وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ وَلِيَقُوۡلُوۡا دَرَسۡتَ وَلِنُبَيِّنَهٗ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 105

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ وَلِيَقُوۡلُوۡا دَرَسۡتَ وَلِنُبَيِّنَهٗ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

ہم بار بار مختلف انداز سے آیتوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ یہ لوگ کہیں کہ آپ نے (کسی سے) پڑھا ہے، اور تاکہ ہم اس قرآن کو علم والوں کے لیے بیان کردیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم بار بار مختلف انداز سے آیتوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ یہ لوگ کہیں کہ آپ نے (کسی سے) پڑھا ہے، اور تاکہ ہم اس قرآن کو علم والوں کے لیے بیان کردیں۔ (الانعام : ١٠٥) 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر کفار کا شبہ : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ منکرین رسالت کا ایک شبہ بیان فرما رہا ہے۔ اس کی تمہید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک آیت کر کے قرآن نازل فرماتا ہے اور ایک معنی کو مختلف اسالیب سے بیان فرماتا ہے ‘ تاکہ اہل علم پر اللہ تعالیٰ کی مراد منکشف ہوجائے اور ان کے ذہنوں میں وہ معنی مستقر ہوجائے ‘ لیکن کفار کو اس سے یہ شبہ ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علماء سے مذاکرہ اور مباحثہ کرتے ہیں۔ پھر اس بحث وتمحیص سے جو کچھ حاصل ہوتا ہے ‘ اس کو مختلف فقروں اور جملوں میں ڈھالتے ہیں۔ پھر اس کو یاد کرکے ہمارے سامنے پڑھتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ آپ پر وحی نازل ہوئی ہے ‘ حالانکہ یہ سب آپ کا لوگوں سے پڑھا ہوا اور حاصل کیا ہوا ہے۔ ورنہ اگر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ آپ پر وحی نازل ہوئی ہے ‘ حالانکہ یہ سب آپ کا لوگوں سے پڑھا ہوا اور حاصل کیا ہوا ہے ورنہ اگر یہ اللہ کا نازل کیا ہوا کلام ہوتا تو ایک ایک جملہ کی شکل میں کیوں ہوتا ؟ یک بارگی پوری کتاب نازل ہوتی۔ کفار کے اس شبہ کا بیان اللہ تعالیٰ نے اور بھی کئی آیات میں کیا ہے۔ :

(آیت) ” وقال الذین کفروا ان ھذا الا افک افترہ واعانہ علیہ قوم اخرون فقد جآء وا ظلما وزورا، وقالوا اساطیرا لاولین اکتتبنھا فھی تملی علیہ بکرۃ واصیلا “۔ (الفرقان : ٥۔ ٤) 

ترجمہ : اور کافروں نے کہا یہ (قرآن) صرف بہتان ہے ‘ جس کو اس رسول نے گھڑ لیا ہے اور اس کام پر دوسرے لوگوں نے ان کی مدد کی ہے (یہ کہہ کر) انہوں نے بہت بڑا ظلم کیا اور انہوں نے کہا یہ پہلے لوگوں کے (جھوٹے) قصے ہیں جو اس (رسول) نے لکھوا لیے ہیں۔ سو وہ صبح شام ان پر پڑھے جاتے ہیں۔ 

(آیت) ” ولقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی وھذا لسان عربی مبین “۔ (النحل : ١٠٣) 

ترجمہ : اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ قرآن ایک آدمی سکھاتا ہے ‘ حالانکہ جس کی طرف یہ (سکھانے کی) جھوٹی نسبت کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ قرآن نہایت روشن عربی ہے۔ 

ان کے اس شبہ کا قرآن مجید نے متعدد بار جواب دیا ہے کہ اگر تمہارے زعم میں یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہے اور کسی انسان کا بنایا ہوا یا سکھایا ہوا کلام ہے ‘ تو اس کی کسی چھوٹی سورت کی ہی مثال بنا کرلے آؤ‘ لیکن ان میں سے کوئی بھی اس کی کسی ایک سورت کی بھی نظیر نہیں لاسکا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 105

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.