فضل وکمال

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے جملہ علوم وفنون کی تکمیل چودہ سال کی عمر تک کرلی تھی جیسا کہ آپ پڑھ چکے ۔ اس کم سنی میں انہوں نے کتنے علوم وفنون کی سیر کی اسکی تفصیل کیلئے آپ کی تصانیف پڑھے بغیر صحیح اندازہ نہیں کیا جاسکتا ۔

اجمالی طور پر اتنا سمجھ لینا چاہیئے کہ آپ نے پچاس سے زیادہ علوم وفنون پر اپنی چھوٹی بڑی تقریباً ایک ہزار تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جنکا قدر معتد بہ حصہ منظر عام پر آچکا ہے اور پوری دنیائے علم وفن سے خراج تحسین حاصل کررہاہے ۔

آپ کے علم وفضل کا اعتراف صرف عقیدت مند اور مدح خواں حضرات ہی نہیں کرتے ،مدارس اسلامیہ اور مساجد تک ہی آپ کے علمی کمالات کے چرچے محدود نہیں ، محض منبرواسٹیج ہی پر انکے فضل وکمال کا خطبہ نہیں پڑھاجاتا بلکہ اب ان تمام روایتی مجامع ومحافل سے نکل کر آپکے تبحر علمی کا ڈنکا پوری علمی دنیا میں بج رہا ہے ، کالج اور یونیورسٹیاں بھی انکی تحقیقات نادرہ پر خراج عقیدت پیش کررہی ہیں ۔ پروفیسرو لکچرر حضرات بھی انکے علمی کارناموں پر ریسرچ اسکالروں سے پی ،ایچ ،ڈی کے مقالے لکھوارہے ہیں۔ ہندوپاک سے لیکر جامع ازہر تک ، بریطانیہ سے امریکہ تک پوری دنیا کے متعدد تحقیقی مراکز سیکڑوں افراد کو ایم فل اور پی ، ایچ ، ڈی کی ڈگریاں دے چکے ہیں ۔لیکن پھر بھی جو کچھ ہوا وہ آغاز باب ہے ۔

ماہرین رضویات کا کہنا ہے کہ فرد واحد نے اتنا بڑا کام کردیا ہے کہ پوری ملت اسکو سمیٹ نہیں پارہی ہے ، جبکہ آج تک انکی سیرت وسوانح اور تحقیقی کاموں پر لکھی جانے والی کتابوں اور مقالوں کی کی تعداد بجائے خود ہزار سے تجاوز کرچکی ہے ۔

اس محتصر میں ان تمام تفصیلات کی گنجائش نہیں بلکہ اجمالی فہرست پیش کرنا بھی دشوار ہے ۔ یہاں صرف چند چیزوں کی نشاندھی مقصود ہے ۔

تمام علوم اسلامیہ میں اصل قرآن وحدیث کا علم ہے جس میں بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے مکمل اصول وقوانین موجود ہیں اور فقہ اسلامی نے زندگی کے ہر موڑ پر آنیوالی مشکلات کی گرہیں کھول کر لوگوں کیلئے آسانیاں فراہم کردی ہیں ۔

امام احمد رضا قدس سرہ نے بھی خاص طورپر پوری زندگی انہی علوم کا سبق پڑھایا اور قوم مسلم کو غلط روی سے بچانے کیلئے انہی علوم کے ذریعہ ہدایت کی راہیں ہموار کیں ۔ آپ کا دور نہایت ناگفتہ بہ حالات سے دوچار تھا ۔ نئے نئے فرقے جنم لے رہے تھے۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی تھیں ۔ دین اسلام کے نام پر ایسی باتیں سنائی جارہی تھیں جو سچے مسلمانوں کے سچے آباء واجداد نے بھی کبھی نہیں سنی تھیں ۔ نہ عظمت باری کا لوگوںکو خیال رہ گیا تھا اور نہ تعظیم رسول کا پاس تھا ۔

ہندوستان کی سرزمین خاص طور پر اس زمانہ میں مسلمانوں کی ابتلاء وآزمائش کے ماحول سے دوچار تھی ۔ انگریزوں نے تفریق بین المسلمین کیلئے جوچال چلی تھی وہ پورے طور پر کامیاب ہوتی نظر آرہی تھی ، کچھ صاحبان جبہ ودستار کو خرید کر مسلمانوں کے قدیمی نظریات وعقائد کو مٹانے کی ناپاک سازش تیار کرچکے تھے جس کی لپیٹ میں پورا ہندوستان تھا۔

خداوند قدوس کا فضل بے پایاں تھا اپنے خاص بندوں پر جنہوں نے ان فتنوں کو روز اول ہی سے کچل دینے کی کوشش شروع فرمائی ۔

ہندوستان میں اسلاف کے نظریات سے ہٹانے کی سازش سب سے پہلے دہلی کے عظیم علمی گھرانے ،خاندان شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے ایک فرد مولوی محمد اسمعیل دہلوی کی رسوائے زمانہ کتاب تقویۃ الایمان کے ذریعہ کی گئی ۔ لیکن اسکا زبانی اور قلمی رد اسی دور میں اس انداز سے شروع ہوا کہ شاید اس کتاب کے علاوہ کسی دوسری کتاب پر اتنی گرفتیں ہندوستان میں نہ ہوئی ہونگی ، پورے ہندوستان کے علماء نے متعدد مقامات سے اسکے رد لکھے اور چھاپے ۔ بطل حریت مجاہد اعظم جنگ آزادی حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی نے ایک جماعت علماء کے ساتھ جامع مسجد دہلی میں بر وقت موأخذے کئے جس سے دودھ اور پانی کا امتیاز روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا تھا ۔ البتہ بعض لوگوں کی بے جا حمایت نے ایسی دلدل میں پھنسایا کہ آج تک انکے اذیال واذناب اسی میں پھنسے ہیں ، تفویۃ الایمان کی ناپاک عبارات کی توجیہ کر تے کرتے اس منزل پر آ کھڑے ہوئے کہ ’’ فر عن المطر و قام تحت المیزاب‘‘ کا منظر لوگ اپنی نگاہو ں سے دیکھ رہے ہیں ۔

کسی نے امکان کذب کی بحث چھیڑ دی اور کسی نے ختم نبوت پر اجماع امت کے خلاف غلط توجیہات کر کے متقدمین و اسلاف کے عقائد صحیحہ کو جاہلانہ خیال لکھ دیا ۔ کوئی حضور کے علم غیب کو جانورں ، بچوں اور پاگلوں کے علم سے تشبیہ دینے سے بھی نہ شرمایا ۔ اور کوئی دعوائے نبوت کر کے ان سب کو اپنے پیچھے چھوڑ گیا بلکہ انکے کھولے ہوئے دروازہ میں انکے ارمانوں کا خون کر کے خود داخل ہو گیا ۔

اس دور میں علمائے ملت اسلامیہ کے لئے ایک ایسے قافلۂ سالار کی ضرورت تھی جو ان سب کا مقابلہ کرے اور انکی نقاب الٹ کر اصلی پوزیشن واضح کر دے جو ر ہبری کے بھیس میں رہزنی کر رہے تھے۔

خداوند قدوس نے اپنی قدرت کاملہ سے ایسا بطل جلیل اس ملت کو عطا فرمایا جو اپنی مثال آپ تھا۔ گزشتہ اوراق میں قارئین انکی پاک زندگی کے واقعات بچپن سے جوانی تک پڑھ آئے۔ آئندہ پیغامات میں ملاحظہ کریں کہ انکی خدمات کیا تھیں۔ اور انہوں نے تجدید و احیائے دین کا فریضہ کس حسن وخوبی کے ساتھ انجام دیا۔ عشق رسول کا سبق کس انداز سے پڑھایا ۔ آپ کی ہر تصنیف ہمارے اس دعویٰ کا بین ثبوت ہے ۔