حدیث نمبر :572

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری امت بھلائی پریافرمایا فطرت پررہیگی ۱؎ جب تک مغرب کو تاروں کے گتھ جانے تک پیچھے نہ کریں ۲؎ (ابوداؤد)دارمی نے حضرت عباس سے روایت کی۔

شرح

۱؎ فطرت سے مراد اسلام ہے،یا سنت انبیاء،یا اسلام کی دائمی سنت۔

۲؎ اس سےمعلوم ہواکہ مغرب میں اتنی تاخیر مکروہ ہے جب تارے خوب چمک جائیں اور سارے تارے ظاہر ہوکرگھنے پڑ جائیں،جیسے روافض کی مغرب کا وقت۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ شفق سفیدی کا نام ہے نہ کہ سرخی کا،سفیدی میں وقت مغرب رہتا ہے کیو نکہ تاروں کا گتھنا اورگھنا پڑنا سرخی کے وقت نہیں ہوتا،سفیدی کے وقت ہوتا ہے اس وقت کوحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کا آخری وقت قرار دیا،اسے تاخیرمغرب فرمایا،قضاءنہ فرمایا۔اس سے معلوم ہواکہ ان شاءاﷲ اہل سنت خیر پر ہیں اور رہیں گے کیونکہ یہ مغرب جلدی پڑھتے ہیں۔