حدیث نمبر :584

روایت ہے حضرت قبیصہ ابن وقاص سے فرماتے ہیں فرمایارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بعد تم پر ایسے حکام ہوں گے جونمازمیں دیرلگایا کریں گے تو وہ تمہارے لئے مفید اوران پر وبال ہے ۱؎ تم ان کے ساتھ نمازپڑھتے رہنا جب تک وہ کعبے کی طرف نمازپڑھیں۲؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ اس لئے کہ تم علیحدہ وقت مستحب میں نماز پڑھ چکوگے اوران کے ساتھ بہ نیت نفل شریک ہوکرڈبل ثواب پالو گے اور وہ فرض ہی ان مکروہ اوقات میں پڑھیں گے،لہذا تم نفع میں اور وہ نقصان میں رہیں گے۔اور اگر تم صحیح وقت پر الگ نماز نہ پڑھ سکے ان کے ساتھ ہی پڑھنے پرمجبور ہوئے تومعذوری کی وجہ سے تم گنہگار نہ رہوگے۔

۲؎ شرح اکبرمیں ملاعلی قاری نے فرمایا کہ ان جیسے مقامات میں کعبہ کی طرف نمازپڑھنے سے مرادصحیح العقیدہ مسلمان ہوناہے نہ کہ فقط نمازمیں کعبہ کو منہ کرلینا،اس زمانہ میں منافقین اورآج کل مرزائی،چکڑالوی وغیرہ مرتدین سب ہی نماز میں کعبہ کو منہ کرلیتے ہیں حالانکہ ان کی اقتداء میں نمازقطعًا باطل ہے۔جب گندے کپڑے والے کے پیچھے نمازنہیں ہوتی تو گندے عقیدے اورگندے دل والے کے پیچھے نمازکیسے ہوگی؟حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ان حکام کے عقائدخراب نہ ہوں صرف عمل خراب ہوں تب تک ان کے پیچھے نمازپڑھ لو،اسی لئے فقہا فرماتے ہیں کہ فاسق کو امام بناؤ مت لیکن اگربن گیاہوتو اس کے پیچھے نمازپڑھ لو اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔خیال رہے کہ جوفاسق خودنمازمیں کسی حرام کا مرتکب ہورہا ہو تواس کے پیچھے نماز درست نہیں،اگر پڑھ لی تولوٹانا واجب ہے۔پہلے کی مثال جیسے چوروزانی کے پیچھے نماز کے وہ نماز میں یہ حرکتیں نہیں کررہا ہے۔دوسرے کی مثال جیسے داڑھی منڈے،ریشمیں یاطلائی کپڑے پہنے ہوئے یاشراب کے نشے میں مست کے پیچھے نماز،لہذا فقہاءکے فتاوےٰ میں اختلاف نہیں۔