حکایت نمبر235: ایک عارفہ کی معرفت بھری گفتگو

حضرتِ سیِّدُنا احمد بن محمد بن مَسْرُوق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُناذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے ہوئے سنا:ایک مرتبہ دورانِ سفر ایک عورت نے مجھ سے پوچھا: ”تمہاراتعلق کہاں سے ہے ؟ ‘ ‘ میں نے کہا : ” میں پردیسی ہوں۔” بولی: ”افسوس ہے تم پر! اللہ ربُّ العزَّت کے ہوتے ہوئے بھی تمہیں اَجْنَبِیَّت محسوس ہورہی ہے،وہ پاک پرور دگار عَزَّوَجَلَّ تو کمزوروں اورغریبوں کا مُونِس ومددگار ہے ۔” یہ سن کر میں رونے لگا ۔ اس نے کہا :” تمہیں کون سی چیز رُلارہی ہے ؟ ‘ ‘ میں نے کہا: ” میرے زخمی دل پر مرہم رکھ دی گئی ہے، اب میں جلدی نجات پاجاؤں گا ۔” کہا: ”اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو پھر رویا کیوں؟” میں نے کہا:” کیا سچا شخص روتانہیں؟” کہا:”نہیں !کیونکہ آنسوبہہ جانے کے بعد دل کو سکون مل جاتاہے۔”

اُس کی اس بات نے مجھے تعجب میں ڈال دیا ۔پھر وہ کہنے لگی :” تم اتنے حیران کیوں ہورہے ہو؟”میں نے کہا:”مجھے تمہاری باتوں سے بہت تعجب ہورہاہے۔” کہا :”کیا تم اپنے زخم کو بھول گئے ؟”میں نے کہا:”نہیں، میں اپنے زخموں کو نہیں بھولا۔ تم مجھے کوئی ایسی بات بتاؤ جس کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے نفع دے۔” کہا:”جو فائدہ تجھے حکماء کی باتیں سن کر ہوا کیا وہ تمہارے لئے کافی نہیں ؟”میں نے کہا :”نہیں ،میں ابھی نیک باتوں کی طلب سے بے نیاز نہیں ہوا۔ ” کہا:” تو نے سچ کہا،پس اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے سچی محبت کر ، اس کا سچا عاشق بن جا۔کل بروزِ قیامت جب اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے اولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کو اپنی محبت کے جام پلائے گا تو پھر وہ کبھی بھی پیاس محسوس نہیں کریں گے ۔ ” میں رونے لگا اورمیرے سینے سے گُھٹی گُھُٹی سی آواز آنے لگی۔ پھر وہ عورت مجھے وہیں روتا چھوڑکر یہ کہتی ہوئی چلی گئی :” اے میرے آ قا!تو کب تک مجھے ایسے گھر میں باقی رکھے گا جہاں میں کسی بھی ایسے شخص کو نہیں پاتی جو رونے میں میرا مددگار ثابت ہو۔ ”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)