یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِؕ-وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْاؕ-وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُؕ-مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۶)

اے ایمان والو جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو (ف۲۸) تو اپنے منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ (ف۲۹) اور سروں کا مسح کرو (ف۳۰) اور گٹوں تک پاؤں دھوؤ (ف۳۱) اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہو لو (ف۳۲) اور اگر تم بیمار ہویا سفر میں ہو یا تم میں کوئی قضائے حاجت سے آیا یا تم نے عورتوں سے صحبت کی اور ان صورتوںمیں پانی نہ پایا تو پاک مٹی سے تیمّم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے ہاں یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب ستھرا کردے اور اپنی نعمت تم پر پوری کردے کہ کہیں تم احسان مانو

(ف28)

اور تم بے وضو ہو تو تم پر وضو فرض ہے اور فرائض وضو کے یہ چار ہیں جو آگے بیان کئے جاتے ہیں ۔

فائدہ : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ہر نماز کے لئے تازہ وضو کے عادی تھے اگرچہ ایک وضو سے بھی بہت سی نمازیں فرائض و نوافل درست ہیں مگر ہر نماز کے لئے جُداگانہ وضو کرنا زیادہ برکت و ثواب کا موجِب ہے ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ ابتدائے اسلام میں ہر نماز کے لئے جُداگانہ وضو فرض تھا بعد میں منسوخ کیا گیا اور جب تک حَدَث واقع نہ ہو ایک ہی وضو سے فرائض و نوافل سب کا ادا کرنا جائز ہوا ۔

(ف29)

کہنیاں بھی دھونے کے حکم میں داخل ہیں جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے ، جمہور اسی پر ہیں ۔

(ف30)

چوتھائی سر کا مسح فرض ہے یہ مقدار حدیثِ مغیرہ سے ثابت ہے اور یہ حدیث آیت کا بیان ہے ۔

(ف31)

یہ وضو کا چوتھا فرض ہے ، حدیث صحیح میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو پاؤں پر مسح کرتے دیکھا تو منع فرمایا اور عطا سے مروی ہے وہ بہ قسم فرماتے ہیں کہ میرے علم میں اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی نے بھی وضو میں پاؤں پر مسح نہ کیا ۔

(ف32)

مسئلہ : جنابت سے طہارتِ کاملہ لازم ہوتی ہے ، جنابت کبھی بیداری میں دفق و شہوت کے ساتھ اِنزال سے ہوتی ہے اور کبھی نیند میں احتلام سے جس کے بعد اثر پایا جائے حتی کہ اگر خواب یاد آیا مگر تری نہ پائی تو غسل واجب نہ ہو گا اور کبھی سبیلین میں سے کسی میں ادخالِ حشفہ سے فاعل و مفعول دونوں کے حق میں خواہ اِنزال ہو یا نہ ہو ، یہ تمام صورتیں جنابت میں داخل ہیان سے غسل واجب ہو جاتا ہے ۔

مسئلہ : حیض و نفاس سے بھی غسل لازم ہوتا ہے ، حیض کا مسئلہ سورۂ بقرہ میں گزر گیا اور نفاس کا موجِبِ غسل ہونا اِجماع سے ثابت ہے ۔ تیمّم کا بیان سورۂ نساء میں گزر چکا ۔

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤۙ-اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا٘-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(۷)

اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر (ف۳۳) اور وہ عہد جو اس نے تم سے لیا(ف۳۴)جب کہ تم نے کہا ہم نے سنا اور مانا(ف۳۵) اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے

(ف33)

کہ تمہیں مسلمان کیا ۔

(ف34)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے وقت شبِ عقبہ اور بیعتِ رضوان میں ۔

(ف35)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حکم ہر حال میں ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ٘-وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْاؕ-اِعْدِلُوْا- هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى٘-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۸)

اے ایمان والو اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے (ف۳۶)اور تم کو کسی قوم کی عداوت(دشمنی) اس پر نہ ابھارے کہ انصاف نہ کرو انصاف کرو وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے

(ف36)

اس طرح کی قرابت و عداوت کا کوئی اثر تمہیں عدل سے نہ ہٹا سکے ۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۹)

ایمان والے نیکوکاروں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اُن کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ(۱۰)

اور وہ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہی دوزخ والے ہیں(ف۳۷)

(ف37)

یہ آیت نصِّ قاطع ہے اس پر کہ خلودِ نار سوائے کُفّار کے اور کسی کے لئے نہیں ۔ (خازن)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠(۱۱)

اے ایمان والو اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب ایک قوم نے چاہا کہ تم پر دست درازی کریں تو اُس نے ان کے ہاتھ تم پر سے روک دئیے (ف۳۸)اور اللہ سے ڈرو اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے

(ف38)

شانِ نُزول : ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منزل میں قیام فرمایا ، اصحاب جُدا جُدا درختوں کے سائے میں آرام کرنے لگے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ایک درخت میں لٹکا دی ، ایک اعرابی موقع پا کر آیا اور چُھپ کر اس نے تلوار لی اور تلوار کھینچ کر حضور سے کہنے لگا اے محمّد تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ حضور نے فرمایا اللہ ، یہ فرمانا تھا حضرت جبریل نے اس کے ہاتھ سے تلوار گرا دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لے کر فرمایا کہ تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ کہنے لگا کہ کوئی نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں ۔ (تفسیر ابوالسعود)