🌹 مذہبی زندگی 🌹

چارلس ایف کیٹرنگ جوکہ جنرل موٹرز ریسرچ لیبارٹری کامحقق تھا ، اپنی جیب سے اینٹوک کالج کو تیس ہزارڈالرسالانہ اداکرتارہا……. کیوں ؟

یہ دریافت کرنے کے لیے کہ گھاس کا رنگ سبزکیوں ہے ؟ گھاس کس طرح سورج کی روشنی ، پانی اورکاربن ڈائی آکسائیڈ سے اپنی خوراک حاصل کرتی ہے ؟؟

لیکن…………..

برسوں کی کَھپت کے باوجودوہ اس کُنہ تک نہ پہنچ سکا !!

یہ مثال دینے کے بعد ڈیل کارنیگی کہتاہے :

اگرچہ میں عبادت کے بھیدکونہیں سمجھ سکتا….. مذہب کےبھیدکونہیں پاسکتا لیکن……

یہ چیزیں مجھے ان سے لطف اندوزہونے سے بھی نہیں روک سکتیں!!

میں اس بات میں بہت زیادہ دل چسپی لیتاہوں کہ اگربجلی ، غذا اورپانی مجھے جینے کے لیے بھرپورفائدہ دیتے ہیں تو مذہب مجھے اِن سے کہیں بڑھ کر فائدہ دیتاہے……..

یہ مجھے امن وسکون فراہم کرتاہے ، میری زندگی کوجہنم سے جنت بناتاہے……..مجھے روحانی اقدارسے نوازتاہے –

ولیم جیمزکہتاتھا:

” مذہب زندگی کے لیے نیاذوق و شوق اورولولہ دیتاہے ، ایک مطمئن ، عظیم اور پُرلطف زندگی عطاکرتاہے ۔ “

آج بہت سے ماہرنفسیات مذہب کادرس دے رہے ہیں ، کیوں ؟

اس لیے کہ شدیددنیاوی بیماریوں ، جیسے:

معدے کا السر ، دل کے امراض ، اعصابی تناؤ اور جنون وغیرہ سے بچاجاسکے-

ڈاکٹربرل نے کہاتھا:

” جوبندہ حقیقی معنوں میں مذہبی ہوجائے وہ کبھی بھی اعصابی ، ذہنی اور نفسیاتی امراض کاشکارنہیں ہوتا – “

( how to stop worrying and start living )

✍لقمان شاہد

29/9/19