سراپائے رسول ﷺ

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! اللہ عزوجل نے نبی اکرم نورِ مجسم  ﷺ کو تمام اولین و آخرین سے ممتاز اور افضل و اعلیٰ بنایا۔ اسی طرح جمالِ صورت میں بھی یکتا و بے نظیر بنایا۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خلوت و جلوت، سفر و حضر میں جمالِ جہاں آرا کو دیکھتے رہے، انہوں نے حبیب پاک ﷺ کے فضل و کمال کی جو تصویر کشی کی ہے اسے سن کر یہی کہنا پڑتا ہے جو کسی مداحِ رسول نے کہا ہے ؎

لَمْ یَخْلُقِ الرَّحْمٰنُ مِثْلَ مُحَمَّدٍ

اَبَدًا وَّ عِلْمِیْ اَنَّہٗ لَا یَخْلُقُ

یعنی اللہ رب العزت نے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا مثل پیدا فرمایا ہی نہیں اور میں یہی جانتا ہوں کہ وہ کبھی پیدا نہیں فرمائے گا۔ (حیوٰۃ الحیوان، جلد اول، ص:۴۲)

آپ سر کے بال سے لے کر پیر کے ناخن تک اللہ عزوجل کی قدرت کے مظہر ہیں۔ چند سطور سرکارِ دوعالمﷺ کے سراپائے اقدس کے حوالے سے باختصار نقل کرتے ہیں تا کہ ہمارے دلوں میں آپ کی الفت و محبت دوبالا ہو جائے۔

موئے مبارک: حضور سید عالم  ﷺ کے سر مبارک کے بال نہ تو بہت گھنگھریالے تھے نہ ہی بہت سیدھے بلکہ دونوں کے درمیان تھے۔ آپ کے بالِ مبارک کتنے لمبے تھے اس حوالے سے مختلف روایات ہیں کسی روایت میں ہے کہ آپ کے موئے مبارک آدھے کان تک تھے، کسی روایت میں یہ ہے کہ کانوں کی لَو تک تھے کسی روایت میں یہ ملتا ہے کہ کانوں کی لو سے کچھ بڑے اور شانوں سے کم تھے، کسی روایت میں یہ ملتا ہے کہ کندھوں پر پڑتے تھے۔ ان روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جب آپ بال مبارک کٹوا دیتے تھے تو نصف کانوں تک رہ جاتے پھر بڑھ کر کان، یا شانۂ مبارک تک پہنچ جاتے۔

حضور اقدسﷺ نے حجۃ الوداع میں جب اپنے مقدس بال اتروائے تو وہ صحابۂ کرام میں بطور تبرک تقسیم کر ہوئے اور صحابہ کرام نے نہایت ہی عقیدت کے ساتھ اس موئے مبارک کو اپنے پاس محفوظ رکھا اور اس کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان مقدس بالوں کو ایک شیشی میں رکھ لیا تھا، جب کسی انسان کو نظر لگ جاتی یا کوئی مرض ہوتا تو آپ اس شیشی کو پانی میں ڈبو کر دیتی تھیں اور اس پانی سے شفا حاصل ہوتی تھی۔ (بخاری شریف، ۲؍۸۷۵)

وہ کرم کی گھٹا گیسوئے مشک سا

لکۂ ابر رحمت پہ لاکھوں سلام

ہم سیہ کاروں پہ یارب تپش محشر میں

سایہ افگن ہوں تیرے پیارے کے پیارے گیسو

چہرۂ انور: اللہ عزوجل نے اپنے پیارے محبوب دانائے غیوب ﷺ کو اتنا حسین و جمیل بنایا کہ آپ سے پہلے اور آپ کے بعد نہ کوئی آپ جیسا ہوا نہ ہوگا۔ آپ کے حسن و جمال کی تعریف کرتے کرتے زبان خشک ہو جائے گی، اوراق ختم ہو جائیں گے مگر کما حقہ آپ کی تعریف نہیں کی جا سکتی۔

خصائص کبریٰ میں یہ روایت مذکور ہے حضرت ابونعیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’اُعْطِیَ یُوْسُفُ مِنَ الْحُسْنِ مَا فَاقَ بِہِ الْاَنْبِیَائَ وَ الْمُرْسَلِیْنَ بَلِ الْخَلْقَ اَجْمَعِیْنَ وَ نَبِیُّنَا ا اُوْتِیَ مِنَ الْجَمَالِ مَا لَمْ یُؤْتَہٗ اَحَدٌ وَّ لَمْ یُؤْتَ یُوْسُفُ اِلاَّ شَطْرَ الْحُسْنِ وَ اُوْتِیَ نَبِیُّنَا ا جَمِیْعَہٗ‘‘ حضرت یوسف علیہ السلام کو تمام انبیا و مرسلین بلکہ تمام مخلوق سے زیادہ حسن و جمال عطا ہوا کہ جو کسی اور مخلوق کو عطا نہیں ہوا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو حسن و جمال کا ایک جز ملا تھا اور آپ ا کو حُسن کُل دیا گیا ہے۔

زرقانی میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت نقل ہے کہ آپ فرماتی ہیں ’’کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا اَحْسَنَ النَّاسِ وَجْہًا وَّ اَنْوَرَہُمْ لَوْنًا لَّمْ یَصِفْہُ وَاصِفٌ قَطُّ اِلاَّ شَبَّہَ وَجْہَہٗ بِالْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ‘‘ رسول اللہ ا تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت اور خوش رنگ تھے۔ جس کسی نے بھی آپ کی توصیف کی اس نے آپ کو چودہویں کے چاند سے تشبیہ دی۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ چاندنی رات تھی اور حضورﷺ حلۂ حمرا (سرخ چادر) اوڑھے ہوئے لیٹے تھے، میں کبھی چاند کو دیکھتا اور کبھی حضور ﷺ کے چہرۂ انور کو بالآخر میرا فیصلہ یہی تھا کہ حضور ﷺ چاند سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ (مشکوٰۃ:۵۱۸)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں ؎

یہ جو مہر و مہ پہ ہے اطلاق آتا نور کا

بھیک تیرے نام کی ہے استعارہ نور کا

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ’’کُنْتُ اَخِیْطُ فَسَقَطَتْ مِنِّی الْاِبْرَۃُ فَطَلَبْتُہَا فَلَمْ اَقْدِرْ عَلَیْہَا فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا فَتَبَیَّنَتِ الْاِبْرَۃُ بِشُعَاعِ نُوْرِ وَجْہِہٖ فَاَخْبَرْتُہٗ‘‘ میں اندھیرے میں بیٹھی کچھ سی رہی تھی، میرے ہاتھ سے سوئی گر گئی، ہر چند تلاش کی مگر اندھیرے کے سبب سے نہ ملی۔ اتنے میں حضور ا تشریف لائے تو آپ کے رخ انور کی روشنی سے سارا کمرہ روشن ہو گیا اور سوئی چمکنے لگی تو مجھے اس کا پتہ چل گیا۔ (خصائص کبریٰ ۱؍۶۲)

سوزن گم شدہ ملتی ہے تبسم سے ترے

شام کو صبح بناتا ہے اجالا تیرا

حقیقت یہ ہے کہ آپ کا پورا حسن و جمال لوگوں پر ظاہر نہیں کیا گیا بلکہ پردہ میں رکھا گیا ورنہ کسی میں طاقت نہیں تھی کہ حسن محمدی ﷺ کی تاب لا سکتا۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے والد ماجد شاہ عبدالرحیم صاحب نے حضور اکرم  ﷺ کو خواب میں دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر زنانِ مصر نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے اور بعض لوگ ان کو دیکھ کر مر جاتے تھے مگر آپ کو دیکھ کر کسی کی ایسی حالت نہیں ہوئی تو حضور ا نے فرمایا میرا جمال لوگوں کی آنکھوں سے اللہ نے غیرت کی وجہ سے چھپا رکھا ہے اور اگر آشکارہ ہو جائے تو لوگوں کا حال اس سے بھی زیادہ ہو جو یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر ہوا تھا۔

یعنی فرمایا کہ میں اللہ کا محبوب ہوں اور مُحِب کی غیرتِ محبت کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس کے محبوب کو سوائے اس کے اور کوئی نہ دیکھے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے میرے حسن و جمال کو صرف اپنے دیکھنے کے لئے لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا ہے۔

علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضور ﷺ کا پورا حسن و جمال ہم پر ظاہر نہیں کیا گیا، اگر آپ کو پورا حسن و جمال ظاہر کیا جاتا تو ہماری آنکھیں آپ کے دیدار کی طاقت نہ رکھتیں۔ (زرقانی علی المواہب ۴؍۷۱)

اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو

وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو

جبینِ سعادت: رحمت عالم ﷺ کی مبارک پیشانی کشادہ اور چمک دار تھی، جس پر بیزاری اور دنیاوی تفکرات کے آثار تک نہ تھے۔ ابن عساکر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میں ایک روز چرخہ کات رہی تھی اور حضور ﷺ میرے سامنے نعلین پاک کو پیوند لگا رہے تھے۔ میں نے آپ کی جبینِ سعادت پر پسینہ کے قطرے دیکھے جن سے نور کی شعاعیں نکل رہی تھیں۔ میں اس خوبصورت منظر کو دیکھنے میں اپنا کام بھول گئی۔ آقا ﷺ نے فرمایا کیا معاملہ ہے؟ میں نے عرض کیا آپ کی مبارک پیشانی پر پسینہ کے قطرے یوں لگ رہے ہیں جیسے نور کے ستارے ہوں۔

تاجدارِ اہلسنت، مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎

جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا

اس جبین سعادت پہ لاکھوں سلام

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں ؎

تیرے ہی ماتھے رہا اے جان سہرا نور کا

بخت جاگا نور کا چمکا ستارہ نور کا

ابرو مبارک: نبی اکرم  ﷺ کے ابرو مبارک دراز اور باریک اور محرابی صورت میں تھے۔ دونوں ابروئوں کے درمیان اتنا کم فاصلہ تھا کہ غور سے دیکھنے پر ہی واضح ہوتا اسی لئے بعض صحابۂ کرام نے ابرو مبارک کے باہم متصل ہونے کا ذکر کیا ہے جب کہ حقیقت میں وہ ملے ہوئے نہ تھے۔ ابروئے مبارک کو سراہتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎

جن کے سجدے کو محراب کعبہ جھکی

ان بھنووں کی لطافت پہ لاکھوں سلام

حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رحمت عالم  ﷺ کے ابرو مبارک خم دار، باریک، گھنے اور الگ الگ تھے۔ دونوں ابروئوں کے درمیان ایک رگ تھی جو جلال کے وقت سرخ ہو جاتی تھی۔ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس رگ کو ہاشمیت قرار دیتے ہوئے یوں سلام عرض کیا ؎

چشمۂ مہر میں موجِ نورِ جلال

اس رگِ ہاشمیت پہ لاکھوں سلام

چشمانِ مبارک: آپ کی آنکھیں نورانی اور نہایت ہی خوبصورت تھیں، سرمہ کے بغیر ہی معلوم ہوتا کہ آپ نے سرمہ لگایا ہے۔ آنکھوں کی سفیدی میں باریک سرخ ڈورے تھے جن کو علاماتِ نبوت میں شمار کیا گیا ہے۔ پلکیں خوبصورت اور دراز تھیں۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؎

سرمگیں آنکھیں حریم حق کے وہ مشکیں غزال

ہے فضائے لامکاں تک جن کا رَمنا نور کا

ان آنکھوں میں اللہ عزوجل نے نورِ بصارت کے ساتھ ساتھ نورِ بصیرت بھی رکھ دیا تھا کہ آپ قریب کی چیزوں کو تو دیکھتے ہی تھے بعید کی چیزوں کو یہاں تک کہ دلوں کی کیفیتوں کو بھی دیکھ لیا کرتے۔ خود اپنے صحابہ سے فرماتے ہیں ’’ہَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِیٓ ہٰہُنَا فَوَاللّٰہِ مَا یَخْفٰی عَلَیَّ رُکُوْعُکُمْ وَ لاَ خُشُوْعُکُمْ اِنِّیْ لَاَرَاکُمْ مِنْ وَّرَآئِ ظَہْرِیْ‘‘ تم میرا منہ قبلہ ہی کی طرف دیکھتے ہو۔ خدا کی قسم مجھ پر نہ تمہارا رکوع اور نہ تمہارا خشوع پوشیدہ ہے اور بے شک میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ (بخاری شریف)

شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال

دھوم و النجم میں ہے آپ کی بینائی کی

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور  ﷺ نے فرمایا بے شک اللہ نے میرے لئے دنیا کے حجابات اٹھا دئے ہیں تو میں دنیا اور جو کچھ بھی اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کو ایسے دیکھ رہا ہوں جیسے کہ اپنی اس ہتھیلی کو دیکھتا ہوں۔ (زرقانی علی المواہب ۷؍۲۰۴)

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ’’اِنَّ مَوْعِدَکُمُ الْحَوْضُ وَ اِنِّیْ لَاَنْظُرُ اِلَیْہِ وَ اَنَا فِیْ مَقَامِیْ ہٰذَا‘‘ تمہاری ملاقات کی جگہ حوض کوثر ہے اور میں اس کو یہاں سے دیکھ رہا ہوں۔ (بخاری و مسلم)

ان روایات سے ثابت ہوا کہ نگاہِ نبوت سے کائنات کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے آپ مثلِ کف دست دیکھ رہے ہیں۔

حضور اکرم سرورِ عالم ﷺ نے فرمایا ’’مَا مِنْ شَیْئٍ لَّمْ اَکُنْ رَأَیْتُہٗ اِلاَّ قَدْ رَأَیْتُہٗ فِیْ مَقَامِیْ ہٰذَا حَتَّی الْجَنَّۃَ وَ النَّارَ‘‘ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو ہونے والی ہو مگر میں نے اس کو اس مقام پر دیکھ لیا ہے یہاں تک کہ جنت و دوزخ کو بھی۔ (بخاری شریف)

جنت ساتوں آسمانوں کے اوپر اور دوزخ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ معلوم ہوا کہ نگاہِ مصطفی ﷺ کی رسائی تحت الثریٰ سے لے کر ثریا بلکہ اس سے بھی اوپر تک ہے۔

سر عرش پر ہے تری گزر دل فرش پر ہے تری نظر

ملکوت و ملک میں کوئی شئے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں

جنگ موتہ جو ملک شام میں ہو رہی تھی اس کے سارے حالات حضور ﷺ نے مدینہ منورہ ہی میں بیٹھے بیٹھے صحابۂ کرام کو بتائے، جو علمِ اسلام اٹھاتا اور جس جس صورت سے وہ شہید ہوتا، آپ بتاتے جا رہے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ (مشکوٰۃ:۵۳۲)

اسی اثنا میں آپ مسکرانے لگے، آپ سے مسکرانے کا سبب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں اپنے دوستوں کے قتل ہو جانے پر غمگین ہوا مگر اب انہیں جنت میں ایک دوسرے کے مقابلے تختوں پر بیٹھے ہوئے دیکھ کر خوشی سے مسکرایا ہوں۔ (خصائص کبریٰ ۱؍۲۶۰)

حضرت عبدالرحمن بن عائش رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب تعالیٰ کو احسن صورت میں دیکھا۔ (مشکوٰۃ:۶۹)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’اِنَّ مُحَمَّدًا ا رَاٰی رَبَّہٗ مَرَّتَیْنِ مَرَّۃً بِبَصْرِہٖ وَ مَرَّۃً بِفُوَادِہٖ‘‘ بلا شبہہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دو بار دیکھا۔ ایک بار سر کی آنکھوں سے اور ایک بار دل کی آنکھ سے۔ (خصائص کبریٰ ۱؍۱۶۱)

مختصر یہ کہ جن آنکھوں نے اللہ رب العزت کو مشاہدہ کیا ان آنکھوں سے خدائی کیسی چھپ سکتی ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؎

اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود

گوشِ مبارک: حضور نبی اکرم  ﷺ کے گوشہائے مبارک اور قوتِ سماعت عام انسانوں کی طرح نہیں تھی بلکہ ان میں بے شمار خصوصیات پوشیدہ تھیں۔ آپ دور و نزدیک کی باتیں یکساں سنا کرتے۔ مختلف احادیث میں آپ کی قوتِ سماعت کا تذکرہ موجود ہے۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا ’’یَا بِلاَلُ ہَلْ تَسْمَعُ مَا اَسْمَعُ قَالَ لاَ وَ اللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا اَسْمَعُہٗ قَالَ اَلاَ تَسْمَعُ اَہْلَ الْقُبُوْرِ یُعَذَّبُوْنَ‘‘ اے بلال! کیا تم سنتے ہو جو میں سنتا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ا میں نہیں سنتا۔ فرمایا کیا تو نہیں سنتا ان قبر والوں (یہودیوں) کو عذاب ہو رہا ہے۔ (مستدرک للحاکم)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں ؎

دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان کانِ لعلِ کرامت پہ لاکھوں سلام

حضرت ابودردا رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا ’’لَیْسَ مِنْ عَبْدٍ یُّصَلِّی عَلَیَّ اِلاَّ بَلَغَنِیْ صَوْتُہٗ حَیْثُ کَانَ قُلْنَا وَ بَعْدَ وَفَاتِکَ قَالَ وَ بَعْدَ وَفَاتِیْ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَأْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَائِ‘‘ کوئی شخص ایسا نہیں جو مجھ پر درود پڑھے مگر اس کی آواز مجھے پہنچتی ہے (یعنی اس کی آواز میں سنتا ہوں) چاہے وہ کہیں ہو۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وفات کے بعد بھی، فرمایا وفات کے بعد بھی کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیا کے جسموں کو کھانا حرام قرار دیا۔ (جلاء الافہام، ابن قیم:۷۳)

لبہائے مبارک اور دندانِ مبارک: حضور ﷺ کے لبہائے مبارک نہایت خوبصورت اور سرخی مائل تھے۔ آپ کے دندانِ مبارک کشادہ، روشن و تاباں تھے۔ جب آپ کلام فرماتے تھے تو سامنے والے دانتوں سے نور نکلتا تھا اور جب آپ تبسم فرماتے تھے تو دیواریں روشن ہوجاتیں۔ آپ کو کبھی جماہی نہیں آتی تھی۔

پتلی پتلی گل قدس کی پتیاں ان لبوں کی نزاکت پہ لاکھوں سلام

باوجودیکہ آپ کے دندانِ مبارک نہایت چمکیلے اور صاف تھے پھر بھی آپ ان کی صفائی کابہت اہتمام فرماتے۔ احادیث میں آتا ہے کہ آپ کسی نمازکے لئے تشریف نہ لے جاتے جب تک مسواک نہ فرما لیتے اور جب کہیں باہر سے تشریف لاتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے۔ یہ سب کچھ تعلیم امت کے لئے تھا۔

دہن مبارک: حضور  ﷺ کا دہن مبارک کشادہ، رخسار مبارک ہموار تھا، آپ سب سے زیادہ خوبصورت اور خوبرو تھے۔ خوش آوازہونے کے ساتھ ساتھ آپ بلند آواز اتنے تھے کہ جہاں تک آپ کی آواز پہنچتی کسی اور کی آواز نہ پہنچتی تھی۔ بالخصوص خطبوں میں آپ کی آواز گھروں میں پردہ نشین عورتیں بھی سن لیا کرتیں اور ہزاروں کے اجتماع میں جس طرح آپ کی آواز سب سے آگے والا شخص سنتا اسی طرح سب سے پیچھے والا بھی سن لیا کرتا۔

زبانِ مبارک: حضور رحمت عالم  ﷺ کی زبانِ مبارک نہایت ہی پاکیزہ اور علم و ادب، فصاحت و بلاغت، حق و صداقت اور لطف و عنایت کی مظہر تھی۔ آپ کی گفتگو میں مٹھاس ہوتی۔ آپ کی زبان سے نکلنے والے الفاظ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے، واضح اور مبین ہوا کرتے اور افراط وتفریط، جھوٹ، غیبت، بدگوئی اور فحش کلامی وغیرہ سے منزہ اور پاک ہوا کرتے۔ آپ کی زبان سے نکلنے والے الفاظ قانونِ الٰہی بن جاتے۔ رب قدیر نے فرمایا ’’وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰٓی اِنْ ہُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی‘‘ اوروہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے، وہ تو نہیں مگر وحی جوانہیں کی جاتی ہے۔ (سورۂ نجم: ۳۔۴)

تاجدارِ اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎

وہ دہن جس کی ہر باتِ وحی خدا

چشمۂ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام

وہ زباں جس کو سب کُن کی کنجی کہیں

اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام

آپ کو مختلف زبانوں پرمہارت حاصل تھی کہ آپ ہر ایک زبان میں بامحاورہ گفتگو فرماتے تھے۔ جب کسی دوسری زبان میں گفتگو فرماتے تو اس زبان کے قواعد فصاحت کے مطابق فرماتے کہ زبان داں بھی حیران رہ جاتے۔

شفا شریف میں مذکورہ ہے: جب کوئی آدمی خواہ وہ کسی ملک کا ہوتا آپ کے حضور حاضر ہو کر اپنی بولی میں کچھ بولتا تو آپ اسی بولی میں اس سے باتیں کرتے۔ یہ آپ کی زبان میں خدا داد قدرت وقوت ملی تھی۔

ریشِ مبارک: حضوررحمت عالم ﷺ کی داڑھی مبارک گھنی اوربہت ہی زیادہ خوش نما تھی۔ آپ داڑھی مبارک کو تیل لگایا کرتے اور شانہ بھی کیا کرتے اور مونچھیں مبارک کٹوایا کرتے۔ آپ نے کبھی خضاب وغیرہ نہیں کیا کیوں کہ آپ کی داڑھی مبارک اور سر مبارک میں بیس سے زائد سفید بال نہ تھے۔

گردن، کندھا، پشتِ مبارک: حضور ﷺ کی گردن مبارک اعتدال کے ساتھ طویل اور چاندی کی طرح سفید تھی اورحسین ایسی کہ خصائص کبریٰ میں فرمایا گیا ’’کَأَنَّ عُنُقَہٗ اِبْرِیْقُ فِضَّۃٍ‘‘ گویا آپ کی گردن چاندی کی صراحی تھی۔

آپ کے مبارک کندھے بھی عجیب شان کے تھے، نہایت خوبصورت کہ کسی دوسرے انسان کے ایسے نہ تھے۔ زرقانی میں بیان کیا گیاہے ’’اِنَّہٗ کَانَ اِذَا جَلَسَ یَکُوْنُ کَتِفُہٗ اَعْلٰی مِنْ جَمِیْعِ الْجَالِسِیْنَ‘‘ جب آپ لوگوں میں بیٹھے ہوتے تو آپ کا کندھا سب سے اونچا ہوتا۔

مہر نبوت: سرورِ کائنات فخر موجودات ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان اللہ عزوجل نے مہر نبوت ثبت فرمایا تھا۔ یہ بظاہر سرخی مائل ابھرا ہوا گوشت تھا، اس پر یہ عبارت تحریر تھی ’’اَللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ بِوَجْہٍ حَیْثُ کُنْتَ فَاِنَّکَ مَنْصُوْرٌ‘‘ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ (اے نبی) آپ جہاں بھی رہیں گے آپ کی مدد کی جائے گی۔ راویوں نے اس مہر نبوت کی مقدار کبوتر کے انڈے کے برابر بتائی ہے۔ (حاشیۂ ترمذی)

بغل مبارک: حضور رحمت عالم  ﷺ کی مبارک بغلیں نہایت پاکیزہ، صاف اور خوشبودار تھیں۔ آپ کی بغلوں کارنگ متغیر نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی آپ کی مبارک بغلوں میں بال تھے۔ ان سے کستوری کی طرح خوشبو آتی تھی۔

دست و بازوئے مبارک: نبی اکرم نور مجسم  ﷺ کی ہتھیلیوں اور بازوئے مبارک پر گوشت تھے، آپ کی ہتھیلیاں نرم اور خوشبودار تھیں۔ آپ جس سے مصافحہ کرتے وہ دن بھر اپنے ہاتھوں سے خوشبو پاتا اور جس بچے کے سر پر اپنا دستِ مبارک رکھ دیتے وہ خوشبو میں دوسرے بچوں سے ممتاز ہو جاتا۔ صحابۂ کرام آپ کے دستہائے مبارک کو اپنے چہروں پر ملا کرتے تھے۔ انہیں ہاتھوں میں اللہ عزوجل نے تمام خزانوں کی کنجیاں رکھ دی ہیں۔ انہیں ہاتھوں کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا ’’وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی‘‘ اور اے محبوب! وہ جو تم نے پھینکی، تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی۔ دوسرے مقام پر فرمایا ’’یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ‘‘ اللہ کا دستِ قدرت ان کے ہاتھوں پر ہے۔

شکم اقدس اور سینۂ مبارک: حضور اکرم رحمتِ عالم ﷺ کا شکم اقدس اور سینۂ مبارک ہموار و برابر تھے۔ آپ کا سینہ کسی قدر ابھرا ہوا اور چوڑا تھا۔ سینۂ اقدس کے درمیان بالوں کا ایک باریک خط تھا جو ناف تک تھا اور سینۂ اقدس کے اوپر دونوں طرف بال نہ تھے۔

زانوئے اقدس اور قدمہائے مبارک: حضور سرورِ کائنات ﷺ کے زانوئے مبارک اور پنڈلیاں نرم اور پُر گوشت تھے اور خوبصورت ایسے کہ کسی انسان کے ایسے نہ تھے۔ جب چلتے تو قدمہائے مبارک کو قوت اور وقار اور تواضع سے اٹھاتے جیسا کہ اہل ہمت و شجاعت کا قاعدہ ہے۔ آپ پتھر پر قدم رکھ دیتے تو پتھر نرم ہو جاتے۔

حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’کَانَ ا اَحْسَنَ الْبَشَرِ قَدَمًا‘‘ حضور ا کے قدم مبارک سب سے زیادہ حسین تھے۔ (زرقانی)

قد مبارک: حضور سرورِ عالم ﷺ نہ بہت لمبے تھے اور نہ کوتاہ، بلکہ میانہ قد مائل بہ درازی تھے مگر جب لوگوں کے سامنے ہوتے تو سب سے بلند و سرفراز ہوتے۔ حقیقت میں یہ آپ کا معجزہ تھا کہ باطن کی طرح ظاہر میں بھی آپ سے کوئی بلند و بالا نہ ہو۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎

یہی بولے سدرہ والے چمن جہاں کے تھالے

سبھی میں نے چھان ڈالے تیرے پائے کا نہ پایا تجھے یک نے یک بنایا

٭٭٭٭٭