پل صراطِ کا بیان

یہ ایک پل ہے جو بال سے زیادہ باریک او ر تلوار سے زیادہ تیز ہوگا اور جہنم پر نصب کیاجائے گا ۔

جنت میں جانے کا یہی راستہ ہوگا ،سب سے پہلے حضور ﷺاسے عبور فرمائیں گے پھر دیگر انبیاء و مرسلین علیہم السلام پھر یہ اُمت اور پھر دوسری امتیں پل پر سے گزریں گی ۔پل صراط سے لوگ اپنے اعمال کے مطابق مختلف احوال میں گزریں گے بعض ایسی تیزی سے گزریں گے جیسے بجلی چمکتی ہے ،بعض تیز ہوا کی مانند ،بعض پرندہ اڑنے کی طرح ،بعض گھوڑا دوڑنے کی مثل اور بعض چیونٹی کی چال چلتے ہوئے گزریں گے ۔پل صراط کے دونوں جانب بڑے بڑے آنکڑے لٹکتے ہونگے جو حکم الہٰی سے بعض کو زخمی کردیں گے اور بعض کو جہنم میں گرا دیں گے ۔(بخاری ،مسلم ،مشکوٰۃ)

سب اہل محشر تو پل صراط پر سے گزرنے کی فکر میں ہونگے اور ہمارے معصوم آقا شفیع محشر ﷺ

پل پل کے کنارے کھڑے ہوکر اپنی عاصی اُمت کی نجات کے لیے رب تعالیٰ سے دعا فرمارہے ہونگے ،رَبِّ سَلِّم رَبِّ سَلِّم الہٰی !ان گناہگاروں کو بچا لے بچالے ،آپ صرف اسی جگہ توگنہگاروں کا سہارا بنیں گے بلکہ کبھی میزان پر گناہگاروں کا پلہ بھاری بناتے ہونگے اور کبھی حوض کوثر پیاسوں کو سیراب فرمائیں گے ،ہر شخص انہی کو پکارے گا اور انہی سے فریاد کرے گا کیونکہ باقی سب تو اپنی اپنی فکرمیں ہونگے اور آقا علیہ السلام کو دوسرو ں کی فکر ہوگی ۔

اللھم نجنا من احوال الحشر بجاہ ھذاالنبی الکریم علیہ وعلیٰ الہ واصحابہ افضل الصلاۃ والتسلیم ۔آمین