نقابِ رخ الٹ دو خود سحر بیدار ہو جائے

محمد زبیر برکاتی مصباحی

تاریخِ عالم کی لوحِ جبیں پر آج بھی منقّش ہے کہ اعلائے کلمۃ اللہ اور احقاقِ حق ،و ابطالِ باطل کی خاطر باطل کا سر قلم کرنے میں اہلِ ایمان نوجوانوں کا کلیدی رول رہا ہے ۔یہی نوجوان ہیں جو عہدِنبویﷺ میں وقت کے فراعنہ و نماردہ کے ظلم کی پرواہ کئے بغیر محسنِ انسانیت اکی زیر قیادت صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا خونِ جگر دے کر بھی صدائے حق بلند کرتے رہے ۔کرئہ ارض پر حق و انصاف کی پاسبانی اور جہالت و غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے ہر دور میں ان کی فیصلہ کن حیثیت مسلم رہی ۔جن کے سامنے طاغوتی قوتیں سسکتی ہوئی نظر آتی تھیں ۔یہ نو جوان تاریخ میں کبھی خالد بن ولید بن کر ابھرے جنہوں نے زمین کے بے شمار خطوں کو کفر و شرک کی تاریکیوں اور ظالموں کے پنجوں سے آزاد کر کے بقعۂ نور اور امن و سکون کی جنت بنا دیا تھا۔کبھی یہی نو جوان طارق بن زیاد کی شکل میں اسپین کی وادیوں میں گلشن اسلام کو سجایا تھا ،کبھی قتادہ ابن مکرمہ کی شکل میں افریقہ کے صحرائوں میں پرچمِ اسلام کو بلند کیا تھا ،کبھی محمد بن قاسم اور محمود غزنوی بن کر ابھرا۔ تو حدودِ عرب سے تجاوز کر کے سرزمین ہند تک اسلام کی خوشبو کو پھیلا دیا تھا۔بھارت کی سرزمین پر ظالمانہ و مشرکانہ تمدن کے استیلاء کے لئے قوم و ملت کے نو جوانوں کے اندر دعوت وجہاد کی روح پھونکنے کا سہراء بھی نوجوان محمد بن قاسم کے سر بندھتا ہے۔اور ٹیپو سلطان شہید نے قوم و ملت کی حفاظت کی خاطر انگریزوں کے خلاف جہاد کر کے جام شہادت نوش فرماکر قربانیوں کی قندیل روشن کی تھی۔اور بھارت کو مغرور برطانوی استعمار کے ظالمانہ پنجوں سے آزاد کرانے والے وہ مسلم جیالے نو جوان ہی تھے جن کے جذبۂ جہاد کے سبب برِّ صغیر میں برطانوی استعمار کا خاتمہ ہوا ۔

الغرض کرئہ ارض پر جب بھی کوئی عظیم انقلاب برپا ہوا تو نو جوانوں سے، اور تاریخ شاہد عدل ہیکہ ملت کے نوجوان جب بیدارہوتے ہیں تو تمام طاغوتی قوتیں بے بس ہو کر ان کے قدموں میں سسکتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔آج بھی سارے مذاہبِ باطلہ کو اس بات کا اعتراف اور یقینِ کامل ہے کہ مسلم نوجوانوں کے اندر ایک ایسا جوہر موجود ہے جو بھڑک اٹھنے پر دنیا کے کفر وشرک کے تمام طلسمی کارخانوں کو چشمِ زدن میں خاکستر کر سکتا ہے ۔

لیکن جب نوجوان ہی سوجائے اور مذہبی شعور اور ولولۂ جہاد اس سے مفقود ہوجائے تو پھر پوری ملت ذلت ورسوائی کے عمیق غار میں ڈھکیل دی جاتی ہے معاشی اور تعلیمی میدان میں اسے مفلوج کردیا جاتا ہے۔ 

مسلم نوجوانوں کی حالت اور ان کا مستقبل 

بھارت کی سرزمین پر مسلم نو جوانوں کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ ان کا مستقبل دن بہ دن اس قدر بھیانک ،مشکو ک و مایوس کن ہوتا جارہا ہے کہ ایک حساس درد مند مسلمان جب اس کا احساس کرتا ہے تو اس کا کلیجہ منھ کو آتا ہے دل کانپ جاتا ہے۔ آج دنیا کی رنگینیاں ،دلفریبیاں ،اور دل آویزیاں نوجوانوں کو اپنے دام فریب میں مبتلا کرچکی ہیں اور خواہشات نفسانیہ کی پیروی میں شراب وکباب اور طائوس ورباب کی محفلیں منعقد کرنا نیز قتل وخون ریزی کے ذریعہ فضاء انسانی کو مکدر کرنا انکی زندگی کا اہم مشغلہ بن گیا ہے، تمام اخلاقی بے راہ رویاں، قحبہ خانوں کی گرم بازاری ،مے خانوں کی رونق، انہیںکے دم خم سے ہے ۔ظلم واستبداد، آپسی اختلاف وانتشار سے ان کا معاشرہ زہر آلود ہوچکا ہے دولت دنیا کی حرص وآرزو میں ایمان وعمل کا جنازہ نکال کر اپنے ذاتی مفادات کی خاطر پوری ملت کا سودا کرنے پر آمادہ ہیں اور حال یہ ہے کہ دشمن قومیں ان کی ذلت ورسوائی اور تباہی وبربادی کے بھیانک منصوبے تیار کرچکی ہیں بلکہ ان کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش بڑی تیزی سے جاری ہے فرقہ پرست طاقتیں،ہندوستان کو بھگوا رنگ میں رنگ کر سر زمین ہند سے مسلمانوں کا صفایا کرنا چاہتی ہیں اور مسلمان ہیں کہ سیاست کے بازی گروں کے جال میں پھنس کر سیاست کے دو پاٹوں میں پس رہے ہیں اور اپنے دینی وملی توانائیوں کو ضائع وبرباد کرکے خاموش تماشائی بن بیٹھے ہیں ۔آج مسلم نو جوانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اب تک انہوں نے اپنی زندگی کا خطوط عمل Line of Action متعین نہیں کیا اور یہ امر مسلم ہے کہ جب قومیں فکری انحطاط وزوال کا شکار ہوجاتی ہیں۔ تو متعدد افکار کا شکار ہوکرذلت ونکبت کے عمیق غار میں گرتی چلی جاتی ہیں ان کا کوئی مددگار وپرسان حال نہیں ہوتا اسی بھیانک منظر کا احساس کرتے ہوئے شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے اپنی قوم کو بیدار کرنے کیلئے یہ صدا بلند کی تھی ؎

قوت فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے 

پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے

میں پورے وثوق اور اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آج بھی ملت کے نوجوان زندگی کے خطوطِ عمل متعین کرلیں تو یقینا وہ ایک پائیدار اور روشن مستقبل سے ہمکنار ہوکر اپنا کھویا ہوا وقار پھر سے حاصل کرسکتے ہیں۔

حالات ومصائب اور مشکلات زمانہ کے سامنے سر تسلیم خم کردینا بہانہ بازی اور عذر لنگ سے بزدلی کا مظاہرہ کرنا یہ امت مسلمہ کے غیور نوجوانوں کا کام نہیں ہے یہ تو اپنی ماں اور بہنوں کی عزت وآبرو کو بر سر بازار نیلام کرنے والی ایک بزدل وذلیل قوم کا کام ہے جس کے پاس کوئی تابناک مستقبل اور کوئی ٹھوس وپائیدار منصوبہ نہیں ہوتا ہے ۔

نوجوانوں سے! ہمارا ایک پر وقار چہرہ ہے، ہمارے سامنے ایک روشن مستقبل ہے ،ہمارا اپنا دعوتی مشن بھی ہے اور رفاہ عام کے بہت سارے کام ہیں ۔ہمیں قومی ،ملکی،اور مذہبی ترقیات اور اس کی نشر واشاعت کے لئے مؤثر و پائیدار منصوبے اور لائحہ عمل تیار کرنا ہے،۔عقائد اہلسنت کی روشنی میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر اتحاد واستحکام پیدا کرکے تحقیق وتجسس کے جذبہ کو مہمیز لگانا ہے ۔ سیاسی وملی شعور کو بیدار کرکے قوم کو اپنے اہم و اعلیٰ مقصد کیلئے ذہنی اور عملی طور پر تیار کرنا ہے ۔ تاکہ ہماری پوری قوم مغربی تہذیب و ثقافت کی یلغار سے محفوظ ہوجائے اور دلوں میں عشق رسول اکی شمع روشن کرکے جادئہ مستقیم پرگامزن ہوجائے ۔

ملت کیلئے لمحۂ فکریہ :۔ملک کے طول وعرض میں بے شمار مدارس دینیہ وادارے چل رہے ہیں جہاں سے ہرسال ہزاروں کی تعداد میں عالم دین ،حافظ قرآن اور مفتیان عظام فارغ ہورہے ہیں جو قوم کی بنیادی ضروریات کو اپنی استطاعت کے مطابق پورا بھی کررہے ہیں اور کسی حد تک اپنے دعوتی مشن میں کامیاب بھی ہیں ۔ لیکن باوجود اس کے ایک سوال ہمارے ذہنوں میں کانٹا بن کر ابھرتا ہے ۔ کہ کیا اب تک بھارت کی اس سرزمین پر ملت اسلامیہ معاشی، تعلیمی اور سیاسی میدان میں عزت وآبرو کی زندگی گزار نے کے قابل بن سکی ہے ؟ کیا آج ہماری ملت کو ڈاکٹر ،انجینیئر اور جدید ٹیکنا لوجی کے ماہرین کی ضرورت نہیں ہے ؟کیا ہم باطل قوموں کے سامنے آبرو مندانہ زندگی گزار نے کیلئے سائنس ریاضیات اور معاشیات کی تعلیم سے مستغنی ہیں ؟ہرگز نہیں ، تمہیں ہر دانشور درد مند مسلمان کے دل سے یہی جواب ملے گا کہ آج ہماری قوم کو ماہر ڈاکٹر اور انجینیئروں کی بھی ضرورت ہے ۔صحیح اسلامی عقائد و نظریات کے حامل سائنس دانوں کی بھی ضرورت ہے۔ عصری علوم اور جدید ٹیکنا لوجی کے میدان میں ہمیں بے پناہ محنت ومشقت کی ضرورت ہے تا کہ ہم اپنے ملک کی تعمیر وترقی میں دوسری قوموں سے ایک قدم آگے ہی رہیں ۔

لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج عیسائی مشنریاں تعلیم کے میدان میں اس قدر آگے بڑھ گئی ہیں کی ڈھائی فیصد سے کم آبادی ہونے کے باوجود اٹھانوے فیصد لوگوں پر حکمرانی کر رہی ہیں۔اور ہمار ے بچے ان کی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔ بلکہ طُرفہ تماشہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو ان کے کالجوں میں ایڈمیشن کیلئے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔مگر پھر بھی اکثرانہیں ذلت ورسوائی کے ساتھ یہ کہہ کرواپس لوٹادیا جاتا ہے کہ تم مسلمان ہو ۔ تمہارا ایڈمیشن نہیں ہوگا ۔اور اگر کہیں داخلہ کی صورت نظر آتی بھی ہے تو لاکھوں روپئے رشوت میں دینے پڑتے ہیں ۔ نیز ان کی درسگاہوں میں پڑھنے والے ہر اسٹوڈینٹ کو ان کے مذہبی رسوم پر عمل کرنے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔ کیا یہ ملت کے سربرآوردہ شخصیتوں کیلئے لمحۂ فکریہ نہیں ہے ہماری قوم کا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے ،کیا ہم اب بھی نہ بیدار ہوں گے ؟ کاش ہم نے ملت اسلامیہ کی دینی وعصری ضرورتوں کا احساس کرکے اس سلسلہ میں مؤثر اقدام وپیش رفت کی ہوتی تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔

آج جب کہ ایک طرف عالمی سطح پر اٹھنے والے الحادی نظریہ(اشتراکیت)کے ساتھ پروان چڑھنے والی فرقہ پرست تنظیمیں ،مفسد و تخریب کار اسرائیلی یہودیوں سے ٹریننگ حاصل کر کے بھارت میں آباد مسلمانوں کو دین وسنت سے متنفر کر کے ان کے قلوب و اذھان میں اپنے ناپاک اثرات مرتب کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔اور شیطانی جال میڈیا کے ذریعہ نو جوانوں کے اخلاق کو بگاڑنے کے لئے بے حیائی،حرام کاری،فضول خرچی،عیاشی اور نسلِ انسانی کو برباد کرنے کی نا پاک فلمیں اور ڈرامے پیش کر رہے ہیں تا کہ مسلم نو جوانوں کے اخلاق بگڑ جائیں اور ان کے اندر موجود روحِ جہاد مردہ ہو جائے۔

اور دوسری طرف بنام اسلام گمراہ کن جماعتیں انٹرنیٹ اور ٹی وی چینل کے ذریعہ پوری دنیا میں اپنے باطل عقائد و نظریات کو پیش کر رہے ہیں اور اہل سنت و جماعت کے خلاف محاذ بنا کر خصو صاََ نو جوانوں کے سینوں سے عشقِ مصطفیٰ ا کی شمع کو بجھانے کی ناپاک کوششیں کر رہے ہیں۔

ایسے سنگین حالات میں ہماری ذمہ داری کس قدر بڑھ گئی ہے ہم سب کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں چاہئے کہ اپنے ذاتی اختلافات اور باہمی رسہ کشی کو بالائے طاق رکھ کر ایک مضبوط و منظم تحریک کے ذریعہ ہر باطل کا مقابلہ کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں ۔اعلاء کلمۃ اللہ اور احیائے سننِ رسول اللہ ﷺ کے لئے اخلاص و للّٰہیت کے جذبے سے سرشارہو کر تن من دھن کی قربانی دینے کے لئے تیار ہو جائیں۔مذہب حق ،مسلک اعلیحضرت کی نورانی مشعل لے کر تعلیمی ،معاشی،سیاسی ہر میدان میں پوری محنت و جانفشانی کے ساتھ ٹھوس و پائیدار کام کریں۔ 

انہیں مقاصد کے پیشِ نظر اہل سنت و جماعت کی ترجمان عالمی تحریک سُنّی دعوتِ اسلامی وجود میں آئی ۔ سنی دعوت اسلامی، مسلک اعلیحضرت کی سچی ترجمان کا نام ہے جو ایک طرف اپنے اندر مذاہبِ باطلہ کے شیطانی منصوبوں کو خاک میں ملانے کی طاقت بھی رکھتی ہے تو دوسری طرف بیحیائی،حرامکاری،فضول خرچی،عیاشی اورنسلِ انسانی کی بربادی کے منصوبوں کا تریاق بھی رکھتی ہے ۔بحمدہٖ تعالیٰ یہ تحریک اسلاف کرام رحمہم اللّٰہ کے نقوش قدم پر چلتے ہوئے اہل سنت و جماعت کے تشخصات و امتیازات کو زندہ و تابندہ رکھنے کے لئے بے پناہ تگ و دَو کر رہی ہے۔عصری تقاضوں کے پیشِ نظر ملت کے نو جوانوں کو مسلکِ حق سے وابستہ کرتے ہوئے عصری علوم کے ہر میدان میں آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ملت کے غیور نو جوانوں سے مؤ دبانہ اپیل ہے کہ مسلکی ذمہ داریوں کا احسا س کرتے ہوئے،مذہب و مسلک کی اشاعت کے لئے بیدار ہو جائیں اور تحریک سنی دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہو جائیں ،یہ تحریک تمہیں آواز دے رہی ہے کہ مصائب و آلام پر آہ و فغاں اور نا مساعد حالات کا شکوہ نہ کرو بلکہ اللہ عز وجل اور اس کے حبیب ا کی رضا کے طالب ہو کر اپنے مذہبی درسگاہوں کے استحکام،اصلاحِ معاشرہ اور اہل سنت کے تشخصات اور امتیازات کو بر قرار رکھنے کی خاطر بیدار ہو جائو ۔ 

کیا سحر لائے گی پیغام بیداری شبستاں میں

نقاب رخ الٹ دو خود سحر بیدار ہو جائے 

٭٭٭