حدیث نمبر :567

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سوجانے میں کوتاہی(قصور)نہیں کوتاہی صرف بیداری میں ہے ۱؎ تو جب کوئی نمازبھول جائے یا اس سے غافل ہوکرسوجائے جب یاد آئے تو پڑھ لے چونکہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ میری یاد کے وقت نماز قائم کرو ۲؎ (مسلم)

شرح

۱؎ یعنی اگرنماز کے وقت اتفاقًا آنکھ نہ کھلے اورنمازقضاہوجائے تو گناہ نہیں۔گناہ اس میں ہے کہ انسان جاگتا رہے اور دانستہ نماز قضاءکردے۔خیال رہے کہ اگروقت پر آنکھ نہ کھلنا اپنی کوتاہی کی وجہ سے ہو تو گناہ ہے جیسے رات کو بلاوجہ دیرمیں سونا جس سے دن چڑھے آنکھ کھلے یقینًا جرم ہے۔

۲؎ یعنی جب میں یاد آؤں تونمازپڑھو اس آیت کی اور بہت تفسیریں ہیں۔بہت پیاری اورقوی تفسیر وہی ہے جو خود حضور فرمائیں۔خیال رہے کہ یہاں یہ نہ فرمایا کہ جب نمازیادآجائے توپڑھو بلکہ فرمایا جب میں یاد آؤں تو پڑھو،کہ معلوم ہوا کہ خداکویاد رکھنے والانمازنہیں بھول سکتااورنماز پابندی کرنے والا ان شاءاﷲ خدا سے غافل نہیں ہوسکتا۔اس آیت کی اور بہت سی تفسیریں ہماری تفسیر”نورالعرفان”میں دیکھو۔