اخلاق و عاداتِ مصطفیٰ ﷺ

سچائی: صداقت نبوت و رسالت کا لازمی وصف ہے کیونکہ رسالت و نبوت کی سچائی کی دلیل نبی کا ذاتی گفتار میں سچا ہونا ہے ،رب ذوالجلال نے سارے انبیا کو اس وصف سے نوازا ،چند انبیاکی اس صفت کا ذکر قرآن میں بھی فرمایا ہے ۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں ارشاد فرمایا :وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِبْرٰہٖمَط اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاoاور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ نہایت سچے نبی تھے ۔ (سورۂ مریم: ۴۱)

حضرت اسمٰعیل علیہ الصلوۃ و السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا: وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُوْلاً نَّبِیًّاoاور کتاب میں اسماعیل کا بھی ذکر کرو وہ وعدہ کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے نبی تھے ۔

حضور نبی اکرمﷺ اصدق الصادقین تھے ،سب سے بڑھ کر سچے تھے ،آپ کی صداقت وامانت کا یہ عالم تھا کہ اعلان نبوت سے پہلے تمام اہل مکہ نے آپ کو صادق وامین کا لقب دے دیا تھا اور اپنے مقدمات کے فیصلے کے لئے آپ کی بار گاہ میں حاضر ہوتے تھے ۔ ابوجہل جو آپ کا دشمن ہے وہ کہتا تھا کہ اے محمد!(ﷺ) میں آپ کو کاذب نہیں سمجھتا لیکن آپ کی تعلیم پر میرا دل نہیں ٹھہر تا۔

بہادری: رکانہ جو عرب کا مشہور پہلوان تھا اس نے کہا کہ اگر آپ مجھے پچھاڑدیں تو میں مسلمان ہوجائوں گا ، آپ نے اسے تین مرتبہ پچھاڑدیا۔

حلم وعفو: حلم ایک اخلاقی وصف ہے جو اچھے اخلاق و کردار کا آئینہ دار ہے ،حلم ایسی خوبی ہے کہ جس شخص میں جس قدر زیادہ ہو وہ اتنا ہی زیادہ صاحب اخلاق اور باوقار ہوتا ہے اسلامی اخلاقیات میں حلم و عفو کو خلق عظیم سمجھا جاتا ہے ۔

حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا حلم و عفو بے مثل و بے مثال ہے ،آپ کی زندگی کا ہر پہلو حِلم سے مزین ہے ،دشمنان ِ اسلام نے نبی رحمت ا کو زندگی بھر کتنی تکالیف دیں ،رات دن ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ،قدم قدم پر آپ کو ستایا گیا پھر بھی حضور ا اچھے اخلاق سے پیش آتے ۔ آپ کے حلم و عفو کے بے شمار واقعات ہمارے لئے حلم کا گراں قدر سرمایہ ہیں جو تا قیامت ہمارے لئے روز روشن کی طرح مشعل راہ ہیں ۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! حضور رحمتِ عالمﷺ کے عفو و کرم کی نظیر پوری تاریخ انسانیت میں کہیں نہیں ملتی۔ آپ کے عفو و کرم کی چند جھلکیاں ملاحظہ کریں۔

جنگ اُحد میں عتبہ بن ابی وقاص نے آپ کے دندان مبارک کو شہید کردیا اور عبد اللہ بن قمیہ نے چہرئہ انور کو زخمی اور خون آلود کردیا مگر آپ نے ان لوگوں کے لئے اس کے سوا کچھ بھی نہ فرمایا کہ اَللّٰھُمَّ اِھْدِ قَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لاَیَعْلَمُوْنَ اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ لوگ مجھے نہیں جانتے۔

خیبر میں زینب نامی یہودی عورت نے آپ کو زہر دیا ، مگر آپ نے اس سے کوئی انتقام نہیں لیا ۔ لبید بن اعصم نے آپ پر جادو کیا اور بذریعۂ وحی اس کا سارا حال معلوم ہوا مگر آپ نے اس سے کوئی مواخذہ نہیں فرمایا ۔ غورث بن حارث نے آپ کے قتل کے ارادے سے آپ کی تلوار لے کر نیام سے کھینچ لی ، جب حضورﷺ نیند سے بیدار ہوئے تو غورث کہنے لگا کہ اے محمدا!اب کون ہے جو آپ کو مجھ سے بچائے گا ؟ آپ نے فرمایا کہ ’’اللہ‘‘ نبوت کی ہیبت سے تلوار اس کے ہاتھ سے گرپڑی اور حضور انے تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ بول اب تجھ کو میرے ہاتھ سے کون بچانے والا ہے ؟ غورث گڑ گڑا کر کہنے لگا کہ آپ ہی میری جان بچادیں ، رحمت عالم ﷺ نے اس کو چھوڑ دیا اور معاف فرمادیا ۔ چنانچہ غورث اپنی قوم میں آکر کہنے لگا کہ اے لوگو! میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو تمام دنیا کے انسانوں میں سب سے بہتر ہے۔

اہلِ مکہ اعلانِ نبوت کے بعد سے تقریباً۱۵ سال تک آپ پر اور آپ کے صحابہ پر بے انتہا مظالم ڈھاتے رہے ، آپ کے خلاف سازشیں رچتے رہے لیکن فتح مکہ کے دن جب یہ قریشی ظالم انصارو مہاجرین کے لشکروں کے محاصرے میں محصور ومجبور ہوکر حرم کعبہ میں خوف ودہشت سے کانپ رہے تھے اور انتقام کے ڈر سے ان کے جسم کا ایک ایک بال لرز رہا تھا حضور رحمت عالم انے ان مجرموں اور پاپیوں کو یہ فرما کر چھوڑ دیا اور معاف فرمادیا کہ ’’لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْآ اَنْتُمُ الطُّلَقَآئُ‘‘ آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہے جائو تم سب آزاد ہو۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو ! اس طرح کے نبی رحمت کی حیات طیبہ میں ہزاروں واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ حلم وعفو اور مصائب و آلام کا برداشت کرنا نیز مجرموں کو قدرت کے باوجود بغیر انتقام لئے چھوڑ دینا اور معاف کردینا یہ آپ کے اخلاق حسنہ کا عظیم شاہکار اور بے مثل و مثال نمونہ ہے۔ ہمیں بھی اپنے پیارے رسول کی ان بے مثال ادائوں کو اپنانا چاہئے۔ رب قدیر ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین

تواضع : حضور ﷺ کی شان تواضع بھی نرالی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اختیار عطا فرمایا کہ اے حبیب! اگر آپ چاہیں تو شاہانہ زندگی بسر فرمائیں اور اگر آپ چاہیں تو ایک بندے کی زندگی گزایں تو آپ نے بندہ بن کر زندگی گزارنے کو پسند فرمایا ۔

حضرت اسرافیل علیہ السلام نے آپ کی یہ تواضع دیکھ کر فرمایا کہ یا رسول اللہ ا آپ کی اس تواضع کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ جلیل القدر مرتبہ عطا فرمایا ہے کہ آپ تمام اولاد آدم (علیہ السلام) میں سب سے زیادہ بزرگ اور بلند مرتبہ ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے آپ اپنی قبر انور سے اٹھائے جائیں گے اور میدان حشر میں سب سے پہلے آپ شفاعت فرمائیں گے۔ (سیرت المصطفیٰ بحوالہ زرقانی جلد ؍۴ ،ص ؍۲۶۲)

حضرت عبد اللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ کی نعلین مبارک کا تسمہ ٹوٹ گیا اور آپ اپنے دست مبارک سے اس کو درست فرمانے لگے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ !مجھے دیجئے میں اس کو درست کردوں ۔ میری اس درخواست پر ارشاد فرمایا کہ یہ صحیح ہے کہ تم اس کو ٹھیک کروگے مگر میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میں تم لوگوں پر اپنی برتری اور بڑائی ظاہر کروں۔

اسی طرح صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین آپ کو کسی کام میں مشغول دیکھ کر بار بار درخواست کرتے کہ یا رسول اللہﷺ!آپ خود یہ کام نہ کریں اس کام کو ہم لوگ انجام دیں گے مگر آپ یہی فرماتے کہ یہ سچ ہے کہ تم لوگ میرا سب کام کروگے مگر مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ میں تم لوگوں کے درمیان کسی امتیازی شان کے ساتھ رہوں۔ (سیرت المصطفیٰ زرقانی جلد۴؍ ص ۲۶۵)

حسن معاشرت: حضور اقدسﷺ اپنی ازواج مطہرات ، اپنے احباب، اصحاب، اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں ہر ایک کے ساتھ اتنی خوش اخلاقی اور ملنساری کا برتائو فرماتے تھے کہ ان میں سے ہر ایک آپ کے اخلاق حسنہ کا گرویدہ اور مداح تھا۔

آپ کے خادم خاص حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے دس برس تک سفر وحضر میں حضورﷺ کی خدمت کا شرف حاصل کیا مگر’’مَا قَالَ لِیْ اُفٍّ قَطُّ وَ مَا قَالَ لِشَیْئٍ صَنَعْتُہٗ لِمَ صَنَعْتَہٗ وَ لاَ لِشَیْئٍ تَرَکْتُہٗ لِمَ تَرَکْتَہٗ‘‘(حضورا نے نہ مجھے ڈانٹا، نہ جھڑکا) بلکہ کبھی بھی اُف تک نہ فرمایا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تونے فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا ؟ (ترمذی، جلد؍۲،ص؍۲۲)

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص حضورﷺ کے کان میں کوئی سرگوشی کی بات کرتا تو آپ اس وقت تک اپناسر اس کے منھ سے الگ نہ فرماتے جب تک کان میں وہ کچھ کہتا رہتا اور آپ اپنے اصحاب کی مجلس میں کبھی پائوں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے اور جو آپ کے سامنے آتا آپ سلام کرنے میں پہل فرماتے اور ملاقاتیوں سے مصافحہ فرماتے اور اکثر اوقات اپنے پاس آنے والے ملاقاتیوں کے لئے آپ اپنی چادر مبارک بچھادیتے اور اپنے اصحاب کو ان کی کنیتوں اور اچھے ناموں سے پکارتے ، کبھی کسی بات کرنے والے کی بات کو کاٹتے نہیں تھے ، ہر شخص سے خوشروئی کے ساتھ مسکرا کر ملاقات فرماتے ، مدینہ کے خدام اور نوکر چاکر برتنوں میں صبح کو پانی لے کر آتے تاکہ حضور اان کے برتنوں میں دست مبارک ڈبودیں اور پانی متبرک ہوجائے تو سخت جاڑے کے موسم میں بھی صبح کو حضورﷺ ہر ایک کے برتن میں اپنا مقدس ہاتھ ڈال دیا کرتے تھے اور جاڑے کی سردی کے باوجود کسی کو محروم نہیں فرماتے تھے۔ (مشکوٰۃ،ص؍۵۱۹،۵۲۰)

آپ روزانہ اپنی ازواج مطہرات سے ملاقات فرماتے اور اپنی صاحبزادیوں کے گھروں پر بھی رونق افروز ہوکر ان کی خبر گیری فرماتے اور اپنے نواسوں اور نواسیوں کو بھی اپنے پیار وشفقت سے بار بار نوازتے اور سب کی دلجوئی و دلداری فرماتے اور بچوں سے بھی گفتگو فرماکر ان کی بات چیت سے اپنادل خوش کرتے اور ان کا بھی دل بہلاتے ، اپنے پڑوسیوں کی بھی خبر گیری اور ان کے ساتھ انتہائی کریمانہ اور مشفقانہ برتائو فرماتے ۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو !حضور اقدس ﷺ نے اپنے طرز عمل اور اپنی سیرت مقدسہ سے ایسے اسلامی معاشرے کی تکمیل فرمائی کہ اگر آج بھی دنیا والے آپ کی سیرت طیبہ پر عمل کرنے لگیں تو پوری دنیا میں امن و سکون اور محبت ورحمت کا دریا بہنے لگے اور سارے عالم سے جدال و قتال کا ماحول ختم ہو جائے اور دنیاامن وامان اور پیار ومحبت کاگہوارہ بن جائے۔ آئیے اب اخلاقِ کریمانہ کی ایک اور خوبی ’’حیا‘‘ کے متعلق پڑھئے اور اپنے دل کو محبت رسول ا سے لبریز کیجئے۔

حیا : حضور اقدس اکی ’’حیا ‘‘ کے بارے میں اللہ رب العزت کا یہ فرمان سب سے بڑا شاہد ہے کہ ’’اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْی مِنْکُمْ‘‘ بیشک تمہاری یہ بات نبی کو ایذا پہنچاتی ہے لیکن وہ تم لوگوں سے حیا کرتے ہیں۔

آپ کی شان حیا کی تصویر کھینچتے ہوئے ایک معزز صحابی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ’’آپ کنواری پردہ نشین عورت سے بھی کہیں زیادہ حیا دار تھے‘‘۔(بخاری شریف جلد۱ ؍ص۵۰۳ باب صفۃ النبی ا)

اس لئے ہر قبیح قول وفعل اور ہر قابل مذمت حرکات وسکنات سے عمر بھر ہمیشہ آپ کا دامن عصمت پاک و صاف ہی رہا اور پوری حیات مبارکہ میں وقار و مروت کے خلاف آپ سے کوئی عمل سرزد نہیں ہوا۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حضورﷺ نہ فحش کلام تھے ، نہ بیہودہ گو، نہ بازاروں میں شور مچانے والے تھے ، برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیا کرتے تھے ، بلکہ معاف فرمادیا کرتے تھے ۔ (مشکوٰہ، ص؍۵۱۹)

اسی طرح ایفائے عہد یعنی وعدہ پورا کرنا یہ بھی آپ کی حیاتِ طیبہ کا ایک نمایاں گوشہ اور اخلاقِ حسنہ کا ایک عظیم جز ہے۔

وعدہ کی پابندی: ایفائے عہد اور وعدہ کی پابندی بھی اخلاق حسنہ کا نہایت ہی اہم جزہے۔ اس خصوصیت میں بھی رسول عربی اکا خلق عظیم بے مثال ہی ہے ۔

حضرت ابو الحمساء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اعلان نبوت سے پہلے میں نے حضور اسے کچھ سامان خریدا اسی سلسلہ میں میری کچھ رقم آپ کے ذمہ باقی رہ گئی ، میں نے آپ سے کہا کہ آپ یہیں ٹھہریئے میں ابھی ابھی گھر سے رقم لاکر اسی جگہ آپ کو دے دیتا ہوں ۔ حضور ﷺ نے اسی جگہ ٹھہرے رہنے کا وعدہ فرمالیا ، مگر میں گھر آکر پنا وعدہ بھول گیا ، پھر تین دن کے بعد جب مجھے خیال آیا تو رقم لے کر اس جگہ پر پہنچتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور ﷺ اسی جگہ ٹھہرے ہوئے میرا انتظار فرما رہے ہیں ، مجھے دیکھ کر ذرا بھی آپ کی پیشانی پربَل نہیں آیا اور اس کے سوا آپ نے اور کچھ نہیں فرمایا کہ اے نوجوان! تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا کیوں کہ میں اپنے وعدے کے مطابق تین دن سے یہاں انتظار کررہا ہوں۔ ( شفاء شریف جلد ۱؍ص ۷۴)

عدل: خدا کے مقدس رسول ﷺ تمام جہان میں سب سے زیادہ امین ، سب سے بڑھ کر عادل اور پاک دامن وراست باز تھے ۔ یہ وہ روشن حقیقت ہے کہ آپ کے بڑے بڑے دشمنوں نے بھی اس کا اعتراف کیا ۔ چنانچہ اعلان نبوت سے قبل تمام اہل مکہ آپ کو ’’صادق الوعد‘‘اور ’’امین‘‘ کے معزز لقب سے یاد کرتے تھے ۔

حضرت ربیع بن خیثم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ مکہ والوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ آپ اعلیٰ درجہ کے امین اور عادل ہیں ، اس لئے اعلان نبوت سے پہلے اہل مکہ اپنے مقدمات اور جھگڑوں کا آپ سے فیصلہ کرایا کرتے تھے اور آپ کے تمام فیصلوں کو انتہائی احترام کے ساتھ بلا چون و چرا تسلیم کرلیتے تھے اور کہا کرتے کہ یہ امین کا فیصلہ ہے۔ (شفاء شریف جلد۱؍ص ۷۸، ۷۹)

آپ کس قدر بلند مرتبہ عادل تھے اس کے بارے میں بخاری شریف کی ایک روایت شاہد عدل ہے کہ قبیلۂ قریش کے خاندان بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی ، اسلام میں چوری کی سزا یہ ہے کہ اس کا دایاں ہاتھ پنچوں سے کاٹ دیا جائے ، قبیلۂ قریش کو اس و اقعہ سے بڑی فکر دامن گیر ہوگئی کہ اگر ہمارے قبیلہ کی اس عورت کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا تو یہ ہماری خاندانی شرافت پر ایسا بد نما داغ ہوگا جو کبھی مٹ نہ سکے گا اور ہم لوگ تمام عرب کی نگاہوں میں ذلیل وخوار ہوجائیں گے ، اس لئے ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ بارگاہ رسالت میں کوئی زبردست سفارش پیش کردی جائے تاکہ آپ اس عورت کا ہاتھ نہ کاٹیں ۔ چنانچہ ان لوگوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو جو نگاہ نبو ت میں انتہائی محبوب تھے ،دبائو ڈال کر اس بات کے لئے آمادہ کرلیا کہ وہ دربار رسالت میں سفارش کریں۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اشراف قریش کے اصرار سے متأثر ہوکر بارگاہ اقدس میں سفارش عرض کردی، یہ سن کر پیشانیٔ نبوت پر جلال کے آثار نمودار ہوگئے اور آپ نے نہایت ہی غضبناک لہجہ میں فرمایا کہ ’’اَتَشْفَعُ فِیْ حَدٍّ مِّنْ حُدُوْدِاللّٰہِ ‘‘ کہ اے اُسامہ! تو اللہ کی مقرر کی ہوئے سزائوں میں سے ایک سزا کے بارے میں سفارش کرتا ہے ۔ پھر اس کے بعد آپ نے کھڑے ہوکر ایک خطبہ دیا اور اس خطبہ میں یہ ارشاد فرمایا کہ ’’یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّمَا ضَلَّ مِنْ قَبْلِکُمْ اِنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا سَرَقَ الشَّرِیْفُ تَرَکُوْہُ وَاِذَا سَرَقَ الضَّعِیْفُ فِیْھِمْ اَقَامُوْا عَلَیْہِ الْحُدُوْدَ وَاَیْمَ اللّٰہِ لَوْ اَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ یَدَھَا‘‘اے لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اس وجہ سے گمراہ ہوگئے کہ جب ان میں کوئی شریف چوری کرتا تھا تو اس کو چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر سزائیں قائم کرتے تھے ۔ خداکی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے گی تو یقینا محمد (ﷺ) اس کا ہاتھ کاٹ لے گا۔ ( بخاری شریف جلد ۲؍ص ۱۰۰۳باب کراہیۃ الشفاعۃ فی الحدود)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! یہ تو عدلِ مصطفیاکی ایک جھلک ہے ورنہ تو آپ کی حیاتِ طیبہ میں عدل و انصاف کے سیکڑوں واقعات ملتے ہیں ۔

وقار: حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ حضور نبی کریم ﷺ اپنی مجلسوں میں جس قدروقار کے ساتھ رونق افروز رہتے تھے بڑے سے بڑے بادشاہوں کے دربار میں بھی اس کی مثال نہیں مل سکتی ۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ آپ کی مجلس حلم وحیا اور خیر وامانت کی مجلس ہوا کرتی تھی ، آپ کی مجلس میں کبھی کوئی بلند آواز سے گفتگو نہیں کرسکتا تھا اور جب آپ کلام فرماتے تھے تو تمام اہل مجلس اس طرح سر جھکائے ہوئے ہمہ تن گوش بن کر آپ کا کلام سنتے تھے کہ گویا ان کے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔

حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نہایت ہی وقار کے ساتھ اس طرح ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے کہ تھے کہ اگر کوئی شخص آپ کے جملوں کو گننا چاہتا تو وہ گن سکتا تھا ۔

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! اس سنت کو آج زندہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرزِ حیات سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور جب کبھی بڑوں، بزرگوں کی محفلوں میں جائیں تو ادب و احترام کا مکمل لحاظ کریں۔

غذا سے متعلق ہدایت: حضور ارات کو بھوکا سونے سے منع فرماتے تھے اس لئے کہ اس سے بوڑھاپا جلد آتاہے اور کھانا کھاکر فورا ًسوجانے سے بھی منع فرماتے ، کم کھانے کی ہدایت دیتے اور فرماتے تھے کہ ایک تہائی معدہ کھانے کے لئے ، ایک تہائی پانی کے لئے اور ایک تہائی خود معدہ کے لئے چھوڑنا چاہئے ، پھلوں اور ترکاریوں کا استعمال ان کی مصلح چیزوں کے ساتھ فرماتے۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! ان ہدایات پر عمل کرنے کی آج سخت ضرورت ہے۔ آج ہم میں سے اکثر لوگ خرابیِ معدہ کی شکایت کرتے ہیں۔ یقینا اگر لوگ ان ہدایات پر عمل کریں تو زندگی بھر کبھی انہیں معدہ کی خرابی کی شکایت نہ ہوگی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سائنس آج جو مشورے اور ہدایات دے رہی ہے حضور رحمت عالمﷺ نے چودہ سو سال پہلے ہی ان جیسے سیکڑوں ہدایات اور پر حکمت ارشادات سے امتِ مسلمہ کو نوازا ہے۔

مرض اور مریض: متعدی امراض سے بچائو رکھتے اور تندرستوں کو ان سے بچنے کا حکم دیتے ، ماہر طبیب سے علاج کرانے کا مشورہ دیتے اور پرہیز کرنے کی بھی ہدایت کرتے۔

عیادت: اگر کوئی صحابی بیمار ہوجاتے تو ان کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے، مریض کے قریب بیٹھ کر اس کو تسلی دیتے اور فرماتے’’لَابَأسَ طُھُوْرٌ‘‘ یا ’’کَفَّارَۃٌ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ‘‘ مریض سے دریافت کرتے کہ کس چیز کے لئے دل چاہتا ہے اگر وہ چیز مضر نہ ہوتی تو اس کا انتظام فرما دیتے، ایک یہودی لڑکا آپ کی خدمت کیا کرتا تھا جب وہ بیمار ہوگیا تو آپ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو!اس سے یہ درس ملتا ہے کہ بڑوں کو چاہئے کہ چھوٹے جب بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت کریں۔اس واقعہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضوﷺ نہ صرف صحابۂ کرام بلکہ اگر آپ سے وابستہ کوئی غیر مسلم بھی بیمار ہوجاتا تو اس کی عیادت فرماتے ، اس سے بڑھ کر انسان دوستی کی مثال اور کیا ہو سکتی ہے ؟

علاج: بیماری کی حالت میں اپنا علاج کراتے اور لوگوں کو بھی علاج کرانے کا حکم فرماتے کہ اے خدا کے بندو! دوا کیا کرو کیونکہ خدانے ہر مرض کی دوا پیدا کی ہے سوائے بڑھاپے کے۔

میرے پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو! معلوم ہوا کہ علاج کرنا ،کرانا تَوَکُّلْ عَلَی اللّٰہ کے خلاف نہیں ہے بلکہ بیماری کی صورت میں علاج کرانا سنت مصطفیٰﷺ ہے۔

اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑھاپے کا کوئی علاج نہیں لہٰذا اللہ کے رسولﷺ پر ایمان لانے والوں کو ان لوگوں کے فریب میں نہیں پڑنا چاہئے جو یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہم بڑھاپے کو جوانی سے تبدیل کرسکتے ہیں ۔

صدقہ وہدیہ: صدقہ کی چیز ہر گز استعمال نہ فرماتے البتہ تحفہ اور ہدیہ قبول فرماتے، مسلمان، یہودی، عیسای کا تحفہ قبول فرماتے اور مشرکوں کا تحفہ قبول نہ فرماتے۔

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو!ہمیں بھی چاہئے کہ دشمنان خدا ورسول (ﷺ) سے دوستی نہ رکھیں اور ان کے تحفے ،تحائف بھی قبول نہ کریں ۔