أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشۡرَكُوۡا ‌ؕ وَمَا جَعَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا‌ ۚ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَكِيۡلٍ ۞

ترجمہ:

اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے، اور ہم نے آپ کو ان کا نگہبان نہیں بنایا، اور نہ آپ انکے ذمہ دار ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے، اور ہم نے آپ کو ان کا نگہبان نہیں بنایا، اور نہ آپ انکے ذمہ دار ہیں۔ (الانعام : ١٠٧) 

اس آیت کا تعلق بھی اسی سابق طعن سے ہے مشرکین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تھا کہ آپ نے علماء سے مذاکرات کر کے یہ قرآن بنا لیا ہے تو گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ انکی ان جاہلانہ اور معاندانہ باتوں کی طرف توجہ نہ کریں اور ان کا کفر آپ پر بوجھ نہ بنے ‘ کیونکہ اگر میں ان سے کفر زائل کرنے کا ارادہ کرتا تو میں اس پر قادر تھا ‘ لیکن میں نے باوجود قدرت کے ‘ ان کو ان کے کفر پر چھوڑ دیا تو آپ بھی انکی طعن آمیز باتوں سے اپنے دل پر اثر نہ لیں ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کلام کو موکد کرنے کے لیے فرمایا کہ آپ ان کے کفر کی وجہ سے کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ اگر انہوں نے آپ کے پیغام کو قبول کرلیا تو اس کا نفع ان کو ہوگا اور اگر آپ کے پیغام کو قبول نہیں کیا تو اس کا ضرر بھی صرف ان کو ہوگا اور آپ کے منصب رسالت پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 107