اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر

حدیث نمبر :580

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاءکی نمازپڑھی پس تشریف نہ لائے حتی کہ قریبًا آدھی رات گزرگئی ۱؎ پھرفرمایا اپنی جگہ بیٹھے رہو چنانچہ ہم اپنی جگہ بیٹھے رہے پھرفرمایاکہ لوگ نماز پڑھ چکے اوراپنے بستروں پر چلے گئے۲؎ اورتم نماز ہی میں رہے جب تک کہ نماز کا انتظارکرتے رہے اوراگر کمزوروں کی کمزوری اوربیماروں کی بیماری نہ ہوتی تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر(پیچھے)کردیتا ۳؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح

۱؎ نماز پڑھنے سے مراد پڑھنے کا ارادہ کرنا ہے۔صحابہ کرام کا طریقہ یہ تھا کہ حضور خواہ کتنی ہی دیرمیں تشریف لاتے مگر نہ حضور کو نماز کے لئے بلاتے تھے نہ اکیلے پڑھ لیتے اور نہ اپنی جماعت علیحدہ کرلیتے،وہ سمجھتے تھے کہ حضور کے ساتھ قضا علیحدہ اداسے افضل ہے۔

۲؎ ظاہریہ ہے کہ ان لوگوں سے مراد وہ مسلمان ہیں جنہوں نے اپنی مسجدوں میں عشاءپڑھ لی یاوہ عورتیں،بچے جوگھروں میں اکیلے عشاءپڑھ کرسو گئے،اہل کتاب مرادنہیں کیونکہ ان کے دین میں عشاءتھی ہی نہیں۔

۳؎ شطرلیل سے مرادتقریبًا آدھی رات ہے یعنی تہائی۔اَخَّرْتُ سے معلوم ہوا کہ حضورکو نمازیں آگے پیچھے کرنے کا اختیاردیاگیاہے،آپ بعطاءالٰہی احکام شرعیہ کے مالک ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ نمازکا انتظار مطلقًا عبادت ہے مگرمسجدمیں بیٹھ کرانتظار بڑی عبادت،اسی لئے اس حالت میں انگلیوں میں انگلی ڈالنا منع ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.