روحانیت بمقابلۂ مادیت

محمد زبیربرکاتی مصباحی

عطار ہو رومی ہو رازی ہو یا غزالی

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی

اس کائنات رنگ و بو میں اپنے گرد و پیش کا جائزہ لینے کے بعد ہمیں اس بات کا یقین کامل ہو جاتا ہے کہ انسانوں کے عروج وزوال میں اکثر روح و مادہ کے اثرات کار فرما رہے ہیں۔ تاریخ عالم بھی شاہد عدل ہے کہ قوموں کی ترقی و تنزلی کا اکثر وبیشتر دارو مدار روحانیت و مادیت پر رہا ہے ۔ آئیے اس چیز کو جاننے کی کوشش کریں کہ روحانیت وہ کون سا جوہر ہے جسکی بنیاد پر انسان اوج ثریا کی بلندی کو چھو لیتا ہے اور مادیت وہ کون سا سم قاتل ہے جس کی بنیاد پر انسان ذلت ونکبت کی کھائیوں میں گر کر تباہ ہو جاتا ہے ۔

یقیناروحانیت ہی اصل رونق حیات ہے ،اسی کے دم خم سے جسم انسانی میں حرارت ایمانی اور احساس عبودیت ہے ،فکر و شعور کی بلندی تحقیق و ایجاد کی قوت ،جس کی بنیاد پر بندئہ مومن قرب معبود کی لذتوں سے آشنا ہوتا ہے ، حریم قدس میں پہنچ کر مشاہد ئہ ر ب کے جلووں میں گم ہو جاتا ہے ،دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو کر معرفت و حقیقت کی راہوں پر گامزن ہو جاتا ہے آخر کاروہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس کے مبارک اعضاء سے رب قدیر وجبار کی قدرتوں کا ظہور ہونے لگتا ہے ،اسی کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے اللہ عزو جل کا ارشادگرامی ہے۔ وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ( القراٰن) ترجمہ : اورجنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے ۔ نیز حدیث قدسی سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ’’لا یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احببتہ فاذا احببتہ فکنت سمعہ الذی یسمع بہ و بصرہ الذی یبصر بہ ویدہ التی یبطش بہا ورجلہ التی یمشی بہا لان سئلنی لاعطینہ ۔ (مشکٰوۃشریف ۱۹۷ وبخاری شریف)

اسکے بر خلاف مادہ و مادیت پرستی انسانوں کو حقیقی عروج و ارتقاء اور فوز آخرت سے بہت دور کر دیتی ہے کیونکہ وہ دلوں کوحق سے غافل اور مردہ کر دیتی ہے۔

تصور عبودیت سے دور کر کے آزاد خیالی اور آزادی کے لالچ تو دے دیتی ہے مگر خواہشات نفسانیہ کی پیروی کے لئے شیطان کا غلام بنا دیتی ہے۔اسی لئے مالک حقیقی خدائے ذو الجلال نے اپنے کلام مقدس میںاس بات کی تنبیہ فرمائی۔’’وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَاقَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَاوَاتَّبَعَ ھَوَاہُ وَ کَانَ اَمْرُہُ فَرُطاً o‘‘اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیااور وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چلا۔اور اس کا کام حد سے گذر گیا۔

مادیت کا حامل اپنی کامیابی کے لئے اسباب پر بھروسہ کرتا ہے ۔ مگر روحانیت کا حامل خالق ِاسباب پر بھروسہ کرتاہے۔ وہ ماد پر بھروسہ نہیں کرتابلکہ خالق روح ومادہ پر بھروسہ کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جہاں مادی اسباب و وسائل دم توڑ دیتے ہیں وہیں سے روحانیت اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے پھر ایک عظیم انقلاب برپا ہوتا ہے ۔

بلا شبہ آج کا یہ دورعلم و آگہی ــ‘تحقیق و ایجاد ،اور سائنس کے عروج و ارتقاء کا دور ہے۔ماہرین سائنس نے تو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ نت نئے ایجادات کے انبار لگا دئیے ہیں قسم قسم کے آلات و مشینات کا ایک سیلاب جاری کر دیا ہے ۔سورج کی شعائوں کو گرفتار کر رہے ہیں اور چاند پر کمندیں ڈال رہے ہیں۔ مگر اس ظاہری ترقی کے باوجودراحت و آسائش کی ساری چیزیں مہیا کر لینے کے باوجود‘حقیقی کامیابی حاصل نہ کر سکے اور نہ ہی انہیں چین واطمینان اور سکون کی زندگی میسر ہو پا رہی ہے۔یہاں تک کہ وہ خود مصائب و آلام میں گھرئے ہوئے بے سرو سامانی کے عالم میں مجبور محض نظر آ رہے ہیں۔اسکی واحد وجہ یہی ہے کہ اس پر آشوب دور میںفکرو خرد کی تمام تر توانائیاںمادی فروغ اور جسم کے تقاضوں کی تکمیل میںمصروف کار اورمرتکز ہو گئی ہیں ۔مادیت غالب آ گئی اور روحانیت مفقود ہو گئی ہے اپنے خالق ومالک اور راز ق کو فراموش کر کے صرف مادیت ہی کو اپنا آقا تسلیم کرنے لگے جس کا سب سے بھیانک اثر یہ ظاھر ہوا کہ فتنہ و فساد ذہنوں میںسرایت کرنے لگا ۔ خود غرضی ‘مفاد پرستی ‘اخلاقی قدروں کی پامالی اور انسانیت کی زبوں حالی کا خطرناک سلسلہ شروع ہو گیا۔

مگر مقام افسوس یہ ہے کہ جو قوم دنیا میں انسانوں کو روحانیت کا درس دینے آئی تھی جس نے اپنی روحانی طاقتوں کے ذریعے مادی قوتوں کو چشم زدن میںخاکستر کر دیا تھا وہ بھی آج مادیت کی غلامی کا ثبوت دیتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ جسمانی و مادی اور دنیوی زندگی کو ہی خوشگوار بنانا اس نے ا پنا نصب العین بنا لیا ہے ۔ نگاہوں کو خیرہ کر دینے والی ظاہری ترقی کو دیکھ کر مادہ پرستی میںاس قدر گم ہو گئی ہے کہ ا س کے اندر روحانیت کا نام و نشان باقی نہیں رہ گیا ہے ۔ایمان کی عظیم دولت حاصل ہو جانے کے باوجودمادیت اس قدر غالب آگئی کہ اس نے اپنے حقیقی خالق و مالک پر بھروسہ کرنے کے بجائے مادیت پر بھروسہ کرنا شروع کر دیا ہے ۔ روٹی کپڑا اور مکان کے گرد طواف کرنے لگی‘روحانیت اس سے مفقود ہو گئی جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ زندگی میں بے چینی و بے قراری بڑھنے لگی ‘ سکون جاتا رہا‘بے شرمی و بے حیائی عام ہونے لگی‘گناہوں کا سیلاب امنڈ پڑا ‘اخلاقی قدریں اس قدر پامال ہونے لگے کہ وہ اپنااصل مقام بھول گئی۔

اسی لئے ڈاکٹر اقبال نے اپنی قوم کی زبوں حالی کو دیکھ کر انکے ذہنوں کو جھنجھوڑنے کے لئے کہا تھا۔

کا فر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے

مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہے آفاق

جس دن سے قوم مسلم سے روحانیت مفقود ہوئی ہے اسی دن سے مادہ پرستوں کی باطل طاقتوں کا عفریت اپنے پنجۂ ظلم و استداد کو بڑھاتا جا رہا ہے جسکے سبب ویتنام‘افغانستان اور بوسینیا کے دل دوز واقعات اور جگرخراش و کرب انگیز سانحات رونما ہوئے اور ہوتے رہیں گے ۔

عراق کی سر زمین کو تباہ کر دیا گیا ۔ لاکھوں بچے یتیم اور خواتین بیوہ ہو گئیں کنواریاں انچاہے درد زہ سے تڑپ اٹھیں مگر پھر بھی ان مادہ پرستوںاور درندوں کے ظلم کی پیاس بجھتی ہوئی نظر نہیں آتی ۔

حق تو یہ ہے کہ ہم نے اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے ہمیں قطعا کسی سے شکایت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ خود اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے ہہارا مقام کیا تھا اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔ یہ نفسانیت اور مادیت کا غلبہ ہی تو ہے کہ ہمارے درمیان اتحاد نہیںہو پارہا ہے۔ آج ہم پر مادیت کا غلبہ ہی تو ہے جسکے سبب ہم اپنے مذہبی شعار اور سرکار اکی سنتوںپر عمل پیرا ہونے میں عار محسوس کر رہے ہیں،یہ مادیت کا غلبہ ہی تو ہیکہ علم وآگہی کی بلند منزلوں پرتو ہم فائز ہو جاتے ہیںمگر روح کے تقاضے پورے نہیں کر پاتے ہیں۔

آئیے روحانیت کے علم برداروں سے پوچھیں کہ روحانیت کیا ہے؟ حضرت فضیل بن عیاض اورحضرت محمد بن سماک رحمھما اللہ کی باہم ملاقات ہو ئی تو حضرت فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ نے فرمایا عالم ،دین کا معالج ہوتا ہے۔ اور مال، دین کی بیماری ہے اگر علاج کرنے والا ہی بیماری کو پاس بلائے تو دوسروں کا علاج کیا کرے گا۔

حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا دنیا میں پانچ قسم کے لوگ ہیں۔

٭ علماء- وہ تو انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں ۔

٭ زاہد- جو رہبر ہیں ۔

٭غازی -جو سیف اللہ ہیں۔

٭تاجر- جو اللہ کے امین ہیں۔

٭بادشاہ -جو خلقت کے نگراں ہیں۔

( اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں )

عالم،اگر لالچی اور دولت کا حریص ہو جائے تو بھلا کس کی اقتداء کی جائے ۔

زاہد، اگر خود دنیا کی طرف راغب ہو جائے تو راستہ کس سے پوچھا جائے اور ہدایت کس سے ملے ۔

نمازی ، اگر ریا کار ہو (اور ریا کار کا کوئی عمل مقبول نہیں )تو دشمن پر فتح کس طرح حاصل ہو ۔

تاجر، اگر خیانت کرنے لگے تو امانت داری کہاں تلاش کی جائے ۔

بادشاہ ، اگر خود بھیڑ یا بن جائے تو بکریوں کی حفاظت کون کرے واللہ ! لوگوں کو برباد کرنے والے لوگ یہ ہیں ،دین میں مداہنت کرنے والے علماء ،دنیا کی رغبت کرنے والے زاہد ،ریاکار غازی ، خیانت کرنے والے تاجر اور ظالم بادشاہ ’’وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مَنْقَلَبٍ یَنْقَلِبُوْنَ( بزم اولیا ء ،ص؍۳۸۵)

یقیناًانصاف ودیانت کے ساتھ ہم خود احتسابی پر عمل کریں تو یہ امر ظاہر ہو گا کہ ہم روحانیت سے بہت دور ہو چکے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ جسم کے بنیادی و فطری تقاضے بھی ہیں جن کا تعلق مادیت سے ہے ، ان کے بغیر جسم کی بقا نا ممکن ہے ۔ مگرجسم فانی کے لئے مادیت میں گھر کر بیمار روح کو تڑپتا چھوڑ دینا یہ کہاں کی عقلمندی ہے ۔یہ مقام شرم ہے کہ جسم جو فانی ہے اس کے لئے سب کچھ اور روح جو باقی اور اصل ہے اس کے لئے کچھ بھی نہیں۔ ہمیں چاہئے کہ روحانیت کا مخزن و منبع نسخۂ شفاء ،کتاب ہدایت قرآن عظیم کی طرف رجوع کریں جو کہ اس مقدس و عظیم ذات کا کلام ہے جو خالق روح و مادہ بھی ہے جس نے اپنے محبوب رسول مختار ا کو زخم خوردہ انسانیت کے لئے طبیب بنا کر بھیجا ،اب آپ ہی کے دامن رحمت سے لپٹ کر نسخۂ شفا سے روحانیت کا علاج بھی ہو سکتا ہے ،اور روحانی عروج و ارتقاء بھی حاصل ہو سکتا ہے جو کہ ہمارا اصل مقام اور ہماری کامیابی کا راز ہے ۔

دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولیٰ

ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللّٰہ

٭٭٭