أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِتَّبِعۡ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌‌ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ۚ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ اس چیز کی پیروی کیجئے جس کی آپ کے رب کی جانب سے آپ کی طرف وحی کی گئی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، اور مشرکین سے اعراض کیجئے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ اس چیز کی پیروی کیجئے جس کی آپ کے رب کی جانب سے آپ کی طرف وحی کی گئی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، اور مشرکین سے اعراض کیجئے۔ (الانعام : ١٠٦) 

کفار کی دل آزار باتوں پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا : 

اس سے پہلی آیت میں یہ بتلایا تھا کہ کفار آپ پر یہ بہتان باندھتے ہیں کہ آپ نے کچھ علماء سے کچھ مضامین سیکھ لیے ہیں اور ان کو آپ الفاظ میں ڈھال کر پیش کردیتے ہیں اور پھر اس کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ اپنے رب کی نازل کی ہوئی وحی کی پیروی کیجئے تاکہ ان کی طعن آمیز باتوں سے آپ کی دعوت اور تبلیغ متاثر نہ ہو۔ اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ ان کے اس شک وشبہ اور طعن وتشنیع سے جو آپ کو حزن وملال ہوا ہے ‘ وہ زائل ہوجائے اور آپ کے دل کو تقویت حاصل ہو۔ پھر فرمایا اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ اس قول میں اس پر متنبہ کیا کہ آپ صرف اس کی اطاعت کیجئے اور جاہلوں کی جہالت کی وجہ سے اپنے مشن کو متاثر نہ ہونے دیں اور فرمایا مشرکین سے اعراض کیجئے۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے یہ آیت ‘ آیت قتال سے منسوخ ہے۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے ‘ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ ان سے مقابلہ نہ کریں ‘ بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی دل آزار باتوں سے اعراض کریں اور ان پر غم اور افسوس نہ کریں ‘ تاکہ آپ کی دعوت اور تبلیغ کا مشن متاثر نہ ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 106