حدیث نمبر :578

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات آخری عشاء کی نماز کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے ہوئے بہت بیٹھے ۱؎ آپ تب تشریف لائے جب تہائی رات گزر گئی یا اس کے بھی بعدہمیں خبرنہیں کہ حضورکوکسی کام نے اپنے گھرمیں روک رکھایاکچھ اورسبب تھا۲؎ جب تشریف لائے تو فرمایا کہ تم ایسی نماز کا انتظار کررہے ہوجس کا تمہارے سوا کوئی دین والا انتظار نہیں کررہا ہے۳؎ اگرمیری امت پرگراں نہ ہوتا تو میں ان کو یہ نماز اس ہی وقت پڑھایاکرتا۴؎ پھر مؤذن کو حکم دیا انہوں نے نمازکی تکبیرکہی اورنماز پڑھی۔(مسلم)

شرح

۱؎ خیال رہے کہ نماز پڑھنابھی عباد ت اورنماز کا انتظاربھی،خصوصًا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظارکرنابہترین عبادت ہے۔اس سے صحابہ کا ادب معلوم ہوا کہ وہ حضرات کبھی حضورکو نہ پکارکربلاتے تھے نہ نمازیوں کے جمع ہوجانے کی خبردیتے تھے،وہ سمجھتے تھے کہ خبیرکوخبردینا کیا،نیز قرآن کریم نے پکارکربلانے والوں کوبے عقل قراردیافرمایا ہے:” اِنَّ الَّذِیۡنَ یُنَادُوۡنَکَ”الخ۔صحابہ کرام حضورکونمازکے لئے جگاتے بھی نہ تھے۔

۲؎ کیونکہ نہ حضور نے دیرکی وجہ بتائی اور نہ بے ادبی کے خوف سے ہم نے پوچھی۔اس سے معلوم ہوا کہ مریدمرشدسے ہربات پوچھا نہ کرے صبرسے کام لیاکرے۔خضرعلیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ تم میرے کسی عمل پر سوال مت کرنا۔

۳؎ یعنی تمہارا یہ انتظاربھی عبادت ہے اور اس انتظار میں اب تک جاگنا،مسجد میں بیٹھنا،مشقت اٹھانا سب عبادت،اتنی عبادت کامجموعہ کسی نبی کونصیب نہیں ہوا۔اس حدیث کی بناءپربعض علماءفرماتے ہیں کہ عشاء عصر سے بھی افضل ہے۔

۴؎ معلوم ہورہاہے کہ بمقابلہ اوردن کے آج عشاءزیادہ دیر میں پڑھی گئی تھی،نماز پڑھانے سے مراد ان کو اس وقت پڑھنے کا حکم دیناہے۔