أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِتَصۡغٰٓى اِلَيۡهِ اَفۡئِدَةُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ وَلِيَرۡضَوۡهُ وَلِيَقۡتَرِفُوۡا مَا هُمۡ مُّقۡتَرِفُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور تاکہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ ان (خوشنما باتوں) کی طرف مائل ہوں اور ان کو پسند کریں اور ان برائیوں کا ارتکاب کرتے رہیں جن کا وہ ارتکاب کرنے والے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تاکہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ ان (خوشنما باتوں) کی طرف مائل ہوں اور ان کو پسند کریں اور ان برائیوں کا ارتکاب کرتے رہیں جن کا وہ ارتکاب کرنے والے ہیں۔ (الانعام : ١١٣) 

لتصغی کا معنی : 

اس آیت میں لتصغی کا لفظ ہے ‘ اس کا مادہ صغی ہے۔ علامہ جار اللہ محمد بن عمر زمخشری متوفی ٥٨٣ ھ نے اس کا معنی لکھا ہے ‘ صغی کا معنی ہے کسی چیز کی طرف میلان کرنا اور جھکنا۔ (الفائق ج ٢‘ ص ٢٥٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ) 

اور علامہ ابن اثیر محمد جزری متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : 

بلی کی حدیث میں ” کان یصغی الیہ الاناء “ وہ اس کے لیے برتن جھکاتے تھے ‘ تاکہ وہ سہولت سے پانی پی لے ‘ اور حدیث میں اس کا معنی کان لگا کر سننا بھی ہے۔ (النہایہ ‘ ج ٣ ص ٣٣‘ مبطوعہ ایران ‘ ١٣٦٧ ھ) 

اس آیت کا معنی ہے شیاطین ایک دوسرے کی طرف مزخرف اور مزین اقوال پہنچاتے ہیں ‘ تاکہ نیک مسلمانوں کو بہکائیں اور انکی طرف ان کفار اور فساق کے دل مائل ہوں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ‘ کیونکہ ان کے وسوسے ان کی خواہشوں کے موافق ہیں اور تاکہ وہ ان سے خوش ہوں ‘ لیکن جو مسلمان انجام پر نظر رکھتے ہیں ‘ وہ انکی خوش نما باتوں میں نہیں آتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 113