دنیا میں برائی کی تین علامات

فرعونیت، قارونیت اور یزیدیت

فرعون !

اللہ اور اس کے رسول کاسیاسی ،مذہبی باغی تھا ،اور عہدے کے تکبر میں مبتلا تھا۔

آج فرعونیت!

فرعون نما آج بھی دنیا میں بہت سے عہدوں کے تکبر میں مبتلا ہیں۔

نتیجہ! فرعون کی طرح غرق ہی ہونا ہے

قارون !

اللہ اور اس کے رسول کا معاشی،مذہبی باغی تھا،دولت کے تکبر میں مبتلا تھا، زکوۃ ادا نہیں کرتا تھا۔

فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ تو اُنہوں نے زمین میں تکبر کیا۔

نتیجہ! اپنے خزانوں کے ساتھ ہی غرق ہوا،زمین میں دھنسا دیا گیا۔

آج قارونیت، پاکستان میں جگہ جگہ نظر آتی ہے۔

یزید !

سیاسی، مذہبی، معاشی باغی تھا۔

اہل بیت رسول،بیت اللہ ،مدینۃ الرسولﷺ ہر ایک پر ،ہر جگہ ظلم ڈھائے۔

نتیجہ! کچھ ہی عرصے میں نہ عہدہ رہا نہ خود،بے نشان ہوا قبر تک معلوم نہیں،قیامت تک لعنت کا مستحق ٹھہرا۔

یزیدیت،ہمارے حکمرانوں ،اور وزراءسے بھی بہت سے یزید نما نظر آتے ہیں۔

اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایا

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ۪-وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِۗ-اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ(۷۶)

بےشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا ، پھر اس نے ان پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دئیے جن کی کنجیاں ایک زور آور جماعت پر بھاری تھیں جب اُس سے اس کی قوم نے کہا اِترا(تکبر نہ کر) نہیں ، بےشک اللہ اِترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔۔۔۔۔

تحریر :۔ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی