أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعۡلَمُ مَنۡ يَّضِلُّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ‌ۚ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُهۡتَدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک آپ کا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے گمراہ ہوگا، اور وہ ہدایت پانے والوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک آپ کا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے گمراہ ہوگا، اور وہ ہدایت پانے والوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔ (الانعام : ١١٧) 

اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ جب آپ کو معلوم ہوگیا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے ‘ تو پھر آپ ان مخالفین کے درپے نہ ہوں ‘ بلکہ ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون گمراہ ہے ؟ وہ ہر شخص کو اس کے عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے جزا دے گا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ کافر اگرچہ بہت یقین کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں لیکن وہ جھوٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے احوال پر مطلع ہے ‘ اس کو معلوم ہے کہ یہ گمراہی کے راستہ میں بھٹک رہے ہیں اور جہالت کی وادیوں میں سرگرداں ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 117