أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ اَنَّـنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الۡمَوۡتٰى وَ حَشَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ كُلَّ شَىۡءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ يَجۡهَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر ہم انکی طرف فرشتوں کو بھی نازل کرتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور ہم ہر چیز کو انکے سامنے جمع کردیتے تب بھی وہ ایمان نہ لاتے، سوائے اس کے کہ اللہ کی مشیت ہوتی لیکن ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر ہم انکی طرف فرشتوں کو بھی نازل کرتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور ہم ہر چیز کو انکے سامنے جمع کردیتے تب بھی وہ ایمان نہ لاتے، سوائے اس کے کہ اللہ کی مشیت ہوتی لیکن ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الانعام : ١١١) 

اللہ تعالیٰ کا مطلوب بندوں کا اختیار ایمان ہے : 

اس سے پہلے ١٠٩ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا تھا تمہیں کیا معلوم کہ جب یہ نشانیاں آجائیں گی تو یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ (الانعام : ١٠٩) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی کی تفصیل بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام مطلوبہ معجزات فراہم کر دے ‘ بلکہ اس سے بھی زیادہ مہیا کر دے ‘ کہ فرشتے نازل کر دے گا اور مردے ان سے کلام کریں ‘ بلکہ ہر چیز ان کے سامنے جمع کرکے پیش کردی جائے تو یہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ ایمان صرف وہی لوگ لاسکتے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پہلے ایمان لانا مقدر کردیا تھا اور جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ وہ اپنے اختیار سے ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایمان مقدر نہیں کیا ‘ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ‘ یہ لوگ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس حد کو پہنچ چکے ہیں کہ اب اگر اللہ تعالیٰ ان میں جبرا ایمان پیدا کردے ‘ یہ تبھی ایمان لائیں گے ‘ لیکن یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے۔ 

یہ واضح رہے کہ ہم جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے اپنے اختیار سے ایمان لائیں اور وہ کسی میں جبرا ایمان پیدا نہیں کرنا چاہتا ‘ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بندے اپنے ایمان کے خالق ہیں جیسا کہ معتزلہ کا مذہب ہے ‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بندے اپنے اختیار سے ایمان لانے کا ارادہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان میں ایمان پیدا کردیتا ہے ‘ بندہ کسب اور ارادہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ خلق اور پیدا کرتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 111