أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ لَئِنۡ جَآءَتۡهُمۡ اٰيَةٌ لَّيُؤۡمِنُنَّ بِهَا‌ ؕ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰيٰتُ عِنۡدَ اللّٰهِ‌ وَمَا يُشۡعِرُكُمۙۡ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے پکی قسمیں کھائیں کہ اگر انکے پاس کوئی نشانی آگئی تو وہ ضرور اس پر ایمان لائیں گے، آپ کہیے کہ نشانیاں تو صرف اللہ کے پاس ہیں اور (اے مسلمانو ! ) تمہیں کیا معلوم کہ جب یہ نشانیاں آجائیں گی تو یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے پکی قسمیں کھائیں کہ اگر انکے پاس کوئی نشانی آگئی تو وہ ضرور اس پر ایمان لائیں گے، آپ کہیے کہ نشانیاں تو صرف اللہ کے پاس ہیں اور (اے مسلمانو ! ) تمہیں کیا معلوم کہ جب یہ نشانیاں آجائیں گی تو یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ (الانعام : ١٠٩) 

فرمائشی معجزات نہ دکھانے کی وجہ : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت میں ایک شبہ بیان کیا ‘ پھر اس کے جوابات دیئے اور اس میں آپ کی نبوت میں ان کا دوسرا شبہ بیان فرمایا ہے۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا اے محمد ! آپ ہمیں یہ خبر دیتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ایک لاٹھی تھی جس کو انہوں نے پتھر پر مارا تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے ‘ اور آپ خبر دیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے اور آپ خبر دیتے ہیں کہ ثمود کے پاس ایک اونٹی تھی تو آپ بھی ان معجزات میں سے کوئی معجزہ پیش کریں ‘ تاکہ ہم آپ کی تصدیق کریں ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہیں کس قسم کا معجزہ دکھاؤں ؟ انہوں نے کہا آپ ہمارے لیے صفا پہاڑ سونے کا بنادیں۔ آپ نے پوچھا اگر میں نے ایسا کردیا تو تم میری تصدیق کرو گے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! بخدا اگر آپ نے ایسا کردیا تو ہم سب آپ کی اتباع کریں گے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور کہا آپ کو اختیار ہے اگر آپ چاہیں تو صبح کو یہ پہاڑ سونے کا ہوجائے گا اور اگر یہ معجزہ پیش کردیا گیا اور یہ پھر بھی ایمان نہیں لائے تو ہم ان سب کو عذاب دیں گے اور اگر آپ چاہیں تو آپ انکو چھوڑ دیں ‘ حتی کہ ان میں سے توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔ آپ نے فرمایا بلکہ ان میں سے توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرلی جائے۔ تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٤٠٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 109