جان کی اکسیر ہے الفت رسول اللہ کی

علامہ محمد بن حسن رضوی

اس وسیع کرہ ارض میں بیشمار ادیان و مذاہب موجود ہیں ۔اور ہر مذہب کے ماننے والے کا مطمحِ نظر اور مبلغ ِفکر صرف اور صرف دنیا کی عظیم کامیابیاں حاصل کرنا ہوتا ہے ہر انسان ایسی راہوں کو تلاش کرنے میں سرگرداںرہتاہے جس کے ذریعہ فوز وفلاح کی عظیم منزلیں حاصل ہوجائیں اور نصرت و فتح کے تمغے مل جائیں ایک انسان اپنے تئیں یہ سوچتا ہے کہ اسے کامیابیوں کا عظیم سرمایہ اپنے مذہب کے قوانین پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں مل سکتا ہے تمام تر خوبیاں مذہب کے دامن ہی میں مضمر ہوتی ہیں۔ پھر جب ہم دنیا کی نظر میں کامیابی اورکامرانی کا مفہوم معلوم کریں تو یہی کہا جاتا ہے کہ ایک انسان اگر فرش پر بیٹھ کر عرش کی خبریں دیگا تو وہ کامیابی کے نقطۂ انتہاء کو پہنچا ہواہے، ایک انسان سمندر کی موجوں کو چاک کرکے اپنے چلنے کا راستہ بنالے وہ کامرانی کے کمال کو پہنچا ہے، ماہ ونجوم ،آگ وباد کو مسخر کرلے سرفرازی کے درجۂ آخر کو پہنچا ہے، اور جب بغور دیکھا جائے تو یہ تمام خوبیا ں مذہب اسلام کے مقدس اولیائِ کرام کی ذوات پاک میں بدرجۂ اتم موجود تھیں ۔اور سارے مذاہبِ عالم سے اسلام کا چیلینج ہے کہ ان کا کوئی عالم ،ساحروجادوگر تو ہو سکتا ہے مگر روحانی طاقت کے ذریعہ سارے عالم میں حیرت انگیز انقلاب لانا صرف مذہب اسلام کے مقدس اولیاء کرام کی بدولت ہی ہوسکتا ہے ۔

تاریخ کے زرین ابواب اس امر کے شاہد ہیں کہ اولیاء اسلام سے ایسے محیر العقول افعال کا صدور ہوتا ہے ،جن کو دیکھ کر دنیا کی عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔ آئیے ہم یہ تلاش کریں کہ انکے ان کارناموں کے پیچھے کونسی طاقت کار فرماہے ۔

امام غزالی سے کسی نے پوچھا کہ ایک انسان ماورائی قوتوں کا مالک کیسے ہوجاتا ہے، ایسی عظیم کرامتیں ان سے کیسے صادر ہوتی ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ جس انسان کے دل میں رسول اعظم ﷺ کی محبت جاگزیں ہو جائے تو رب قدیر اسے ایسی طاقت و قوت عطا فرماتا ہے کہ وہ دنیا کی تمام تر کامیابیوں کو قدموں کی ٹھوکر سے سمیٹتا چلا جاتا ہے۔ لہٰذا پتہ چلا کہ محبت رسول ایک ایسا روشن چراغ ہے کہ جس نے اس کو اپنے دل میں روشن کیا اس کیلئے ساری دنیا روشن ہوجاتی ہے ہر تاریکی اور ظلمت کدہ اس کے سامنے بقعۂ نور بن جاتا ہے رب قدیر اس کے لئے اتنی آسانیاں فراہم کردیتا ہے کہ وہ ایک ٹھوکر سے قیصر و کسرٰی کو زمین بوس کردیتا ہے، عشقِ رسول ایک ایسا سمندر ہے جس کی تیز وتند موجیں دنیا کی ہر طاقت کو اپنے سینے میں بھینچ لیتی ہیں۔ غرض یہ کہ امت کے جلیل القدر اولیاء کرام کی عظیم کرامتوں کوجوکچھ ہم اپنی نگاہِ تصور سے دیکھتے ہیں، ان سب کے پیچھے عشق رسول کی عظیم طاقت پنہاں ہوتی ہے۔ دنیا کہتی ہے فلاں انسان اتنی عبادت و ریاضت کرتا تھا جس کی بناء پر وہ مقام ولایت پر فائز ہوگیا، فلاں انسان اس قدر صوم وصلوٰۃ کا پابند تھا کہ رب قدیر نے اسے ولایت سے سرفراز فرمایا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ولایت یا کوئی بھی کامیابی ہو وہ صرف عشق رسول ا ہی کی بدولت حاصل ہوتی ہے۔ محبت رسول ایک ایسی کسوٹی ہے جس پر مسلمان کو پرکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی کو ولایت اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک وہ رسول کائنات فخر موجودات ا سے حد درجہ محبت نہ کرلے ۔

چنانچہ دریائے دجلہ کے کنارے ایک بزرگ آئے ہوئے تھے جن کے مبارک چہرے سے نورانیت ٹپکتی تھی ،ریاضت وعبادت میں ہروقت مصروف رہتے تھے ۔جب آپ کو ان کے بارے میں اطلاع ہوئی تو آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کے ایک ولی سے شرف ملاقات کا شوق پیداہوگیا۔جب آپ دریائے دجلہ کے کنارے پہنچے پتہ چلا کہ کچھ ہی دیر پہلے وہ یہاں سے رخصت ہوچکے ہیں پھر ان کی جائے عبادت کو بغور دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں وہ اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا، لوگوں نے کہا حضور ہم نے اپنے ماتھے کی آنکھوں سے ان کو دیکھا ہے وہ یقینا اللہ کے ولی تھے ،آپ نے فرمایا میں اس وجہ سے کہہ رہاہوں کہ میرے آقاﷺ کی سنت یہ ہے کہ جب آپ سجدے میں جاتے تھے تو آپ کی انگلیا ں جمی ہوئی ہوتی تھیں ،مگر اس شخص کی انگلیوں کے نشانات اس ریت پر صاف نظر آرہے ہیں جوکہ مکمل کھلی اور کشادہ ہیں ۔ یقینا جو میرے آقاا کی سنت پر عمل نہ کرے وہ اللہ کا ولی ہوہی نہیں سکتا ۔

سبحان اللہ! حضور غوث اعظم کے پاس کیا ہی خوب کسوٹی تھی جس پر وہ ہر ولی کو پرکھتے تھے اسی طرح جتنے اولیاء کرام کی پاک زندگی کو ہم دیکھتے ہیں ،وہ تمام سرکارﷺ سے بے پناہ محبت و عقیدت اور جس شئی کو سرکارﷺ سے معمولی سی بھی نسبت ہو جاتی اس کی بھی حد درجہ تعظیم فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اور محبت رسول ﷺ کا حامل خدا وند قدوس کے نزدیک اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ اس کو رب قدیر سے کسی چیز کے طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ خود خدا اس سے پوچھتا ہے بندے بتا تیری رضا کیا ہے ؎

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی ذات مبارکہ میں بھی یہی خصوصیت تھی کہ آپ سرکار دو عالم اسے غایت درجہ محبت فرماتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ رب قدیر بھی آپ سے ایساسلوک فرماتاہے کہ جس کی ترجمانی اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ ان الفاظ میں کرتے ہیں ؎

قسمیں دے دے کہ کھلاتا ہے پلاتا ہے تجھے

پیارا اللہ تیرا چاہنے والا تیرا

اس جگہ میں ان مقدس ہستیوں پر کچھ خامہ فرسائی کرنا چاہتا ہوں جن کا لمحہ لمحہ عشقِ رسالت سے معمور تھا اور وہ ہر اس شئی سے کس قدر محبت فرمایا کرتے جس کو سرورِدوعالم اسے نسبت ہوجاتی۔ ان نفوس قدسیہ میں امام شافعی رضی اللہ عنہ کو بھی ایک عظیم درجہ حاصل ہے۔

امام شافعی رضی اللہ عنہ کا وہ عشق و محبت میں ڈوبا ہوا واقعہ جب نگاہوں کے سامنے آتا ہے تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں۔ یہ پیکر عشق ووفا محب صادق جب مدینہ منورہ کی باعظمت فضائوں میں آتا ہے تو اس کی کیفیت یکسر بدل جاتی ہے صرف مطمح نظر آقااکی جالیاں بصد کرب و اضطراب ، اشکوں سے پُر پیالیاں، نہ خود کا خیال نہ کسی کا ملال گویا کہ وہ اس کا مصداق ہوتا ہے ؎

ایسا گما دے ان کی ولا میں خدا مجھے

ڈھونڈھا کرے پر اپنے پر کو خبر نہ ہو

کبھی روضہ سے ممبر تک ، کبھی ممبر سے روضہ تک

ادھرجاؤںادھرجاؤں،اسی حالت میں مر جاؤں

امام شافعی رضی اللہ عنہ مدینہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے آپ کی نگاہ ایک بوسیدہ دیوار پر پڑی۔ جس کی حالت اس بات پر دلالت کررہی تھی کہ یہ کیٔ سال پرانی ہے آپ فوراً قریب ہوتے ہیں اس دیوار کو اپنی نگاہوں سے لگاکر مچل مچل کر بوسے لیتے ہیں ۔ ایک شخص یہ دیکھ کر کھڑا ہوگیا دامن پکڑ کر پوچھنے لگا اے امام شافعی ! یہ آپ کیا کررہے ہیں ؟ یہ اتنی خستہ دیوار جو ہر طرح سے بیکار ہوچکی ہے آپ اس کو آنکھوں سے لگا رہے ہیں، لبوں سے بوسہ لے رہے ہیں، کیا یہ حماقت و عدم شناسائی نہیں ؟امام شافعی جلال بھری نگاہوں سے دیکھ کر ارشاد فرمانے لگے: اے نادان! اس کی حقیقت اس کی عظمت کا معترف میں ہوں تو صرف وجہ یہ ہے کہ یہ میرے آقاﷺ کے زمانہ کی دیوار معلوم ہوتی ہے اور ہوسکتا ہے جب میرے آقاﷺ یہاں سے گزرے ہوں گے تو آپ کا دامن اس سے مس ہوگیا ہوگا۔برجستہ اس شخص نے یہ کہا اے محمد بن ادریس شافعی !کیا آپ سرکار کے متعلق اس طرح گمان رکھتے ہیں کہ آپ سڑکوں اور راستوں سے اتنے کنارے سے گزرتے تھے کہ آپ کا دامن اس سے مس ہوجاتا ہو جو کہ خلاف ادب ہے امام شافعی نے فرمایا : کوئی بات نہیں اتنی نسبت تو میرے آقاﷺ سے ہوسکتی ہے کہ رسول کائناتﷺ نے اس دیوار کو دیکھا ہو اور آپ کی نگاہِ رحمت اس پر پڑگئی ہو اور جس پر میرے آقاﷺکی نظر پڑی ہے۔ اسی پر میرے اشکوں کے موتیوں کی لڑی ہے،اور یہی میری زندگی کی عظیم کڑی ہے ۔ پھر اس شخص نے معترضانہ انداز میں کہا اچھا مگر اس بات سے بھی تو آپ بخوبی واقف ہیں کہ جب آقائے کائنات ﷺ کسی راہ سے گزرتے تو دائیں بائیں نگاہیں نہ دوڑاتے بلکہ آپ کا وصف تو یہ تھا کہ ؎

نیچی نظروں کی شرم وحیاء پر درود

اونچی بینی کی رفعت پہ لاکھوں سلام

یہ سوال ہی نہیں ہوتا کہ آپ ادھرادھر دیکھتے ہوئے اس دیوار کو دیکھے ہوں۔ اب بھی امام شافعی کا عشق جواب دے رہا تھا فورا ًکہتے ہیں سنو میرے دل میں محبّت رسولﷺ کمالِ انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے ۔اور میں نے جو، دو نسبتیں بتائی اس کو تم نے قطع کردیا لیکن سنومیں اس وجہ سے اس دیوار کا بوسہ لے رہاہوں کہ کم از کم اس دیوار نے تو میرے آقاﷺ کو دیکھا ہوگا اور مجھے یہ نسبت کافی ہے ۔اللہ اکبر ! میں قارئین کے ذہن و فکر کو باور کرانا چاہتا ہوں کہ انسان حبِّ رسول میں فناء ہونے کے بعد، دنیا کے نظریات سے بالکل وراء ہو جاتا ہے۔ یہ ہمارے اسلاف کرام کی مقدس زندگیوں میں تعظیم رسولﷺ کی ایک جھلک ہے ۔اور اس بات کا بھی یقین ہونا چاہیئے کہ جس کے دل میں عشق رسولﷺ کا چراغ روشن ہو اس کو ہر طرف سرکار کا نور ہی نور نظر آتا ہے ۔دنیا کی کسی بھی شئی کو وہ دیکھے تو پکار اٹھتا ہے کہ اس میں میرے آقااکی جھلک مجھے نظر آرہی ہے ۔دور کی بات نہیں ماضی قریب میں ایک عاشق صادق،محب رسولﷺ ،امام عشق ومحبت سیدنا اعلیٰحضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کو کسی معتقد نے ایک خوبصورت گلاب بطور تحفہ پیش کیا تو آقا ئے نعمت مجدد دین و ملت نے بغور اس کو دیکھا پھر فرمایا :’’ یہ دنیا کا گلاب صبح کھلتا ہے تو شام میں مرجھا جاتا ہے ۔میں ایسے عارضی جمال کو محبوب نہیں رکھتا مگر میرے مدینہ کا گلاب جب سے کھلا ہے، نہ وہ پژمردہ ہوا ہے ،نہ اس کے مرجھانے کی کوئی صورت آسکتی ہے ‘‘ اللہ اکبر ! کیا کمال درجہ کے عاشقِ رسول ا تھے اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ، یہی وجہ ہے کہ آپ نے ایک گلاب کو دیکھا تو آپ کو اس گلاب میں اپنے آقاا کا جمال نظر آنے لگا پھر بر جستہ پکار اٹھے :

سرتا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول

لب پھول دہن پھول ذقن پھول بدن پھول

واللہ جو مل جائے میرے گل کا پسینہ

مانگے نہ کبھی عطر نہ پھر چاہے دلہن پھول

اسی طرح ایک اور عاشق صادق سیدنا جنید بغدادی رضی اللہ عنہ کا بھی یہی حال تھا ۔آپ فنا فی اللہ وفنا فی الرسول تھے ۔آپ کی محبت رسول کا یہ عالم تھا کہ آپ کا جگر عشقِ رسالت میں جل کر سیاہ ہوچکا تھا، اسی اثنا میں بغداد معلیٰ میں یہ افواہ عام تھی کہ ایک ایسا باکمال مصور بغداد میں آیا ہے ،جو تصویر کشی میں اس قدر مہارتِ تامہ رکھتا ہے کہ اس کے پاس کوئی جاکر کسی شخص کا حلیہ بتادے تو وہ ہُوبہُو ویسی ہی تصویر کھینچ کر دے دیگا ۔جب یہ خبر مشہور ہوئی تو دنیا کے عاشقین کی ایک بھیڑ مصور کے مکان پر جمع ہوگئی ۔ہر ایک اپنے اپنے محبوب کا حلیہ بتا تا اور اس کا خد وخال بیان کرتا مُصوّر بعینہٖ اس محبوب یا معشوق کی تصویر بنادیتا سیدنا جنید بغدادی کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو آپ فوراً اس کے مکان کی طرف رخ کرتے ہیں آپ بھی قطار میں شامل ہوجاتے ہیں ۔جب آپکی باری آئی مُصوّر نے آپ کودیکھا اور حیرت واستعجاب میں انگشت بدنداں رہ گیا۔ کہنے لگا:اے جنید!آپ تو سید الطائفہ کہلائے جاتے ہو۔ آپ ولیوں کے سردار ہو پھر آپ ایک دنیا دار کی چوکھٹ پر کس محبوب کی تصویر بنوانے آئے ہو ۔آپ نے جواب دیا میرا بھی ایک محبوب ہے ۔ اور وہ محبوب میرے آقا تاجدار کائنات فخر موجودات ﷺ ہیں۔ میں تم کو اپنے محبوب کا حلیہ بتا تا ہوں میرے آقا اکا چہرہ چاند کے مانند تھا میرے آقا اکی زلفیں سیاہ رات کی طرح تھیں ۔ آپ کے دستہائے مبارکہ ایسے تھے ۔جب آپ نے سرکار دوعالم ﷺ کا پورا حلیہ بیان فرمادیا ۔مصور بر جستہ پکار اٹھا۔اے جنید بغدادی !جس کا تم حلیہ بیان کررہے ہو وہ تصویر میرے پاس بنی بنائی رکھی ہے ۔میں ابھی تمہیں بتاتا ہوں۔ وہ گھر کے اندر گیا اور پورا قرآن مجید لاکر جنید بغدادی کے پاس حاضر کردیا ۔آپ نے پوچھا یہ کیا ہے ۔ کہا یہی تو آپ کے آقا ﷺ کی تصویر ہے ۔ ’’کان خلقہ القرآن‘‘آپ کے محبوب کا چہرہ جس کو رب قدیر نے فرمایا ۔ ’’والضحیٰ‘‘ آپ کے محبوب کی سیاہ زلفوں کو رب قدیر نے فرمایا : ’’واللیل اذا سجیٰ ‘‘آپ کی آنکھیں ’’ما زاغ البصر وماطغیٰ‘‘ آپ کی گفتار :’’ وماینطق عن الھویٰ‘‘آپ کے دستہائے مبارکہ ’’وما رمیت اذرمیت‘‘آپ کے قد مہائے ناز :’’لا اقسم بھذاالبلدو انت حل بھذا البلد‘‘ غرضیکہ رب قدیر نے آپ کے محبوب کے ہر ہر عضو کی قرآن مجید میں بہترین عکاسی فرمائی ہے یہ محبتِ رسول ﷺ اور عشق رسولﷺ کا ثمرہ تھا کہ آپ نے پورے قرآن کو سرکار کی تصویر میں بدل دیا اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں ،جن سے عشق رسولﷺ کی جھلک نظر آتی ہے۔ اور اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو رسولﷺ سے محبت کرے اسے جنت نعیم عطا کیا جائیگا اور وہ دنیا و عقبیٰ میں کامیابیوں اور کامرانیوں کی شاہراہ پر گامزن رہے گا۔نیز ہر بیماری کا علاج عشق رسول ا سے ہی حاصل ہوسکتا ہے:

جان ہے عشق مصطفیٰ روز فزوں کرے خدا

جس کو ہو درد کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوں