حدیث نمبر :574

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس نماز کو دیرسے پڑھاکروکیونکہ تم کو اس کی وجہ سے ساری امتوں پر بزرگی دی گئی کہ تم سے پہلے یہ نماز کسی امت نے نہ پڑھی ۱؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی چونکہ نمازعشاءتم ہی کو ملی ہے اس لئے اسے دیر میں پڑھاکرو تاکہ تمہیں انتظارِ نماز کا ثواب ملے اور اس کے بعد زیادہ باتوں کا وقت نہ رہے فورًا سوجایاکرو۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور کی امت ساری امتوں سے افضل ہے۔اس فضیلت کی بہت سی وجوہ ہیں:جن میں سے ایک عشاء کا ملنا بھی ہے۔خیال رہے کہ نمازعشاء ہم سے پہلے کسی امت پر فرض نہ تھی،ہاں بعض نبی بطور نفل اسے پڑھتے رہے ہیں،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جس میں جبریل نے عرض کیا تھاکہ یہ اوقات آپ کے اور آپ سے پہلے انبیاء کی نمازوں کے وقت ہیں اور نہ اس روایت کے خلاف ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے وادی سینا سے آکر اپنی بیوی”صفوراء”کو بخیریت پاکرنمازعشاءپڑھی۔