وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ-وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًاؕ-وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْؕ-لَىٕنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۚ-فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ(۱۲)

اور بے شک اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا (ف۳۹) اور ہم نے اُن میں بارہ سردار قائم کیے(ف۴۰) اور اللہ نے فرمایا بے شک میں (ف۴۱) تمہارے ساتھ ہوں ضرور اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو اور اللہ کو قرض حسن دو (ف۴۲) توبے شک میں تمہارے گناہ اُتاردوں گا اور ضرور تمہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں پھر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے وہ ضرور سیدھی راہ سے بہکا (ف۴۳)

(ف39)

کہ اللہ کی عبادت کریں گے ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے ، توریت کے احکام کا اِتّباع کریں گے ۔

(ف40)

ہر سبط (گروہ) پر ایک سردار جو اپنی قوم کا ذمّہ دار ہو کہ وہ عہد وفا کریں گے اور حکم پر چلیں گے ۔

(ف41)

مدد و نصرت سے ۔

(ف42)

یعنی اس کی راہ میں خرچ کرو ۔

(ف43)

واقعہ یہ تھا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے وعدہ فرمایا تھا کہ انہیں اور ان کی قوم کو ارضِ مقدَّسہ کا وارث بنائے گا جس میں کنعانی جبّار رہتے تھے تو فرعون کے ہلاک کے بعد حضرت موسٰی علیہ السلام کو حکمِ الٰہی ہوا کہ بنی اسرائیل کو ارضِ مقدَّسہ کی طرف لے جائیں ، میں نے اس کو تمہارے لئے دار و قرار بنایا ہے تو وہاں جاؤ اور جو دشمن وہاں ہیں ان پر جہاد کرو ، میں تمہاری مدد فرماؤں گا اور اے موسٰی تم اپنی قوم کے ہر ہر سَبط میں سے ایک ایک سردار بناؤ اس طرح بارہ سردار مقرر کرو ہر ایک ان میں سے اپنی قوم کے حکم ماننے اور عہد وفا کرنے کا ذمّہ دار ہو ، حضرت موسٰی علیہ السلام سردار منتخب کر کے بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہوئے ، جب اَرِیحاء کے قریب پہنچے تو ان نقیبوں کو تجسُّسِ احوال کے لئے بھیجا ، وہاں انہوں نے دیکھا کہ لوگ بہت عظیم الجُثَّہ اور نہایت قوی و توانا صاحبِ ہیبت و شوکت ہیں ، یہ ان سے ہیبت زدہ ہو کر واپس ہوئے اور آ کر انہوں نے اپنی قوم سے سب حال بیان کیا باوجودیکہ ان کو اس سے منع کیا گیا تھا لیکن سب نے عہد شکنی کی سوائے کالب بن یوقنا اور یوشع بن نون کے کہ یہ عہد پر قائم رہے ۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚ-یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖۙ-وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖۚ-وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۳)

تو اُن کی کیسی بدعہدیوں (ف۴۴) پر ہم نے انہیں لعنت کی اور اُن کے دل سخت کردئیے اللہ کی باتوں کو (ف۴۵) ان کے ٹھکانوں سے بدلتے ہیں اور بھلا بیٹھے بڑا حصہ اُن نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں(ف۴۶) اور تم ہمیشہ ان کی ایک نہ ایک دغا پر مطلع ہوتے رہو گے (ف۴۷) سوا تھوڑوں کے (ف۴۸) تو انہیں معاف کردو اور اُن سے درگزرو (ف۴۹) بے شک احسان والے اللہ کو محبوب ہیں

(ف44)

کہ انہوں نے عہدِ الٰہی کو توڑا اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد آنے والے انبیاء کی تکذیب کی اور انبیاء کو قتل کیا ، کتاب کے احکام کی مخالفت کی ۔

(ف45)

جن میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صفت ہے اور جو توریت میں بیان کی گئیں ہیں ۔

(ف46)

توریت میں کہ سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کا اِتّباع کریں اور ان پر ایمان لائیں ۔

(ف47)

کیونکہ دغا و خیانت و نقضِ عہد اور رسولوں کے ساتھ بدعہدی ان کی اور ان کے آباء کی قدیم عادت ہے ۔

(ف48)

جو ایمان لائے ۔

(ف49)

اور جو کچھ ان سے پہلے سرزد ہوا اس پر گرفت نہ کرو ۔

شانِ نُزول : بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ یہ آیت اس قوم کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کیا پھر توڑا پھر اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع فرمایا اور یہ آیت نازل کی ، اس صورت میں معنٰی یہ ہیں کہ ان کی اس عہد شکنی سے درگزر کیجئے جب تک کہ وہ جنگ سے باز رہیں اور جزیہ ادا کرنے سے منع نہ کریں ۔

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ۪-فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِؕ-وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ(۱۴)

اور وہ جنہوں نے دعوٰی کیا کہ ہم نصارٰی ہیں ہم نے ان سے عہد لیا (ف۵۰) تو وہ بھلا بیٹھے بڑا حصہ ان نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں (ف۵۱) تو ہم نے ان کے آپس میں قیامت کے دن تک بَیر(دشمنی )اور بغض ڈال دیا (ف۵۲) اور عنقریب اللہ انہیں بتادے گاجو کچھ کرتے تھے(ف۵۳)

(ف50)

اللہ تعالٰی اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کا ۔

(ف51)

انجیل میں اور انہوں نے عہد شکنی کی ۔

(ف52)

قتادہ نے کہا کہ جب نصارٰی نے کتابِ الٰہی (انجیل) پر عمل کرنا ترک کیا اور رسولوں کی نافرمانی کی ، فرائض ادا نہ کئے ، حدود کی پروا نہ کی تو اللہ تعالٰی نے ان کے درمیان عداوت ڈال دی ۔

(ف53)

یعنی روزِ قیامت وہ اپنے کردار کا بدلہ پائیں گے ۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ ﱟ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۵)

اے کتاب والو (ف۵۴) بے شک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (ف۵۵) تشریف لائے کہ تم پر ظاہر فرماتے ہیں بہت سی وہ چیزیں جو تم نے کتاب میں چھپا ڈالی تھیں(ف۵۶) اور بہت سی معاف فرماتے ہیں (ف۵۷) بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا (ف۵۸) اور روشن کتاب(ف۵۹)

(ف54)

یہودیو و نصرانیو ۔

(ف55)

سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔

(ف56)

جیسے کہ آیتِ رجم اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اور حضور کا اس کو بیان فرمانا معجِزہ ہے ۔

(ف57)

اور ان کا ذکر بھی نہیں کرتے نہ ان پر مؤاخذہ فرماتے ہیں کیونکہ آپ اسی چیز کا ذکر فرماتے ہیں جس میں مصلحت ہو ۔

(ف58)

سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کو نور فرمایا گیا کیونکہ آپ سے تاریکیٔ کُفر دور ہوئی اور راہِ حق واضح ہوئی ۔

(ف59)

یعنی قرآن شریف ۔

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۱۶)

اللہ اس سے ہدایت دیتا ہے اُسے جو اللہ کی مرضی پر چلا سلامتی کے راستے اور انہیں اندھیریوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے اپنے حکم سے اور انہیں سیدھی راہ دکھاتا ہے

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَؕ-قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاؕ-وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَاؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۱۷)

بے شک کافر ہوئے وہ جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح بن مریم ہی ہے (ف۶۰) تم فرمادو پھر اللہ کا کوئی کیا کرسکتا ہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کردے مسیح بن مریم اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو (ف۶۱) اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی جو چاہے پیدا کرتا ہے اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے

(ف60)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نجران کے نصارٰی سے یہ مقولہ سرزد ہوا اور نصرانیوں کے فرقۂ یعقوبیہ و ملکانیہ کا یہ مذہب ہے کہ وہ حضرت مسیح کو اللہ بتاتے ہیں کیونکہ وہ حلول کے قائل ہیں اور ان کا اعتقادِ باطل یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے بدنِ عیسٰی میں حلول کیا معاذ اللہ ”و تعا لَی اللّٰہُ عَمَّایَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا” اللہ تعالٰی نے اس آیت میں حکمِ کُفر دیا اور اس کے بعد ان کے مذہب کا فساد بیان فرمایا ۔

(ف61)

اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی کچھ نہیں کر سکتا تو پھر حضرت مسیح کو اللہ بتانا کتنا صریح باطل ہے ۔

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗؕ-قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْؕ-بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَؕ-یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا٘-وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ(۱۸)

اور یہودی اور نصرانی بولے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں (ف۶۲) تم فرمادو پھر تمہیں کیوں تمہارے گناہوں پر عذاب فرماتا ہے (ف۶۳) بلکہ تم آدمی ہو اس کی مخلوقات سے جسے چاہے بخشتا ہے اور جسے چاہے سزا دیتا ہے اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور اُن کے درمیان کی اور اُسی کی طرف پھرنا ہے

(ف62)

شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اہلِ کتاب آئے اور انہوں نے دین کے معاملہ میں آپ سے گفتگو شروع کی ، آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور اللہ کی نافرمانی کرنے سے اس کے عذاب کا خوف دلایا تو وہ کہنے لگے کہ اے محمّد آپ ہمیں کیا ڈراتے ہیں ہم تو اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے اس دعوے کا بُطلان ظاہر فرمایا گیا ۔

(ف63)

یعنی اس بات کا تو تمہیں بھی اقرار ہے کہ گنتی کے دن تم جہنّم میں رہو گے تو سوچو کوئی باپ اپنے بیٹے کو یا کوئی شخص اپنے پیارے کو آ گ میں جلاتا ہے ، جب ایسا نہیں تو تمہارے دعوٰے کا کِذب و بُطلان تمہارے اقرار سے ثابت ہے ۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ٘-فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠(۱۹)

اے کتاب والو بے شک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (ف۶۴) تشریف لائے کہ تم پر ہمارے احکام ظاہر فرماتے ہیں بعد اس کے کہ رسولوں کا آنا مدتوں بند رہا تھا (ف۶۵)کہ تم کہوہمارے پاس کوئی خوشی اور ڈر سنانے والا نہ آیا تو یہ خوشی اور ڈر سنانے والے تمہارے پاس تشریف لائے ہیں اور اللہ کو سب قدرت ہے

(ف64)

محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ۔

(ف65)

حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک پانچ سو انہتّر برس کی مدّت نبی سے خالی رہی ۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کی منّت کا اظہار فرمایا جاتا ہے کہ نہایت حاجت کے وقت تم پر اللہ تعالٰی کی عظیم نعمت بھیجی گئی اور اس میں الزامِ حُجّت و قطعِ عذر بھی ہے کہ اب یہ کہنے کا موقع نہ رہا کہ ہمارے پاس تنبیہ کرنے والے تشریف نہ لائے ۔