حضور صدر الشریعہ میدان تدریس کے شہسوار

مولانا غلام مصطفیٰ قادری

گزشتہ صدی میں سر زمینِ ہند پر جو علمی اور قد آور شخصیات جلوہ گرہوئیں اورجنہوں نے خداداد علم و صلاحیت کے ذریعے جو علمی اور اصلاحی خدمات سر انجام دیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ان جلیل القدر ہستیوں میں امام احمد رضا خاں قادری رحمۃ اللہ علیہ کا نام بھی نمایاں حیثیت رکھتا ہے آپ نے حمایت حق ،استیصال باطل کے لئے ناقابلِ فراموش کاوشیں کیں مگر علمی و فقہی خدمات اور نمایاں ہیں۔ آپ نے مسلک حق امام اعظم پر چلتے ہوئے اپنی فقہی بصیرت سے ایک عالم کو مستفیض و مستفید فرمایا جس پر آپ کا فقہی انسائیکلوپیڈیا ’’العطایا االنبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ‘‘ شاہدِ عدل ہے دوسری مثال یہ ہے کہ امام احمد رضا خاں نے جہاں خود تحریری اور تقریری طور پر فقہِ حنفی کی نشر و اشاعت کی، وہیں اپنی نگاہ کیمیاء اثر سے ایسے باصلاحیت وذی استعداد فقہاء بھی پیدا کئے جو بعد کے زمانے میں فقیہِ اعظم کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اور ہندوپاک میں فقہ کی نمایاں خدمات سرانجام دینے والے جید و ارشد تلامذہ ہوئے جن کے ذریعے یہ مذہب حنفی چار دانگ عالم میں پھیلتا رہا ہے۔ ان فقہاء ہند میں امام احمد رضا خاں قادری رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذ ارشد و خلیفۂ حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ علامہ مولانا حکیم محمد امجد علی اعظمی مصنف بہار شریعت رحمۃ اللہ علیہ بھی نمایاں مقام کے حامل ہیں۔ جنہوں نے اپنے استاد گرامی امام موصوف کے حلقۂ درس اور صحبتِ علمی سے عظیم جواہر پارے چنے اور پھر ان سے عالم کو چمکایا۔ جن کی علمی اور فقہی خدمات کا اعتراف ان کے موافقین اور مخالفین سبھی نے کیا۔ خود ان کے مُرَبی و اُستاذ ان کی نمایاں خدمتوں سے مسرور و شادماں تھے یہی وجہ ہے کہ آپ اعلیٰحضرت کے معتمد خاص بھی تھے۔

حضور صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی اشاعتِ دین میں بسر ہوئی، رشد و ہدایت کا محبوب ترین فریضہ آپ نے زبان و قلم سے انجام دیا۔ احقاق حق و ابطالِ باطل میں زندگی بھر کوشاں رہے۔ علمی و قلمی خدمات پر آپ کی بے نظیر تصنیف بہار شریعت موجود ہے جو تنقیحات و تدقیقات اور دلائل و براہین کی تفصیلات کے بغیر اتنی عمدہ انداز میں مفتیٰ بہِ مسائل و احکام پر مشتمل ہے کہ آج اس کا مطالعہ اپنے تو مسرور ہوکر کرتے ہیں مگر اغیار مجبور ہوکر کررہے ہیں جسے دیکھ کر عہد قدیم کی یاد تازہ ہوتی ہے۔

کنزالایمان جو آج دیگر معروف تراجم قرآن میں اپنی مثال نہیں رکھتا اور اپنی خوبیوں اور کمالات کی بناء پر اپنوں اور غیروںسے دادِ تحسین کے پھول حاصل کررہا ہے۔ یہ بے مثال ترجمۂ قرآن حضور صدر الشریعہ ہی کی تحریک و تحریض کا نتیجہ ہے کہ آپ کی فرمائش بلکہ اصرار پر امام احمد رضا قدس سرہ نے آپ کو املا کروایا۔ فالحمدللہ علی ذالک

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃوالرضوان کی زندگی کے یوں تو بہت سے نمایاں پہلو ہیں جن پر اہل علم و قلم خامہ فرسائی کرتے رہتے ہیں۔ سردست آپ کے ایک دینی و علمی وصف پر کچھ سطور ہدیۂ قارئین کررہا ہوں اور وہ ہے آپ کی شانِ تدریس۔ جس پر لکھتے چلے جایئے۔ یہ مختصر مقالہ اس کے تحمل کو کافی نہیں ہوسکتا بلکہ آپ کی درس و تدریس کی خوبیوں پر ایک مستقل کتاب مرتب ہوسکتی ہے۔

درس و تدریس بہت مشکل اور دشوار فن ہے مگر کوئی اس میں کامیاب ہوگیا تو پھر اس کے ماتحت علمی پرورش پانے والے عظیم الشان مدرس بن جاتے ہیں۔حضور شارح بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

’’آج تدریس کو یار لوگوں نے بہت آسان بنالیا ہے علمی کاموں میں سب سے آسان تدریس کو سمجھا جانے لگا ہے عالم یہ ہے کہ مدارس میں ایسے ایسے لوگ مدرس ہیں کہ حیرت ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ تدریس ایک بہت اہم اور مشکل کام ہے خود کتاب کے مضامیں کو کماحقہ سمجھنا اور پھر طالب علم کو اس طرح سمجھا دینا کہ وہ واقعہ سمجھ لے اتنا مشکل ہے کہ اس کی تعبیر کے لئے الفاظ نہیں پھر طالب علم ہے تو اس کے شبہات کو اس طرح دور کرنا کہ وہ مطمئن ہوجائے صرف خداداد استعداد ہی سے ہوسکتا ہے طالب علم جو شبہ وارد کررہا ہے اس کی بنیاد کیا ہے وہ ابھی قادرالکلام نہیں اپنی بات کماحقہ کہہ نہیں پاتا ہے ایک ماہر استاد کا کام یہ ہے کہ وہ طالب علم کے غیر مرتبط جملوں سے یہ اخذ کر لے کہ اس کو کھٹک کیا ہے؟ اور یہ کہنا کیا چاہ رہا ہے جس مدرس میں یہ کمال نہ ہو وہ حقیقت میں مدرس نہیں۔

حضور صدر الشریعہ کیسے ماہر استاذ اور مدرس تھے یہ تو آنے والی سطور بتائیں گی تاہم پہلے یہ ملاحظہ کیجئے کہ حضور بدرالطریقہ صدر الشریعہ نے تدریسی دور کا آغاز کب سے کیا۔

علومِ اسلامیہ میں مہارتِ تامہ حاصل کرنے کے بعد حضور صدر الشریعہ نے ۲۴؍ تا ۲۷؍ھ ۳؍ سال استاد گرامی حضرت محدث سورتی علیہ الرحمۃ والرضوان کے مدرستہ الحدیث میں درس دیا۔ پھر ایک سال پٹنہ میں مطب کیا۔ اس کے بعد حضرت محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر اوراعلیٰحضرت امام احمد رضا کی طلب پر بریلی شریف حاضر ہوئے اور مدرسہ منظر اسلام بریلی شریف میں تدریسی خدمات پر مامور ہوگئے اور عرصۂ دراز تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ (افکار رضا ممبئی، ص ۲۹۔۳۰)

اب آیئے علوم و فنون کے اس دریائے ناپیدا کنار کی تدریسی خوبیوں اور کمالات کا مختصر طور پر جائزہ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ؎

ثابت کیا ہے صدر الشریعہ نے بالیقیں

احمد رضا کی شمع فروزاں ہے آج بھی

کسی بھی مدرس کی تدریسی صلاحیت و استعداد کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس نے برسوں تک اس کی بارگاہ میں خوشہ چینی کی ہو۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ کے شاگردوں میں اپنے وقت کے عظیم مفکر و مدبر‘ مفسر و محدث اور مناظر ہوئے ہیں بھلا جس کے شاگردوں میں ایسے بلند رتبہ اور صاحبان کمال شخصیات گزری ہوں اور انہوں نے آپ کی تدریسی خصوصیات کا عمدہ انداز میں تذکرہ کیا ہو اس عظیم مدرس کاکیا کہنا۔۔۔۔۔

جماعت اہلسنت کے وہ پیکر علم و عمل عالم ربانی جو امام النحو اور صدر العلماء کے ممتاز القاب سے معروف ہیں جنہوں نے بشیرالقاری ، بشیر الناجیہ، البشیر، بشیر الکامل اور نظام شریعت جیسی علمی و تحقیقی کتابیں عطا فرمائیں جو طلبہ سے لے کر علماء تک میں مقبول اور لائق استفادہ ہیں یعنی حضرت علامہ غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ آپ کی تدریسی خوبیوں اور کمالات کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں۔۔۔۔ ’’شیخ الطریقہ آقائے نعمت ماوائے رحمت، فخر الاماجد، بحرالمحامد استاد معظم فقیہ عالم حضرت مولوی حکیم ابوالعلا محمد امجد علی قدس سرہ القوی ہندوستان کے مشہور عظیم الشان خیر آبادی خاندان سے بیک واسطہ مستفیض ہونے والے فضلاء زمانہ میں امتیازی شخصیت کے مالک تھے۔

طریقۂ تدریس دو ہیں بعض اساتذہ تفہیم کتاب بصورت سوال و جواب فرماتے ہیں اور بعض کتاب کی تقریر ایسے انداز سے فرماتے ہیں جس پر اعتراضات وارد ہی نہ ہونے پائیں۔ آپ بروقت تدریس عموماً طریقۂ دوم اختیار فرماتے تھے اور گاہے گاہے طریقۂ اول جب کہ مقام دقیق مضامیں پر مشتمل ہوتا۔۔۔۔۔‘‘

حضور صدر العلماء چند اور خصوصیات اس طرح بیان فرماتے ہیں۔۔۔۔۔’’آپ کی تدریسی خصوصیات میں اول یہ خصوصیت تھی کہ درسی کتابوں کے ان کے مطبوعہ حواشی بھی پڑھاتے تھے چنانچہ میر زاہد امور عامہ کے ساتھ ساتھ اس کا حاشیہ مولانا عبدالحق خیر آبادی رحمہٗ اللہ الہادی نے بھی سبقاً سبقاً پڑھایا۔ اگرچہ بعض شرکاء بوجہ قلت وقت اس کے پڑھنے سے گریز چاہتے۔

دوم ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہ متقدمین کے غیر مطبوعۂ حواشی جو صرف بعض کتب خانوں میں قلمی موجود ہیں اور آج تک طبع نہ ہوسکے وہ بھی پڑھاتے تھے چنانچہ فقیر نے شرح تجرید پر محقق دوانی قدس سرہ النورانی کے حواشی قدیمہ اور جدیدہ بھی آپ کے قلمی نسخوں سے نقل کرکے پڑھے ہیں۔ ان میں شریک درس صرف طبیب حاذق جلیل القدر فائق مولانا مولوی غلام یزدانی قدس سرہ الربانی تھے۔

سوم۔۔۔۔۔۔ یہ کہ درس کاناغہ کسی حالت میں گوارا نہ تھا حتی کہ بحالت بخار شدید بھی تشریف لے آتے طلبہ کا شدت بخار کو دیکھ کر بے حد اصرار ہوتا کہ درس ناغہ کریں مگر ان کی درخواست قبول نہ ہوتی۔ اور یہ فرماتے کہ مولوی صاحب (یعنی آپ کے استاد مولانا ہدایت اللہ خاں صاحب جونپوری قدس النورانی) فرماتے تھے کہ ناغہ سے برکت جاتی رہتی ہے لہٰذا پڑھ لو۔‘‘ (ماہنامہ اشرفیہ مبارکپور کا صدر الشریعہ نمبر ص۲۲)

موخر الذکر خصوصیت کو پڑھنے کے بعد اندازہ لگایئے کہ اس دور میں جس طرح ذوق و شوق کے ساتھ طلبہ اپنے اساتذہ سے اکتساب فیض کرتے تھے اسی طرح اساتذہ بھی خلوص و للّٰہیت کے ساتھ محنت و لگن سے تعلیم دے کر متعلمین کی پیاس بجھاتے تھے۔ نیز تعلیم کی اہمیت بتلاتے تھے۔

یقیناً آپ کی شانِ تدریس کا اندازہ اپنے وقت کے بڑے بڑے علماء و فضلاء کے بیانات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ حضرت مفتی خلیل احمد خاں قادری مارہروی جو خود علم و عمل کے پیکر تھے مگر آپ نے بھی صدر الشریعہ بدرالطریقہ کے حلقۂ درس میں شرکت کی اور آپ کی تدریسی خوبیوں کا کمال ملاحظہ کیا۔ فرماتے ہیں:

’’فقیران ایام میں علم الصیغہ ،ہدایت النحو، منیتہ المصلی، میزان، منطق ،قلیوبی وغیرہ کتابیں پڑھتا تھا۔ درس و تدریس کیا ہے اس سے واقفیت نہ تھی۔ اتنا جانتا تھا کہ کسی کتاب کو پڑھانے کے معنی یہ ہیں کہ اس کے مضامیں کی تقریر ایسی شستہ اور آسان زبان میں ہو کہ ہر طالب علم کے دل میں اتر جائے۔ حضرت والا کا انداز درس کیا تھا۔ اس سے اب تک واقفیت نہ تھی۔ پہلی کتاب جس کے ذریعہ حضرت والا کے قدموں تک رسائی ہوئی ملاحسن تھی۔ دوسرے تیسرے روز ہی جب مباحث کا آغاز ہوا اور حضرت والا نے مضمون کتاب کی تقریر فرمائی تو بلا مبالغہ یہ معلوم ہوتا تھا کہ ٹھنڈے ٹھنڈے میٹھے میٹھے مشروب کے گھونٹ نیچے اتر رہے ہیں اور پھر عقیدت میں آنکھیں جھکی دل جھکا اور جھکتا ہی چلا گیا۔‘‘ (صدرالشریعہ نمبر ۲۳)

شارح بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان جن کے علم و فن کا لوہا آج اپنے اور بیگانے سبھی مانتے ہیں آپ نے حضور صدر الشریعہ کی مبارک زندگی میں ان کی خدمت کی سعادت حاصل کی اور اس بحر ناپیدا کنار سے اکتسابِ فیض کیا ان کی ذات میں آپ نے کیا پایا اور کیا ملاحظہ کیا۔ وہ بھی بہت مفصل مضمون کا متقاضی ہے تاہم حضرت والا کے انداز درس و تدریس اور طلبۂ علوم نبوت کو ہیرے و جواہر بنانے کا طریقہ کیسا تھا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ رقم طراز ہیں۔

’’حضرت صدرالشریعہ کے تدریس کی یہی خصوصیت ہے کہ وہ طلبہ کے ذہن میں مضامین کو نقش فرمادیتے تھے۔ صرف پڑھاتے ہی نہیں تھے بلکہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ گھول کر پلادیتے تھے۔‘‘

ایں سعادت بزور بازو نیست

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ