جہیز معاشرے کے لئے ایک ناسور

مولانا نصیر القادری

ہندوستان میں جوں جوں مسلمان تعلیمات اسلام سے دور ہوتے چلے گئے سنت نبویﷺ اور رشد و ہدایت کی جگہ خرافات و بدعات اور خلاف شرع رسومات نے لے لی، جس کی وجہ سے ایک مسلمان، مسلمان ہوتے ہوئے بھی آقائے کریمﷺ کی تعلیمات سے کوسوں دور ہوگیا، دینی امور سے جہالت قرآن و حدیث سے علمی بغاوت کی وجہ سے مسلم معاشرے کو جن سنگین نتائج سے دو چار ہونا پڑا ان کے بیان سے زبان گنگ اور قلم کانپ جاتا ہے۔

جہیز کی ابتدا کیوں اور کیسے؟

جہیز کی ابتدا ہندو مذہب سے ہوتی ہے لیکن اس سلسلے میں قابل غور بات یہ ہے کہ ابتداء کیوں اور کیسے ہوئی ؟ اس سوال کا حل تلاش کرنے کے لئے ہمیں ہندو مذہب میں رائج نکاح کے طریقوں کی طرف رجوع کرنا ہوگا، ہندوؤں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہندو مذہب میں نکاح کے طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جس میں اس بات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے کہ شادی کے بعد اس شادی شدہ لڑکی کا باپ یا بھائی کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، اس کے برخلاف مذہب اسلام میں ایسا نہیں ہے کیونکہ شریعت مطہرہ نے اسے محروم نہیں کیا ہے بلکہ اس کا مخٰصوص حصہ مقرر فرمایا ہے اور ہندو مذہب میں اس لڑکی کو اپنے خاندان سے رخصتی کے وقت تالیف قلب کے لئے چند چیزیں دے دی جاتی ہیں، اس کا نام جہیز ہے۔غرض یہ کہ ہندو مذہب و معاشرہ میں جہیز کا رواج نکاح کے تصور میں بطور تحفہ مربوط ہوگیا ہے۔ جو برائے نام ہوتا ہے او ر اس نکاح کے انعقاد میں رکاوٹ نہیں بنتا ہے ، مگر ایک معاشرتی برائی کی حیثیت سے اس کا عروج تیرہویں اور چودہویں صدی عیسوی میں راجپوتانہ میں ہوا اور انیسویں صدی میں اس رواج نے ایک اہانت آمیز شکل اختیار کرلی ہے گذشتہ پچاس سال کے دوران جہیز ایک نفع بخش کاروبار کا روپ اختیار کر گیا اور شادی کے بازار میں داماد کے دام بڑھتے ہی چلے گئے۔ جہیز کا رواج انگریزوں کی ہندوستان میں آمد کے بعد ایک ناسور کی صورت اختیار کرگیا۔

جہیز کی شرعی حیثیت:

قرآن کریم کی بعض آیات میں اصولی اور کلی طور پر لوگوں کو ایک دوسرے کا مال کھانے کی جو ممانعت کی گئی ہے ان میں جہیز کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ کیونکہ وہ بلا معاوضہ ہے اور شریعت میں بلا معاوضہ کوئی حق نہیں ثابت ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے ۔ ’’وَلاَ تَأکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ‘‘ اور تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے ’’یاایھاالذین آمنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل‘‘قرآن کریم کی ان آیات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مطالبۂ جہیز شریعت کی نظر میں حرام ہے۔ کیونکہ بغیر کسی عوض یا معاوضے کے ہونے کی بنا پر اس پر مال باطل کا مفہوم پوری طرح صادق آتا ہے، پھر بھی وہ زبردستی وصول کیا جاتا ہے۔ اگر لڑکی کے ماں باپ بخوشی بھی کچھ دیدیں تو اس کی دو صورتیں ہیں۔

(۱) وہ اشیاء جو اپنی لڑکی کو بغیر کسی مطالبہ کے اپنی خوشی سے دے رہے ہوں اس کا جواز نکل سکتا ہے۔

(۲) وہ روپیہ و پیسہ جو دولھا کو جہیز، تلک اور سلامی کے نام سے مطالبے پر دیا جائے تو یہ سراسر ناجائز و حرام ہے کیونکہ مطالبہ کی صورت میں یہ رشوت ہوجاتا ہے جو شرعاً ممنوع ہے۔ حدیث پاک میں ہے۔ ’’الراشی والمرتشی کلاھما فی النار‘‘ رشوت دینے والا لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ لہذا جہیز کا مطالبہ کرنے والے اس خلافِ شرع رسم سے پرہیز کریں اور لڑکی والوں کو بھی چاہیئے کہ ایسے بھیک مانگنے والوں کو ٹھکرا دیں ایسوں کو اپنی لڑکی ہرگز نہ دیں۔ بلکہ جو دیندار متبعِ شریعت ہو اس کو اپنی لڑکی نکاح میں دیں۔

علاوہ ازیں مشہور اُندلسی مغربی وسیع النظر عالم ابن حزم الظاہری اپنی کتاب ’’المحلی‘‘ میں واضح طور پر شرعی حکم یوں رقمطراز ہیں کہ عورت کو جہیز دینے پر مجبور کرنا قطعاً جائز نہیں ہے نہ مہر کی رقم سے اور کسی دوسرے مال سے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب جہیز پر رشوت کا اطلاق ہوتا ہے تو حضورا نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کو جہیز کیوں دیا۔

جہیز فاطمی اور شبہ کا ازالہ

تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کو جو چیزیں عنایت فرمائی تھیں وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ دراصل حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مہر معجل لے کر وہ چیزیں خریدوائی تھیں ، چنانچہ یہ واقعہ اس طرح مذکور ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک زرہ تھی جسے رسول اکرمﷺ نے فروخت کرنے کا حکم دیا اور اس سے ۴۸۰؍ درہم حاصل ہوئے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ اس رقم سے کچھ خوشبو ، کپڑے اور فلاں فلاں چیزیں خرید لاؤ، یہ جہیز فاطمہ کی حقیقت ہے۔ ظاہر ہے کہ اول تو یہ سرے سے جہیز ہے ہی نہیں۔ لیکن اگر بالفرض تسلیم کرلیا جائے تو وہ لڑکی کے باپ کی طرف سے نہیں بلکہ داماد سے حاصل کردہ مہر کے پیسوں سے ہے۔ لہذا اس کو جہیز اور فرمائش سے کوئی نسبت نہیں ہے۔

اس سلسلے میں ایک قابل غور بات یہ ہے کہ اگر جہیز شریعت میں محبوب ہوتا تو پھر مدنی آقا ﷺ اپنی تمام صاحبزادیوں کو بھی جہیز دیتے ، تاریخ اس پر خاموش ہے کہ آپ نے سوائے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کے کسی اور صاحبزادی کو اس قسم کی چیزیں دی ہوں اور صحابہ کرام نے اس کی پیروی کی ہو۔

اسلام ایک مکمل دین ہے ۔ اور اپنے متبعین کو کامل د ستور حیات فراہم کرتا ہے۔ جس میں قیامت تک آنے والے تمام مسائل کا حل ہے اور خدا کی طرف سے آیا ہوا دین آخری شکل میں ہمارے ساتھ ہے اب اس کو کسی نئے دین اور نئی شریعت کی حاجت نہیں ہے اس کا سب سے بڑا وصف اس کی جامعیت مسائل زندگی میں تنوع کے باوجود رہنمائی اور توازن و اعتدال کے ساتھ اس کا حل ہے، خلوت ہو یاجلوت ایوان سلطنت اور قصر حکومت ہو یا مفلس خانہ چراغ حاکم ہو یا محکوم ، ایوان قضاء کی میز ہو یا ادب سخن کی بزم ، حق و باطل کی بزم گاہ ہو یا خدا کی بندگی کے حضور نالۂ نیم شبی یا آہِ سحر گاہی یا بندگان کے حقوق ، الغرض اسلام علمی ، معاشرتی، تمدنی، سیاسی، اور اقتصادی اعتبار سے ایک مکمل دین اور کامل دستور حیات ہے۔

مقام افسوس

وہی عورت جس کو اسلام نے رحمت قرار دیا اور جس کی پرورش کا شرف خاتم الانبیاء ا کو حاصل ہے اور جس کی اچھی تعلیم و تربیت حضورا کی جانب سے مژدۂ جنت ہے لیکن آج اسی عورت کی عزت جہیز کی چوکھٹ پر ہے۔

یہ حقیقت اہل دنیا کے سامنے منکشف ہے کسی گھر میں کوئی لڑکی جیسے ہی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے اسی وقت سے والدین کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں ۔ زندگی کا لمحہ لمحہ سانپ بن کر ڈسنے لگتا ہے ، ایک طرف لڑکی کی اٹھتی ہوئی جوانی اور دوسری طرف جنسی بھیڑیوں کی ہولناک نگاہیں ، تیسری طرف پڑوسیوں کی چہ می گوئیاں، غرض یہ کہ زندگی عذاب بن جاتی ہے جس سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک کمزور باپ خودکشی سے بھی نہیں چوکتا ہے۔

مجرم کون؟

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاشرہ کو موت کے دروازے تک پہنچانے کے لئے مجرم کون ہے؟ ضمیر کو ٹٹولا جائے تو ہم تمام مجرم ہیں جنہوں نے اسلام کے سادہ اصولوں سے انحراف کیا اور غیروں کی تہذیب کے پیچھے پڑ کر بے قصور و بے گناہ لڑکیوں کے لئے دنیا میں جہنم تیار کی، نکاح کے کسی زمانہ میں شریعت میں باعزت اور دیندار خاندانوں کو ترجیح دی جاتی تھی۔ لیکن آج صوم و صلوٰۃ کی پابند دو شیزاؤں کو کوئی نہیں پوچھتا بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی نگاہیں لاکھوں ہزاروں جہیز لانے والی لڑکیوں کی جانب اٹھتی ہیں۔ آج اکثریت اپنے قول و فعل سے جہیز کے خلاف نعرے لگارہی ہے لیکن جب عمل کا میدان آتا ہے تو اس عملی خلاء کو پُر کرنے کے لئے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ آج جبکہ انسانیت دولت کی چوکھٹ پر جھکی ہوئی ہے اور جہیز کی اصلاح سے مایوسی چھا چکی ہے اب صرف ایک ہی ایسا طبقہ ہے جس طرف اصلاح کی مدھم سی روشنی دکھائی دیتی ہے وہ ہے ہمارے معاشرے کے نوجوان۔ نوجوان غربت کی ماری اور کنواری لڑکیوں کے دل کے زخموں کے کچھ مرہم فراہم کرکے ہماری ماں ، بہنوں کی عزتوں کو اور زیادہ سر بازار نیلام ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اگر آج ہمارے مسلم معاشرے کے نوجوانوں میں یہ جذبہ پیدا ہوجائے تو وہ دن یقیناً ہماری خوشیوں کا اور دلی ارمانوں کی کھلتی ہوئی کلیوں کا پہلا دن ہوگا۔

اللہ رب السمٰوات والار ض سے دعا ہے کہ ہمیں لعنت جہیز سے بچائے اور نبی کونین ا کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔آمین۔

…٭٭٭…