گزشٹہ پوسٹ

بیعت و خلافت ۔ نیز فرماتے ہیں ۔

ایک روز اعلی حضرت قبلہ کسی خیال میں روتے روتے سو گئے اس لئے کہ قیلولہ ( دوپہر کو لیٹنا جو سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت ہے ) اس خاندان میں اب تک رائج ہے ۔ اعلی حضرت قبلہ بھی اس سنت پر مدۃ العمر عامل رہے ۔ خواب میں اعلیحضرت قبلہ کے دادا حضرت مولانا رضا علی خاں صاحب تشریف لائے اور فرمایا : وہ شخص عنقریب آنے والا ہے جو تمہارے اس درد کی دوا کرے گا ۔ چنانچہ اس واقعہ کے دوسرے یا تیسرے روز تاج الفحول حضرت مولانا عبد القادر صاحب بدایونی علیہ الرحمہ تشریف لائے، ان سے بیعت کے متعلق مشورہ ہوا اور یہ طے ہوا کہ جلد ہی مارہرہ شریف چل کر بیعت ہو جانا چاہئیے۔ چنانچہ یہیں سے یہ تینوں حضرات مارہرہ شریف کو چل پڑے ( اعلی حضرت اورانکے والد ماجد اور حضرت مولانا عبد القادر صاحب )جب حضرت مارہرہ شریف پہونچے اور آستانۂ عالیہ برکاتیہ پر حاضری ہوئی تو وہاں کے صاحب سجادہ حضرت سیدنا و مولانا آل رسول سے اعلی حضرت قبلہ اور انکے والد ماجد کی پہلی ملاقات ہوئی توانہو ں نے اعلی حضرت قبلہ کو دیکھتے ہی جو الفاظ فرمائے تھے وہ یہ تھے ۔ آئیے ہم تو کئی روز سے آپ کے انتظار میں تھے ۔ اعلی حضرت اور انکے والد ماجد بیعت ہوئے اور مرشد برحق نے تمام سلاسل کی اجازت عطا فرما کر تاج خلافت اعلی حضرت کے سر پر اپنے دست کرم سے رکھ دیا ۔ یوں یہ خلش جس کے لئے اعلی حضرت روتے تھے رب العزت نے نکال دی ۔ شریعت کی تعلیم و تربیت باپ سے ملی تھی اور طریقت کی تکمیل پیرو مرشد نے کرا دی ۔ اس وقت اعلی حضرت قدس سرہ شریعت و طریقت دونوں کے امام ہو گئے ۔

زندہ باد اعلی حضرت زندہ باد ۔

بعض مریدین نے جو اس وقت حاضرتھے حضرت سیدنا آل رسول قدس سرہ سے عرض کیا :کہ حضور اس بچے پر یہ کرم کہ مرید ہوتے ہی تمام سلاسل کی اجازت وخلافت عطاہوگئی نہ ضروری ریاضت کا حکم ہوا نہ چلہ کشی کرائی۔ اس کے جواب میں حضرت سیدنا آل رسول نے فرمایا کہ تم کیا جانو ،یہ بالکل تیار آئے تھے صرف نسبت کی ضرورت تھی تو یہاں آکر وہ ضرورت بھی پوری ہوگئی ۔یہ فرماکر آب دیدہ ہوگئے اور فرمایا :کہ رب العزت دریافت فرمائے گا کہ آل رسول تو دنیا سے ہمارے لئے کیا لایا تو میں احمد رضا کو پیش کروں گا ۔مارہرہ شریف ضلع ایٹہ میں ایک قصبہ ہے اور اس میں سادات کرام کا یہ خاندان بلگرام شریف سے آکر آبادہواہے یہ حسنی وحسینی سادات قادری نسل سے ہیں اور نسبت بھی قادری ہے اس خاندان میں بڑے بڑے اولیاء کرام ہوئے اعلی حضرت قبلہ کے مرشد سیدنا شاہ آل رسول انہیں میں سے ایک تھے۔ ان کا اپنے دور کے اولیاء کرام میں شمار تھا ۔علماء کرام بدایوں بھی اسی خاندان سے بیعت ہوئے اور علماء کرام بریلی کو بھی اسی دودمان پاک کی غلامی پر فخر ہے ۔( سیرت اعلیٰ حضرت)

مجدد وقت ۔

مولانا حسنین رضا خانصاحب لکھتے ہیں ۔

اعلی حضرت قبلہ کے فیضان مجددیت کا ظہور ۱۳۰۱ھ کے آغاز سے ہوا۔ یہ واقعہ ذرا تفصیل طلب ہے ،واقعہ یہ ہے کہ ہمارے چچا مولوی محمد شاہ خاں صاحب عرف نتھن خاں صاحب مرحوم سوداگری محلہ کے قدیمی باشندے تھے، اعلی حضرت سے عمر میں ایک سال بڑے تھے، بچپن ساتھ گذرا ہوش سنبھالا توایک ہی جگہ نشست وبرخاست رہی ۔ایسی حالت میں آپس میں بے تکلفی ہونا ہی تھی ۔ان کو اعلی حضرت قبلہ نتھن بھائی جان کہتے تھے اور ان کے ایک سال بڑے ہونے کا بڑا لحاظ فرماتے تھے یہ بھی اکثر سفر وحضر میں ساتھ ہی رہتے ،آدمی ذی علم تھے گھر کے خوش حال زمین دار تھے یہاں تک کہ ندوہ کے مقابلہ میں جب اعلی حضرت قبلہ نے بہار وکلکتہ کا سفر کیا تھا تو نتھن میاں بھی ساتھ رہے ۔میں نے اپنے ہوش سے انہیں اعلی حضرت قبلہ کی صحبت میں خاموش اور مؤدب ہی بیٹھے دیکھا۔ انہیں اگر مسئلہ دریافت کرنا ہوتا تو دوسروں کے ذریعہ سے دریافت کراتے ۔میں مدتوں سے یہ ہی دیکھ رہا تھا ،ایک روز میں نے چچا سے عرض کیا کہ اعلی حضرت تو آپکی بزرگی کا لحاظ کرتے ہیں آپ ان سے اس قدر کیوں جھجھکتے ہیں کہ مسئلہ خود نہیں دریافت کرتے ۔انہوں نے فرمایا :کہ ہم اور وہ بچپن سے ساتھ رہے، ہوش سنبھا لا تو نشست و برخاست ایک ہی جگہ ہوتی، نماز مغرب پڑھ کر ہمارا معمول تھا کہ ان کی نشست گاہ میں آبیٹھتے ۔سید محمود شاہ صاحب وغیرہ چند ایسے احباب تھے کہ وہ بھی اس صحبت کی روزانہ شرکت کرتے ۔عشاء تک مجلس گرم رہتی ،اس مجلس میں ہر قسم کی باتیں ہوتی تھیں، علمی مذاکرے ہوتے تھے، دینی مسائل پر گفتگو ہوتی اور تفریحی قصے بھی ہوتے ،جس دن محرم ۱۳۰۱ھ کا چاند ہوا ہے اس دن حسب معمول ہم سب بعد مغرب اعلی حضرت کی نشست گاہ میں آگئے ۔

اعلی حضرت خلاف معمول کسی قدر دیر سے پہونچے ،حسب معمول سلام علیک کے بعد تشریف رکھی اور لوگ بھی تھے ،مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ نتھن بھائی جان آج ۱۳۰۱ھ کا چاند ہوگیا ،میں نے عرض کیا: کہ میں نے بھی دیکھا ،بعض اور ساتھیوں نے چاند دیکھنا بیان کیا، اس پر فرمایا کہ بھائی صاحب یہ تو صدی بدل گئی۔ میں نے بھی عرض کیا صدی تو بیشک بدل گئی، خیال کیا تو واقعی اس چاند سے چودھویں صدی شروع ہوئی تھی۔ اس پر فرمایا کہ اب ہم آپ کو بھی بدل جانا چاہیئے ۔یہ فرماناتھا کہ ساری مجلس پر ایک سکوت طاری ہوگیا اور ہرشخص اپنی جگہ بیٹھا رہ گیا پھر کسی کو بولنے کی ہمت نہ ہوئی ،کچھ دیر سب خاموش بیٹھے رہے اور سلام علیک کرکے سب فردافردا چلنے لگے اس وقت تو کوئی بات سمجھ ہی میں نہ آئی کہ یکایک اس رعب چھانے کا سبب کیا ہوا دوسر ے روز بعد فجر جب سامنا ہوا اور ان کے مجددانہ رعب وجلال سے واسطہ پڑا تو یاد آیا کہ انہوں نے جو بدلنے کو فرمایا تھا تو وہ خدا کی قسم ایسے بدلے کہ کہیں سے کہیں پہنچ گئے اور ہم جہاں تھے وہیں رہے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن کہ ہمیں ان سے بات کرنے کی ہمت ہی نہ ہوئی ،بلکہ اس اہم تبدیلی پرہم نے تنہائی میں بارہا غور بھی کیا تو بجز اس کے کوئی بات سمجھ ہی میں نہ آئی کہ ان میں منجانب اللہ اس دن سے کوئی بڑی تبدیلی کردی گئی ہے جس نے انہیں بہت اونچا کردیاہے اور ہم جس سطح پر پہلے تھے وہیں اب ہیں ۔ہاں جب دنیا انہیں مجدد المأۃ الحاضرہ

کے نام سے پکارنے لگی تو سمجھ میں آیا کہ وہ تبدیلی یہ تھی جس نے ہمیں اتنے روز حیران ہی رکھا۔ یہ تھی وہ تاریخ جس میں انہیں موجودہ صدی کا مجدد بنایا گیا اور مجددیت کا منصب جلیل عطاہوا اور ساتھ ہی ساتھ وہ رعب عطاہوا جو اسی تاریخ سے محسوس ہونے لگا، باوجودیکہ ہمیں بے تکلفی کے لیل ونہار اب تک یاد ہیں مگر رعب حق برابر روزافزوں ہے جوان کے مدارج کی مزید ترقی کی دلیل ہے ۔( سیرت اعلیٰ حضرت)

ماہررضویات پروفیسر مسعود احمدصاحب لکھتے ہیں: ۔

محدث بریلوی نے پوری شدت اور قوت کے ساتھ بدعات کا استیصال کیا اور احیاء دین متین اور احیاء سنت کا اہم فریضہ اداکیا ،اسی لئے علماء عرب وعجم نے انکو مجدد کے لقب سے یاد کیا ۔

۱۳۱۸ھ /۱۹۰۰ء میں پٹنہ (بھارت) میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا جس میں پاک وہند کے سیکڑوں علماء جمع ہوئے ،اس جلسہ میں محدث بریلوی کو ان سے بزرگ علماء کی موجودگی میں مجدد کے لقب سے یاد کیا گیا ۔ اسی طرح علماء سندھ میں شیخ ہدایت اللہ بن محمود بن محمد سعید السندی البکری مہاجر مدنی نے محدث بریلوی کی عربی کتاب الدولۃ المکیہ پر تقریظ لکھی تو اس میں تحریر فرمایا:۔

مجددالمأۃ الحاضرۃ مؤید الملۃ الطاہرۃ ۔

علمائے عرب میں مندرجہ ذیل حضرات نے فاضل بریلوی کو مجدد کے لقب سے یاد کیا ہے ۔

سید اسمعیل بن خلیل محافظ کتب حرم مکۂ معظمہ ۔شیخ موسی علی شامی ازہری۔(محدث بریلوی۔ پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کراچی)