💎 أبو عبد الله يونس بن عبيد بن دينار العبدي، رحمة الله عليه ، پہلی صدی ہجری کے ثقہ حُفاظ حديث میں سے ہیں وفات 139 هـ یا 140 ھ میں ہوئی ۔

📒 سير أعلام النبلاء میں آپ کا ایک ارشاد منقول ہے

🔸 خصلتان إذا صلحتا من العبد

صَلُحَ ما سواهما: صلاتُه ، ولسانه.

👈 دو خصلتیں بندے کی درست ہو جائیں تو باقی سب کچھ صالح اور درست ہو جاتا ہے

🌹اس کی نماز

🌹اس کی زبان

✍🏼 آپ بھی اپنی ان دو کا خیال دھیان فرمائیں ، زندگی آسان اور سنوری ہوئی ہو جائے گی

فقیر خالد محمود مزید عرض گذار ہے کہ ذرا یہ دھیان رکھنا ہے کہ حضرت عليه الرحمة نے صالحیت کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں ۔ ان دونوں میں صالحیت ، صلاحیت ہوگی تو اپنی شخصیت میں یہ خوبی ضرور آئے گی ۔

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد بھی یاد آیا

🕋 وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ( سورة العنكبوت 45)

🌿 اور نماز قائم رکھو ، یقینی بات ہے کہ نماز فحاشی اور منکر سے روک دیتی ہے اور پکی بات کہ اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو

🔎 اگر کوئی صرف فحاشی اور منکر سے اپنا دامن بچائے ہوئے ہو اور کوئی خوبی نہ بھی ہو تو وہ معاشرے میں انتہائی محترم ، سربرآوردہ ، مقبول و محبوب ہوتا ہے اور جب نماز جیسی عبادت کے ثمرات ، صالحیت زبان جیسی دل موہ لینے والی خوبیاں بھی شخصیت کا لازمہ ہوں تو ایسی شخصیت لازما ایک مکمل ترین ، قابل رشک و تقلید ہوتی ہے اور قبول عام نصیب رہنے کا پیش خیمہ ۔