‘ کیونکہ کھجور غذا کے قائم مقام ہے، خصوصا عربوں میں اور حکماء نے بیان کیا ہے کہ کھجور کی حیوان کے ساتھ کئی وجوہ سے مناسبت ہے اس کے متعلق حدیث میں ہے : 

امام احمد بن علی المثنی التمیمی المتوفی ٣٠٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کھجور کے درخت کی توقیر اور تعظیم کرو ‘ وہ تمہاری پھوپھی ہے ‘ کیونکہ وہ اس مٹی سے پیدا کی گئی ہے جس سے حضرت آدم پیدا کیے گئے تھے اس کے علاوہ اور کسی درخت کو گابھن نہیں کیا جاتا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بچہ جننے والی عورتوں کو تازہ کھجوریں کھلاؤ اور تازہ کھجوریں میسر نہ ہوں تو چھوارے کھلاؤ‘ اور اللہ کے نزدیک اس درخت سے زیادہ اور کوئی عزت والا درخت نہیں ہے ‘ جس کے نیچے مریم بنت عمران اتری تھیں۔ (مسند ابو یعلی ‘ موصلی ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٥٥‘ حلیۃ الاولیاء ‘ ج ٦‘ ص ١٣٣‘ کامل ابن عدی ‘ ج ٦‘ ص ٢٤٢٤‘ مجمع الزوائد ج ٥‘ ص ٨٩) 

اس حدیث کی سند منقطع ہے۔ عروہ بن رویم کی حضرت علی سے ملاقات نہیں ہے ‘ اس کے علاوہ اس کا ایک روای مسرور بن سعید ضعیف ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ مسلمان کی مثل ہے۔ مجھے بتاؤ‘ وہ کون سادرخت ہے ؟ لوگوں کا خیال جنگل کے درختوں کی طرف گیا ‘ حضرت عبداللہ نے کہا میرا ذہن کھجور کے درخت کی طرف گیا ‘ لیکن مجھے (بڑے لوگوں کے سامنے بولنے سے) شرم آئی۔ پھر لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! بتائیے ! وہ کون سا درخت ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے ‘ میں نے حضرت عمر (رض) سے اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا اگر تم اس وقت یہ بتا دیتے کہ یہ کھجور کا درخت ہے تو مجھے یہ فلاں فلاں چیز سے زیادہ محبوب ہوتا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٦٢۔ ٦١‘ صحیح مسلم ‘ منافقین ‘ ٦٣‘ (٢٨١١) ٦٩٦٥‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث : ١١٢٦١‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ١٢٣‘ ٦١‘ طبع قدیم) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور کے درخت کو مومن اور مسلم کے ساتھ اس لیے تشبیہ دی ہے کہ اس درخت میں خیر بہت زیادہ ہے ‘ اس کا سایہ دائمی ہے ‘ اس کا پھل میٹھا ہے اور یہ ہمیشہ کھایا جاتا ہے۔ تازہ بھی اور خشک بھی ‘ اس کے منافع بہت ہیں ‘ اس کے تنے کے شہتیر بناتے ہیں جو تعمیر کے کام آتے ہیں۔ اس کے پتوں سے رسی ‘ چٹائی ‘ ٹوپی اور پنکھے بنائے جاتے ہیں ‘ اس کی گٹھلی سے تسبیح بنتی ہے اور کئی قسم کے کام آتی ہے ‘ پھر یہ بہت حسین و جمیل درخت ہے۔ اسی طرح مومن میں بھی بہت خیر ہے۔ اس کا عبادت کرنا ‘ اچھے اخلاق سے پیش آیا ‘ عبادت میں توانائی حاصل کرنے کے لیے کھانا پینا ‘ آرام کرنا اور سونا۔ غرضیکہ حسن نیت سے اس کا ہر کام عبادت ہے ‘ اور اس میں اجر وثواب ہے۔ 

دوسری وجہ یہ ہے کہ مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا ہے اور درختوں میں کھجور کے درخت کی یہ صفت ہے کہ وہ آپ سے بہت محبت کرتا ہے حتی کہ کھجور کا ایک شہتیر جس سے ٹیک لگا کر آپ خطبہ دیتے تھے ‘ وہ آپ کے فراق سے چلا چلا کر رونے لگا ‘ مومن کی محبت کے متعلق یہ حدیث ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوگا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے اھل ‘ اس کے مال اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤ۔ ایک اور روایت میں ہے حتی کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد ‘ اس کے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٥‘ صحیح مسلم ‘ ایمان ٦٩ (٤٤) ١٦٧۔ ١٦٦‘ سنن النسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠١٣‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٦٧) 

اور آپ سے محبت کی بناء پر آپ کے فراق میں کھجور کے درخت کے رونے کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر (رض) عبداللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے۔ انصاری کی ایک خاتون نے کیا یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے لیے ایک منبر نہ بنا دوں ‘ ! آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو انہوں نے آپ کے لیے ایک منبر بنادیا ‘ پھر جب جمعہ کا دن آیا تو آپ منبر پر کھڑے ہوگئے تو وہ کھجور کا تنا بچہ کی طرح چیخ چیخ کر رونے لگا ‘ آپ نے اس کو اپنے ساتھ لپٹایا تو وہ بچہ کی طرح سسکیاں اور سبکیاں بھرنے لگا۔ حضرت جابر نے کہا وہ آپ کے ذکر کے فراق سے رو رہا تھا دوسری سند کے ساتھ حضرت جابر سے روایت ہے کہ مسجد نبوی کی چھت کھجور کے تنوں سے بنی ہوئی تھی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھجور کے ایک تنے کے ساتھ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے۔ جب آپ کے لیے منبر بنادیا گیا اور آپ اس پر بیٹھ گئے تو ہم نے اس تنے سے اس طرح رونے کی آواز سنی جس طرح اونٹنی اپنے بچوں کے فراق میں روتی ہے ‘ حتی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آکر اس پر اپنا ہاتھ رکھا تو پھر اس کو قرار آگیا۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٥٨٥‘ ٣٥٨٤‘ سنن الترمذی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٥‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٩‘ سنن النسائی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٩٥‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ ص ١٣٩‘ طبع قدیم ‘ مسند ابو یعلی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٦٧‘ دلائل النبوۃ لابی نعیم ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣١٠۔ ٣٠٢‘ المعجم الاوسط ‘ ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٢٠٧‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث :‘ ١١٧٩٧۔ ١١٧٩٦‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٢‘ ص ١٨١۔ ١٨٠) 

امام عبداللہ بن عبدالرحمن درامی سمرقندی متوفی ٢٥٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دیتے وقت طویل قیام کرتے ہوئے تھک جاتے تو ایک کھجور کے تنے کے سہارے کھڑے ہوجاتے۔ صحابہ میں سے کسی شخص نے کہا اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پسند کریں تو میں آپ کے لیے منبر بنا دوں جس پر بیٹھ کر آپ خطبہ دیں ‘ آپ نے فرمایا بنادو ‘ تو انہوں نے تین یا چار سیڑھیوں کا منبر بنادیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس میں آرام ملا ‘ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس تنے سے الگ ہوئے اور منبر پر بیٹھے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جدائی کی وجہ سے وہ تنا اونٹنی کی طرح چیخ چیخ کر رونے لگا ‘ جب آپ نے اس کے رونے کی آواز سنی تو آپ نے اس کے اوپر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا تم دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرلو ‘ اگر تم چاہو تو میں تم کو اسی جگہ رہنے دو اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں جنت میں لگا دوں تم جنت کی نہروں اور چشموں کے پانی سے سیراب ہو ‘ تمہارے پتے اور پھل خوبصورت ہوں اور اولیاء اللہ تمہارے پھلوں سے کھائیں۔ اس تنے نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ کہا جس کو آپ نے سنا اور فرمایا اس نے یہ اختیار کرلیا ہے کہ میں جنت میں اگا دوں۔ 

(سنن دارمی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢‘ المعجم الاوسط ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٧١‘ دلائل النبوۃ لابی نعیم ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣١٠) 

امام طبرانی اور امام ابو نعیم کی روایت میں ہے ‘ تمہارے پھلوں سے متقی اولیاء اللہ اور انبیاء ومرسلین کھائیں۔ 

کھجور ‘ انگور ‘ زیتون اور انار کے خواص : 

کھجور کا مزاج گرم خشک ہے ‘ اس کی اصلاح انار اور سکنجین سے ہوجاتی ہے۔ اس میں وٹامنز (حیاتین) اور تمام اہم معدنی نمکیات پائے جاتے ہیں ‘ اس کے استعمال سے خون کے سرخ ذرات میں اضافہ ہوتا ہے ‘ یہ کو یسٹرول کو متوازن رکھتی ہے ‘ مدینہ منورہ کی کھجور عجوہ خاص طور پر دل کے لیے مفید ہے ‘ یہ پیٹ کے کیڑے مارتی ہے اور پیشاب کھول کر لاتی ہے ‘ سو گرام کھجور میں ٢١٤ حرارے ‘ ٢ کرام پروٹین ‘ ٧٣ گرام نشاستہ ‘ ایک گرام چکنائی ‘ ٥ ء ٥ ملکی گرام کیلشیم ‘ ٩ ء ٢ گرام سوڈیم ‘ ٠ ء ٧٩ ملی گرام پوٹاشیم ‘ ٧٢ ملی گرام فاسفورس ‘ ٥ ء ٣ ملی گرام فولاد اور ٧ ملی گرام پھوک ہوتا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے کھجور کے بعد انگور کا زکر فرمایا ہے ‘ کیونکہ انگور تمام پھلوں میں افضل ہے ‘ کیونکہ یہ پھل بھی اول سے لے کر آکر تک نفع بخش ہے۔ اس سے سرکہ اور نبیذ بھی بنایا جاتا ہے۔ انگور دو قسم کے ہوتے ہیں ‘ ایک چھوٹا انگور ہوتا ہے ‘ یہ جب خشک ہوجائے تو اس کو کشمش کہتے ہیں ‘ اور بڑا انگور ٤ جب خشک ہوجائے تو اس کو منقی کہتے ہیں۔ انگور کا مزاج گرم تر ہے ‘ یہ زود ہضم اور کثیر الغذا ہے ‘ خون صالح بہ کثرت پیدا کرتا ہے اور بدن کو فربہ کرتا ہے ‘ سو گرام انگور میں ٦٩ حرارے ‘ ایک گرام پروٹین ‘ ١٦ گرام نشاستہ ‘ ایک گرام چکنائی ‘ ١٧ ملی گرام کیلشیم ‘ ٢١ ملی گرام فاسفورس ‘ ٦ ء ملی گرام فولاد ‘ ١٠٠ ملی گرام وٹامن اے ‘ ٠٧ ء ٠ ملی گرام وٹامن بی اور ٤٢ ملی گرام وٹامن سی ہوتا ہے۔ 

انگور کے بعد زیتون کا ذکر فرمایا ہے ‘ اس کا پھل سبز اور سیاہ رنگ کا ہوتا ہے۔ یہ فلسطین ‘ عرب ‘ ایران اور جنوبی یورپ میں پیدا ہوتا ہے ‘ زیتون کا ذکر فرمایا ہے ‘ اس کا پھل سبز اور سیاہ دو رنگ کا ہوتا ہے۔ یہ فلسطین ‘ عرب ‘ ایران اور جنوبی یورپ میں پیدا ہوتا ہے ‘ زیتون کا تیل بہت مفید ہے۔ سردی کے دردوں میں اس سے بدن کی مالش کی جاتی ہے ‘ یہ بدن کو غذائیت بخشتا ہے۔ اعصاب کو تقویت دیتا ہے ‘ بڑھاپے کے تمام عوارض میں مفید ہے ‘ جدید سائنسی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ روغن زیتون کو یسٹرول کو حل کرلیتا ہے۔ 

انار دو قسم کا ہوتا ہے۔ سرخ دانوں والا اور سفید دانوں والا۔ سرخ دانوں والے کا ذائقہ کٹھا مٹھا ہوتا ہے اور سفید دانوں والا شیریں ہے۔ اس کا مزاج سردتر ہے۔ اس میں غذائیت کم ہے ‘ خون صالح پیدا کرتا ہے۔ اس میں جراثیم کش خصوصیات بھی ہیں ‘ ١٠٠ گرام انار میں ٤٣ ملی گرام کیلشیم اور ٢٥ ملی گرام فاسفورس ‘ ٣ ء ٢ ملی گرام فولاد ‘ ٤٢٠ ملی گرام وٹامن اے ‘ ١٠٨ ملی گرام وٹامن بی اور ٣٨ ملی گرام وٹامن سی ہوتا ہے۔ 

پھلوں کی ابتدائی حالت اور انکے پکنے سے وجود باری پر استدلال : 

اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے ” جب یہ درخت پھل لائیں تو ان کے پھل اور اس کے پکنے کی طرف دیکھو ‘ بیشک اس میں ایمان لانے والے لوگوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں “۔ 

اس آیت کا یہی حصہ موضع استدلال ہے ‘ اور یہی اس آیت سے مقصود ہے ‘ کیونکہ پھل کے پکنے کے بعد اور اس کی ابتداء کی حالتیں ‘ شکل و صورت ‘ رنگ ‘ ذائقہ اور مزاج کے اعتبار سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ بعض پھلوں کا رنگ ابتداء میں سبز ہوتا ہے اور پکنے کے بعد سرخ یا زرد ہوجاتا ہے اور ابتداء میں ان کا ذائقہ ترش ہوتا ہے اور بعد میں شیریں ہوجاتا ہے اور ابتداء میں اس کی تاثیر سرد ہوتی ہے اور پکنے کے بعد گرم ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھلوں کی نشو و نما میں جو یہ تغیر ہوتا ہے اس کاموجد اور خالق کون ہے ؟ پھلوں کی طبیعت ‘ موسم ‘ ستارے اور افلاک تو انکے موجد نہیں ہوسکتے ‘ کیونکہ ان کی نسبت سب چیزوں کی طرف مساوی ہے اور جس کی نسبت سب کی طرف مساوی ہو ‘ اس سے بعض میں مثلا سرد اور بعض میں گرم ‘ تاثیرات صادر نہیں ہوسکتیں۔ نیز موسم ‘ ستارے اور افلاک تو خود ایک لگے بندھے نظام کے تابع ہیں ‘ ان سے یہ اثرات صادر نہیں ہوسکتے۔ معلوم ہوا کہ ان مختلف اور متضاد اثرات کا خالق وہی قادر وقیوم اور مدبر عالم ہے جو اپنی رحمت ‘ مصلحت ‘ حکمت ‘ علم اور قدرت سے اس ساری کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔ 

توڑے بغیر پکنے سے پہلے درخت پر لگے ہوئے پھلوں کی بیع کا عدم جواز : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہور صلاحیت سے پہلے پھلوں کے بیچنے سے منع فرمایا ‘ بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع فرمایا۔ ایک اور روایت میں ہے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا تاوقتیکہ وہ سرخ یا زرد نہ ہوجائیں اور سفید ہونے سے پہلے بالیوں کی بیع سے منع فرمایا ‘ تاوقتیکہ وہ آفات سے محفوظ نہ ہوجائیں۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٩٤‘ صحیح مسلم ‘ بیوع ‘ ٤٩‘ (١٥٣٤) ٣٧٨٨‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٦٨۔ ٣٣٦٧‘ سنن الترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٣٠‘ سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤٥٥١‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢١٧) 

فقہاء احناف کے نزدیک ظہور صلاحیت کا یہ معنی ہے کہ پھل اتنی مقدار کو پہنچ جائیں کہ وہ قدرتی آفات سے محفوظ ہوجائیں اور فقہاء شافعیہ کے نزدیک اس کا معنی پھلوں کا پک جانا اور اس میں مٹھاس کا آجانا ہے۔ (مبسوط ‘ ج ١٢‘ ص ١٩٦) 

باغوں میں پھلوں کی مروجہ بیع کے جواز کی صورتیں :

ہمارے زمانہ کے اکثر اسلامی شہروں میں باغات کے پھلوں کی بیع کا طریقہ یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھلوں کی بیع ہوتی ہے۔ پھلوں کو درختوں سے توڑ کر بیع نہیں کرتے اور بالعموم اس وقت بیع کی جاتی ہے جب پھلوں کا ظہور بھی نہیں ہوتا اور صرف ان کا بور ظاہر ہوتا ہے ‘ اور کبھی بور کے بھی ظہور سے پہلے بیع ہوجاتی ہے۔ ان احادیث کے پیش نظر بیع کی یہ مروجہ صورتیں باطل ہیں۔ ہمارے فقہاء نے اس کے حال کی چار صورتیں بیان کی ہیں : 

(١) علامہ سرخسی حنفی متوفی ٤٨٣ ھ نے بیان کیا کہ خریدار ظہور سے پہلے پھلوں کو خرید لے اور ایک مدت معینہ تک زمین کو کرائے پرلے لے ‘ پھر پھلوں کے اتارنے تک جو زمین سے افزائش اور روئیدگی حاصل ہوگی ‘ وہ کرایہ کا عوض اور اس کا جائز حق ہوگا۔ (المبسوط ‘ ج ١٢‘ ص ١٩٦‘ مطبوعہ دارالمعرفہ ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

(٢) اگر بعض پھلوں کے بور کا ظہور ہوگیا ہو اور بعض یا اکثر کا ظہورنہ ہوا ہو تو جن کا ظہور ہوگیا ہے ‘ ان کو اصل قرار دیا جائے، اور جن کا ظہور نہیں ہوا اور ان کا تابع قرار دیا جائے۔ یا امام مالک ‘ امام محمد بن حسن شیبانی ‘ امام حلوانی اور بعض دیگر فقہاء کے نزدیک جائز ہے ‘ اگرچہ ظاہر الروایہ کے خلاف ہے۔ (المبسوط ج ١٢ ص ١٩٧‘ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

(٣) درختوں پر جس قدر بھی بور یا پھل ہوں ان کو خریدار خرید لے ‘ اس کے بعد فصل تک جس قدر بھی پھل آئیں ان سب کو باغ کا مالک خریدار پر حلال کر دے۔ (المبسوط ‘ ج ١٢‘ ص ١٩٧‘ فتح القدیر ‘ ج ٥‘ ص ٤٩٢‘ مطبوعہ سکھر ‘ البحرالرائق ‘ ج ٥‘ ص ٣٠١‘ مطبوعہ مصر) 

یہ تین حل صرف اس صورت میں ہیں جب باغ کے درختوں میں سے کسی ایک پر بھی کم از کم بور لگ گیا ہو ‘ لیکن ہمارے ہاں اس وقت باغ کے پھلوں کی بیع ہوتی ہے جب باغ کے کسی ایک درخت پر بھی بور تک نہیں ہوتا۔ اس صورت میں صرف یہ حل ہے کہ اس بیع کو حکما بیع قرار دیا جائے ‘ اس لحاظ سے یہ بیع جائز ہوجائے گی۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

میں کہتا ہوں کہ ہمارے زمانہ میں ضرورت کا متحقق ہونا مخفی نہیں ہے۔ خاص طور پر دمشق میں جہاں پھلوں کے درخت بہت زیادہ ہیں اور چونکہ لوگوں پر جہالت کا غلبہ ہے ‘ اس لیے شرعی حال پر ان سے عمل کرانا عادۃ محال ہے۔ ہرچند کہ انفرادی طور پر بعض لوگوں سے عمل کرانا ممکن ہے ‘ لیکن دنیا کے تمام لوگوں سے اس پر عمل کرانا محال ہے اور لوگوں سے ان کی عادت چھڑانے میں بہت حرج ہے اور اس صورت میں جن شہروں میں صرف اس طرح پھلوں کی بیع ہوتی ہے ‘ ان کے لیے ان پھلوں کا کھانا حرام ہوجائے گا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیع سلم کی رخصت ضرورت کی بناء پر ہی دی ہے ‘ حالانکہ وہ بھی بیع المعدوم ہے۔ پس چونکہ یہاں بھی ضرورت متحقق ہے ‘ اس لیے اس بیع کو بیع سلم کے ساتھ ب بطریق دلالت لاحق کرنا ممکن ہے۔ سو اب یہ بیع اس حدیث کے مخالف نہیں ہے۔ ” کوئی شخص وہ چیز فروخت نہ کرے جو اس کے پاس نہیں ہے “۔ اس وجہ سے فقہاء نے اس بیع کو استحسانا جائز قرار دیا ہے ‘ ظاہرقیاس کے مطابق اس بیع کو ناجائز ہونا چاہیے۔ (ردالمختار ‘ ج ٤‘ ص ٥٣ مطبوعہ استنبول ‘ ج ٤‘ ص ٣٩۔ ٣٨‘ مطبوعہ بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 99