مسلم معاشرہ اور علمائے کرام کی ذمہ داریاں

مولانا عبد الرب مصباحی

یہ ایک ٹھوس اور ناقابل انکار حقیقت ہے کہ آج سے تقریباً چودہ سو سال قبل جب دنیا کفر وضلالت اور سفاہت و جہالت کی تاریکیوں میں گم تھی ۔بطحا کی سنگلاخ پہاڑیوں سے رشد وہدایت اور صلاح وفلاح کا وہ آفتاب جلوہ فگن ہوا جس نے پوری دنیا کو منور کر کے رشد وہدایت اور صلاح وفلاح وبہبود کی وہ مشعل مسلمانوں کے ہاتھوں میں دی جس کی روشنی اور ضیاء پاشی میں ہمیشہ شاہرا ہِ ترقی پر مسلمان گامزن رہے ۔اور ایک ایساضابطۂ حیات ہمارے سامنے رکھا جو انسان کو اُخوت ومحبت ،انسانیت وشرافت اور بلند اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔بہمیت ،حیوانیت اور اخلاقی بے راہ روی سے انسان کو باز رکھتا ہے۔

مسلمانوں کی زندگی جب ماضی کے آئینے میں ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہو تا ہے کہ مسلمان عزت وحشمت اور شان وشوکت کے تنہامالک تھے لیکن جب ان کی موجودہ زندگی ،حالات کی پسماندگی،زبوںحالی اور دین سے بے رغبتی اور دوری کا مشاہدہ کر تے ہیں تو آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں ،آخر سبب کیا ہے کہ انسان مرورِایام کے سا تھ ساتھ دین سے کو سوں دور اور مغربی تہذیب وتمدن سے قریب ہوتے جا رہے ہیں ،آج ہمارے گھروں میں اسلامی تعلیم کی جگہ مغربی تعلیمات پنَپ رہی ہے ، اسلامی معاشرے کا شیرازہ بکھر رہا ہے شرم وحیاکا فقدان ہو تا جارہاہے ۔ عام بازاروں اور سنیما ہالوں کا ایک سرسری جا ئزہ لیں تو وہاں مسلمانوں کی بالخصوص مسلم عورتوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے، جن کے لئے اسلام نے پردہ لازم رکھا ہے۔ شادی کے موقع پر مطالبۂ جہیز کی لعنت ہندوسماج سے مسلمانوں نے چھین کر اپنے معاشرے کا جزبنارکھا ہے مجبوروبے کس لڑکیا ں نذرِ آتش ہو رہی ہیں۔برائیاں بڑھ رہی ہیں اور مسامان معاشرہ اپنی حقیقی شناخت کھوتا جا رہاہے ۔

جب ہم اس کے اسباب وعلل پرٹھنڈ ے دل و دماغ سے غور کر تے ہیں ۔تو سمجھ میں آتا ہے کہ جہاں دیگر اسباب کا اس میں دخل ہے وہیں ہماری کو تاہیوں کو نمایاں حیثیت حاصل ہے ’’امر بالمعروف و نھی عن المنکر ‘‘ پر عمل واصلاح ،معاشرہ کی روح تھی جسے ہم نے آج سطحی حیثیت دے رکھی ہے جبکہ احادیثِ مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہو تی ہے کہ امر بالمعروف و نھی عن المنکرکا چھوڑنااللہ عزوجل کی لعنت اور غضب کا باعث ہے، آلام و مصائب، ذلت و خواری اور غیبی نصرت سے محرومی کی یہی وجہ ہے ۔اسی لئے نبیٔ کر یم ا نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ایمان کا خاصہ اور جزء ِلازم قرار دیا ہے اور اس کے چھوڑنے کو ایمان کے ضعف کی علامت بنتی ہے ۔نیز فرماتے ہیں کہ اگرکسی جماعت میں کو ئی شخص گناہ کر تا ہے اور وہ باجود قدرت اسے منع نہیں کر تی ہے تو ان پر مر نے سے پہلے عذاب بھیجتا ہے ۔ (ابن ماجہ )

آقااکا ایک اور فر مان ہے :’’تم میں سے جب کو ئی شخص برائی دیکھے تو اس کو اپنے ہا تھوں سے دور کرے اور اگر اس کی طاقت نہ پا ئے تو زبان سے دور کرے اوراگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو دل سے اسکو برا جا نے اور یہ ایمان کا ادنیٰ درجہ ہے‘‘(مسلم شریف )

مذکورہ دونوں حدیثوں سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اَمربالمعروف و نہی عن المنکر کا ترک مسلمان کے لئے انتہائی مُضِر اور ہیبت ناک اثرات مُرتّب کر تا ہے ۔جس سے ہمارا معاشرہ تباہ اور بر باد ہو تاجا رہا ہے۔

امام غزالی علیہ الرحمۃ والرضوان ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’اس میں کچھ شک نہیں کہ اَمر بالمعروف و نھی عن المنکردین کا ایسا زبردست رکن ہے کہ دین کی تمام چیز یں اس سے وابستہ ہیں اس کو انجام دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیھم السلام کو مبعوث فرمایا‘‘

نبی کریم ﷺ نے امر بالمعروف و نہی عن المنکرکا وہ نرالا انداز پیش فر مایا جو آپ ہی کا حق تھا۔ اس سلسلے میں آپ نے اخلاصِ عمل اور حسنِ سیرت کو خاص اہمیت عطافر مائی کیو نکہ کلا م میں تا ثیر پیداکر نے کے لئے ان دو چیزوں کا بیک وقت ہو نا ضروری ہے ۔اس کے نتیجے میں سرکش دشمن کے دل بھی پگھل سکتے ہیں ، آپ کے بعد صحابۂ کرام نے اسی کر دار واخلاق کی روشنی میں امر بالمعروف و نہی عن المنکرفرمایا۔ جس سے اسلام کا دائرۂ عمل روز بروزوسیع ہو تا رہا اور جب تک ان اخلاق وکر دار کا سلسلہ قائم رہا اسلام پھولتا پھلتا رہا مگر آج جبکہ ہر چہار جانب سے اسلام اور مسلمانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور قوم مسلم ہے کہ اعدائے اسلام کی اجتماعی اور معاشرتی زندگی کو اپنے گھروں بلکہ اپنے دلوں کی زینت بنانافخر محسوس کررہی ہے۔ (العیاذبااللہ تعالیٰ )

اب ضرورت ہے قولی و عملی جہادکی۔ خصوصاً علمائے کرام کا فرضِ منصبی ہے کہ میدانِ عمل میں اترکر اسلامی تعلیمات کے فوائد اور مغربی تہذیب وتمدن اورہندوانہ مُخرب اخلاق ورسومات کے نقصانات سے قوم کو روشناس کرائیں۔ اور اس کے لئے وہی طر یقہ عمل میں لانا ہو گا جو نبی کر یم ا اور ان کے بعد صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسلامی تعلیمات کے زیراثراسلامی معاشرہ کی تشکیل ،اور غیر اسلامی تعلیمات کے زیر اثرہو نے والے مخرب اخلاق اور غلط رسومات کے انسداد کی خاطر حُسنِ اخلاق اور نرمی ومُروّت کے جو عمدہ طر یقے اپنائے تھے ۔پھر تو سو فیصد امید ہیکہ ہمیں منزل مقصود حاصل ہو جا ئے اور قوم مسلم اپنا کھویا ہواوقار حاصل کر لے ۔

یہ امر مسلم ہے کہ کفر وشرک کی ظلمتوں نے جب بھی عالم کو اپنے نرغے میںلیا ،ظلم وبربریت کی چکی میں لوگ پسنے لگے، جہالت وسفاہت قوموں کا مقدربن گئی۔اللہ رب العزت نے اقوامِ عالم کی طرف انبیائے کرام علیہم السلام کو معبوث فرمایا جنہوںنے اقوامِ عالم کے قلوب کو رشد وہدایت سے منور کیا۔ اللہ رب العزت کے احکام اوراپنے فرامین سے انہیں ایک کا مل نظام حیات عطا کیا اور اپنے کردار وعمل کے ذریعے ان کے لئے ایک صالح معاشرہ کی تشکیل دی۔چونکہ اب انبیائے کرام کی بعثت کا سلسلہ منقطع ہوچکاہے۔ اب علمائے کرام ان کے وارث اور نائب ہیں، جیسا کہ حدیث پاک میں ارشاد ہوا’’العلماء ورثۃالانبیاء‘‘

ایک اور مقام پر رسولِ کریمﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ’’میری امت میں دوقسم کے لوگ ایسے ہیں کہ اگر وہ ٹھیک ہوں تو امت کی حالت بھی درست رہے گی اور اگروہ بگڑگئے تو پوی امت خراب ہو جائیگی وہ دونوںگروہ: حکمراںاور علماء ہیں‘‘ ۔ہمیں تو قرآن واحادیث کی روشنی میں اپنے کر دار وعمل کا جا ئزہ لینا ہوگا ۔ اپنے مقام ومرتبہ اور اپنی حیثیت کو پہچانناضروری ہے اور یہ بھی غورکرنا ضروری ہے کہ کیا ہم اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہٗ نبھا رہے ہیں؟کیا اپنے مقام و مرتبہ کے مطابق اپنے فرائض اداکر رہے ہیں؟لیکن ہمارا ضمیر نفی میں جواب دیگا ۔ سوائے ان چند مخلص علمائے کرام کے جو آج بھی تبلیغ دین ،واشاعتِ مسلکِ حق نیز اصلاحِ معاشرہ کی خدمات پوری محنت وجانفشانی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔

نوجوان علمائے کرام سے مودبانہ التماس ہے کہ اپنے فرائضِ منصبی کے پیش نظر میدانِ عمل میں اتر کر معاشرہ کی اصلاح کے سلسلے میں جدوجہدکریں ۔

وہ وقت آگیا ہے کہ ساحل کو چھوڑکرگہرے سمندروں میں اتر جاناچاہئے۔ آج بھی ہماری قوم کی کیثرتعداد اندھیر ے میں ہے اسے صحیح قائد چاہئے جو خود بھی متبعِ شریعت وسنت اور اخلاق کا پیکر ہو کر قوم کونو رِ ایمان کی طرف لاسکے،اِس وقت ہمارا معاشرہ اِس قدربگڑچکاہے کہ قوم کو صحیح راہ پر لانے کے لئے فقط اسٹیج پر شعلہ بارتقاریر ،رسائل،کتابیں اور پمفلٹ ہی کا فی نہیں بلکہ لوگوںکے درمیان پہونچ کر اخلاق ومحبت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا عمل ضروری ہے اس کے لئے ہمارے علمائے کرام کو اپنے قیمتی اوقات صرف کر نے ہو نگے اور اس میں بھی مقصد صرف رضائے اِلٰہی اور اعلائے کلمۃ الحق ہو،نہ کہ اغراض دنیوی ومفادات ذاتی ۔

میں یہ نہیں کہتا کہ اپنی ڈیوٹیوں اور نوکریوں کو چھوڑکر راہ خدا میں وقف ہو جا ئیں۔ بلکہ اپنے انہیں اوقات اور اس سے بچنے والے اوقات میں آپ قوم کی اصلاح کر سکتے ہیں ،مثلاً ائمۂ مساجد روزانہ عوام کوکچھ دیردینی مسائل بتادیا کر یں اورجمعہ کے روزخطبہ سے قبل کے خطاب میں ایک مقررِ محض کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک واعظ اور مصلح کی حیثیت سے قوم سے مخاطب ہوں یعنی مظاہرہ ٔ فن نہ ہوبلکہ قوم کی اصلاح کی نیت سے کھڑے ہوں، اورعام فہم اور سلیس انداز میں اسلام کی تعلیمات سے قوم کو روشناس کرائیں۔خارجی اوقات میں بھی عوام سے رابطہ رکھیں،خوش اخلاقی سے ہر ایک سے ملیں کہ اسلام اخلاق ہی سے پھیلاہے اگر آپ کو ان کے اندرکو ئی خرابی یا کمی نظر آئے تو اسکی اصلاح کریں اَمر بالمعروف اور نہی عن المنکرکافریضہ ادا کریں یہ احساس دل میں نہ پیداہونے دیں کہ وہ آپ کی اصلاح قبول کر یں گے یا نہیں،کہناآپ کاکام ہے ماننا نہ ماننا ان کاکام ہے۔

مدارس کے اساتذہ مدارس میں روزانہ ایک وقت مقررکرلیں کہ عوام کو تعلیمات دینیہ سے روشناس کرائیں اور انہیں احکامِ شرعیہ مثلاًنماز،روزہ،زکوۃوغیرہ کے مسائل بتائیں اسکے علاوہ خارجی اوقات میں عوام سے رابطہ رکھیں اور اخلاقِ حسنہ کے پیکر بن کران کی اصلاح کر یں ۔کو شش کرناہماراکام ہے کہ کسی کی کوشش اور جدجہد کو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کا اجرتوملتاہی ہے ساتھ ہی ساتھ ’’مَنْ جَدَّوَجَدَ‘‘کے تحت اس کے تسلّی بخش نتائج بھی ظہورپذیرہوتے ہیں۔

اب علمائے کرام کو امر بالمعروف و نہی عن المنکرکی بنیادی ذمہ داری سنبھال لینی چاہئیے تبھی ایمان وعمل اور سماج ومعاشرہ کی اصلاح ہوسکتی ہے کہ ماضی میں جب ہم نے اس کو اپنایا تب کم رہتے ہو ئے بھی کامیاب اور غالب رہے اور اسی کو چھوڑکر آج دنیاکے ہرگوشے میں ہم اچھی خاصی تعدادمیں ہو تے ہو ئے بھی تباہ وبربادہو رہے ہیں!

سفینہ اب بھی کنارے سے لگ تو سکتاہے

ہوا کے رخ پہ چلو بادباں بدل ڈالو!

٭٭٭