أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدۡوًاۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ‌ؕ كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمۡ ۖ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمۡ مَّرۡجِعُهُمۡ فَيُنَبِّئُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور (اے مسلمانو ! ) تم ان کو برا نہ کہو جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں ورنہ یہ بےعلمی اور جہالت سے اللہ کو برا کہیں گے، ہم نے اسی طرح ہر قوم کے لیے اس کا علم مزین کردیا ہے، پھر انہوں نے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے ‘ پھر وہ انکو خبر دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مسلمانو ! ) تم ان کو برا نہ کہو جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں ورنہ یہ بےعلمی اور جہالت سے اللہ کو برا کہیں گے، ہم نے اسی طرح ہر قوم کے لیے اس کا علم مزین کردیا ہے، پھر انہوں نے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے ‘ پھر وہ انکو خبر دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے تھے۔ (الانعام : ١٠٨) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ معاملہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے : 

اس آیت کا بھی اس سابق آیت کے ساتھ ربط ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے کفار کا یہ شبہ بیان فرمایا تھا کہ انہوں نے اہل علم کی باتیں سن سن فقرے بنا لیے ہیں اور یہ قرآن جمع کرلیا ہے اور اس وقت یہ بعید نہیں تھا کہ مسلمان اس بات کو سن کر مشتعل ہوتے اور بطور معارضہ کے ‘ کفار کے بتوں کو برا کہتے۔ اس لیے پیش بندی کے طور پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار کے بتوں کو برا کہنے سے منع فرمایا ‘ تاکہ کفار اس کے جواب میں اپنی جہالت سے مسلمانوں کے خدا کو برا نہ کہنے لگیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کسی جاہل سے سابقہ ہو تو انسان اس کو کوئی سخت بات نہ کہے ‘ ورنہ وہ اس سے بھی زیادہ سخت بات کہے گا۔ 

امام ابو جع فرمحمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ مسلمان کفار کے بتوں کو برا کہتے تھے ‘ تو کفار اس کا معارضہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو برا کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو منع فرمایا تم انکے بتوں کو برا نہ کہو ‘ ورنہ وہ اپنی جہالت سے تمہارے خدا کو برا کہیں گے۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٤٠٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

اس روایت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ کفار مکہ اور قریش اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے اور اس کی تعظیم کرتے تھے اور بتوں کی عبادت بھی اس لیے کرتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کی شفاعت کریں ‘ تو ان سے یہ کس طرح متصور ہے کہ وہ اللہ کو برا کہتے۔ 

اس کا جواب یہ ہے کہ جب مسلمان بتوں کو برا کہتے تھے تو دراصل کفار اس کے جواب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برا کہتے تھے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برا کہنا ‘ اللہ تعالیٰ کو برا کہنا قرار دیا ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے نائب مطلق ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کوئی معاملہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ کرنا ہے ‘ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ “۔ (الفتح : ١٠) 

ترجمہ : بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ دراصل اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ 

اسی طرح جب ستر انصار نے عقبہ ثانیہ کے موقعہ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا جب ہم اپنی جانوں اور مالوں کو آپ کی اطاعت میں خرچ کریں تو ہمیں اس کے عوض کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جنت تو یہ آیت نازل ہوئی : 

(آیت) ” ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ “۔ (التوبہ : ١١١) 

ترجمہ : بیشک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے انکی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلہ میں خریدلیا۔ 

(آیت) ” ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والاخرۃ واعدلھم عذابا مھینا “۔ (الاحزاب : ٥٧ )

ترجمہ : بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچاتے ہیں ‘ اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ایذا پہنچانا متصور نہیں ہے ‘ دراصل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا دینا ہی اللہ تعالیٰ کو ایذا دینا ہے۔ 

(آیت) ” یخدعون اللہ والذین امنوا “۔ (البقرہ : ٩) 

ترجمہ : وہ اللہ کو اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ 

وہ اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے ‘ ان کا اختلاف صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تھا۔ ان کے نزدیک بھی اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینا ممکن نہ تھا ‘ وہ اپنے زعم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکا دیتے تھے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکا دینا اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینا ہے : 

(آیت) ” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “۔ (النساء : ٨٠) 

ترجمہ : جس نے رسول کی اطاعت کی ‘ اس نے اللہ کی اطاعت کرلی۔ 

ان آیات سے واضح ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیعت کرنا اللہ تعالیٰ سے بیعت کرنا ہے۔ آپ کا خریدنا ‘ اللہ کا خریدنا ہے ‘ آپ کو ایذاء دینا اللہ کو ایذا دینا ہے ‘ آپ کو دھوکا دینا ہے اور آپ کو اطاعت کرنا اللہ کو اطاعت کرنا ہے اور جب آپ کے ساتھ کوئی معاملہ اللہ کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے ‘ تو آپ کو برا کہنا اللہ کو برا کہنا ہے۔ اس لیے بتوں کو برا کہنے کے جواب میں کفار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برا کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا تم ان کے بتوں کو برا نہ کہو ورنہ وہ اللہ کو برا کہیں گے۔ 

امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اور دیگر مفسرین نے اس آیت کے شان نزول میں اس روایت کا بھی ذکر کیا ہے۔ 

جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو قریش نے کہا ان کے پاس چلو اور ان سے کہو کہ وہ اپنے بھتیجے کو منع کریں ‘ کیونکہ ہم کو اس سے حیا آتی ہے کہ ان کی موت کے بعد ہم انکے بھتیجے کو قتل کریں۔ لوگ کہیں گے کہ وہ اپنے بھتیجے کا دفاع کرتے تھے اور ان کے مرنے کے بعد انہوں نے ان کے بھتیجے کو قتل کردیا۔ تب ابو سفیان ‘ ابو جہل ‘ نضر بن الحارث ‘ امیہ بن خلف ‘ عقبہ بن ابی معیط ‘ عمرو بن العاص اور الاسود بن البختری نے ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے ملاقات کی اجازت طلب کی۔ جب اجازت مل گئی تو انہوں نے کہا اے ابو طالب ! تم ہمارے بڑے اور ہمارے سردار ہو اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں اور ہمارے خداؤں کو اذیت پہنچاتے ہیں ‘ ہم یہ چاہتے ہیں کہ تم بلا کر ان سے کہو کہ وہ ہمارے خداؤں کا ذکر نہ کیا کریں ‘ ابو طالب نے آپ سے کہا آپ کی قوم نے انصاف کی بات کی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں سے فرمایا یہ بتاؤ اگر میں ایسا کرلوں تو کیا تم مجھے ایک ایسا کلمہ دو گے کہ اگر تم وہ کلمہ پڑھ لو تو تم عرب کے مالک ہوجاؤ گے اور عجم کے لوگ تمہارے باجگزار ہو اجائیں گے۔ ابو جہل نے کہا ہاں ! تمہارے باپ کی قسم ہم تم کو ضرور وہ کلمہ دیں گے ‘ بلکہ اس کا دس گنا دیں گے۔ بتاؤ وہ کلمہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا تم کہو ” لا الہ الا اللہ “ انہوں نے اس کو پڑھنے سے انکار کردیا۔ ابو طالب نے کہا اے بھتیجے ! کوئی اور بات کہو ‘ تمہارے قوم اس کلمہ سے بدکتی ہے ‘ آپ نے فرمایا اے میرے چچا میں اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں کہوں گا۔ حتی کہ یہ سورج کو لا کر میرے ہاتھ پر رکھ دیں اور اگر انہوں نے سورج کو لا کر میرے ہاتھ پر رکھ دیا ‘ تب بھی میں اس کلمہ کے سوا اور کچھ نہیں کہوں گا۔ تب وہ غضبناک ہوگئے اور کہنے لگے آپ ہمارے بتوں کو برا کہنے سے باز آجائیں ‘ ورنہ ہم آپ کو بھی برا کہیں گے اور جو آپ کو حکم دیتا ہے اس کو بھی برا کہیں گے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (جامع البیان ‘ جز ٧‘ ص ٤٠٤‘ تفسیر امام ابن ابی حاتم ‘ ج ٤‘ ص ١٣٦٧‘ تفسیر ابن کثیر ‘ ج ٣‘ ص ٧٩۔ ٧٨) 

سد ذرائع کی بناء پر بتوں کو برا کہنے کی ممانعت : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں کفار کے خداؤں کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ یہ حکم اس امت میں ہرحال میں باقی ہے ‘ لہذا جب تک کافر اپنی حفاظت میں ہو اور یہ خدشہ ہو کہ وہ اسلام کو یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا اللہ عزوجل کو برا کہے گا ‘ تو کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ان کی صلیب کو یا ان کے دین کو یا ان کی عبادت گاہوں کو برا کہے ‘ اور نہ کسی ایسے کام کے درپے ہو جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برا کہیں ‘ کیونکہ یہ معصیت پر ابھارنے کے قائم مقام ہے۔ 

اس آیت میں یہ دلیل بھی ہے کہ جو کام کسی برائی کا ذریعہ بنے ‘ اس کو روکنا اور اس کا نہ کرنا واجب ہے اور اس میں یہ بھی دلیل ہے کہ بعض اوقات کسی حقدار کو اس کا حق وصول کرنے سے اس لیے روک دیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے دین میں کسی ضرر کے پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ علامہ ابن العربی نے کہا ہے کہ اگر حق واجب ہو تو اس کو ہرحال میں وصول کرے اور اگر جائز ہو تو پھر اس میں یہ قول ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے اسی قوم کے لیے اس کا عمل مزین کردیا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اطاعت گزاروں کے لیے اطاعت کو مزین کردیا ہے اور کافروں کے لیے مزین کردیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 108