فجرروشنی میں پڑھو کیونکہ اس کا ثواب بڑا ہے

حدیث نمبر :576

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں فرمایارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجرروشنی میں پڑھوکیونکہ اس کا ثواب بڑا ہے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد،دارمی)۲؎ اورنسائی کے نزدیک یہ نہیں ہے کہ اس کا ثواب بڑا ہے۔

شرح

۱؎ یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ فجر اجیالے میں پڑھنی چاہیئے۔خیال رہے کہ تاریکی میں فجر پڑھنے کی عملی حدیثیں تو ہیں مگرقولی حدیث کوئی نہیں۔ان احادیث میں احتمال ہے کہ شایدمسجد کی تاریکی ہوتی ہو نہ کہ وقت کی مگر اس حدیث میں کوئی تاویل نہیں ہوسکتی،اسی لئےصحابہ کرام فجراجیالے میں پڑھتے تھے،جیسا کہ بہت احادیث سے ثابت ہے۔ہم نے وہ احادیث اپنی کتاب "جاء الحق”حصہ دوم میں جمع کی ہیں۔اس حدیث کی تائیددوچیزوں سے ہوتی ہے:ایک یہ کہ مسلم،بخاری نے سیدنا ابن مسعودسے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں فجرکی نماز روزانہ کے وقت سے پہلے پڑھی تو اگرحضور روز پوپھٹتے ہی فجر پڑھتے ہوتے تو آج مزدلفہ میں کس وقت پڑھی؟کیا وقت شروع ہونے سے پہلے پڑھ لی؟ لہذا اس حدیث کا یہی مطلب ہوگا کہ روزانہ اجالے میں پڑھتے تھے آج اندھیرے میں پڑھی،یہی حنفیوں کا مذہب ہے۔دوسرے یہ کہ نمازفجربہت چیزوں میں نمازمغرب کے حکم میں ہے،مغرب میں اجالا سنت ہے تو یہاں بھی اجالا ہی چاہئے،ہاں وہاں اجالا اول وقت ہوتا ہے،فجر میں آخر وقت۔اس کی پوری بحث "جاء الحق”میں دیکھو۔

۲؎ ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے،نیز یہ حدیث ابن ماجہ،بیہقی،ابوداؤد،طیالسی اورطبرانی میں بھی ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.