حدیث نمبر :579

روایت ہے حضرت جابربن سمرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں تمہاری ہی نمازوں کی طرح پڑھتے تھے ۲؎ لیکن عشاءکی نماز تمہاری نمازسے کچھ دیرمیں پڑھتے تھے۳؎ اورنمازہلکی پڑھتے تھے۴؎(مسلم)

شرح

۱؎ آپ خودبھی صحابی ہیں،والدبھی صحابی،حضرت سعدابن ابی وقاص کے بھانجے ہیں،کوفہ میں قیام رہا، ۶۴ھ؁ یا ۶۶ھ؁ میں وفات پائی۔

۲؎ یہ تابعین سے خطاب ہے،یہ حضرات آپ سے حضورکی نمازکے اوقات پوچھتے تھے تو آپ یہ جواب دیتے تھے کہ تم نمازیں صحیح وقت پر پڑھ رہے ہوحضوربھی ان ہی اوقات میں پڑھتے تھے۔

۳؎ خیال رہے کہ عشاءکوعتمہ کہنا منع ہے۔یا توحضرت جابرکو اس ممانعت کا علم نہیں ہوایاوہ لوگ عشاءکا مطلب سمجھتے نہ تھے،عتمہ کہنے سے سمجھتے تھے،جیسے پنجاب کے دیہاتی عصرکو دیگر،اورعشاءکو خفتاں کہنے سے سمجھتے ہیں۔

۴؎ یعنی جب نمازپڑھاتے تو ہلکی کرتے اپنی اکیلی نماز بہت دراز پڑھتے تھے جیسےتہجد وغیرہ اوریہ بھی اکثری ہے،ورنہ کبھی حضورنے مغرب میں سورۂ اعراف پڑھی ہے مگرکتنی ہی درازپڑھتے صحابہ کوہلکی معلوم ہوتی۔