’’نماز مغرب‘‘

نماز مغرب کی فضیلت :-

۱) رزین نے مکحول سے روات کی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں ’’جو شخص بعد مغرب کلام کرنے سے پہلے دو رکعت پڑھے ، اس کی نماز علّیین میں اٹھائی جاتی ہے ۔‘‘

۲) حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں کہ ’’مغرب کے بعد کی دونوں رکعتیں جلدی پڑھو کہ وہ فرض کے ساتھ پیش ہوتی ہیں۔‘’ (طبرانی)

تعداد نماز مغرب کی رکعتیں
۳ فرض
۲ سنت مؤکدہ
۲ نفل

 

مغرب کی نماز کا وقت غروب آفتاب سے غروب شفق تک ہے ۔ ( بہار شریعت)

شفق ہمارے مذہب میں اس سفیدی کا نام ہے جو مغرب کی جانب سرخی ڈوبنے کے بعد جنوباً شمالاً صبح صادق کی طرح پھیلی رہتی ہے ۔ ( ہدایہ ، شرح وقایہ ، عالمگیری)

 مغرب کا وقت سپیدی ڈوبنے تک ہے یعنی چوڑی سفیدی کہ جنوباً شمالاً پھیلی ہوئی اور بعد سرخی غائب ہونے تادیر باقی رہتی ہے ۔ جب وہ سفیدی نہ رہے تب مغرب کا وقت ختم ہوا اور عشاء کا شروع ہوا ۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۲۲۶)

مغرب کا وقت کم سے کم :- ۱ ؍ گھنٹہ اور ۱۸ ؍ منٹ رہتا ہے ۔

زیادہ سے زیادہ :- ۱؍ گھنٹہ اور ۳۵ منٹ رہتا ہے ۔

( بہار شریعت ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲، ص ۲۲۶)

مغرب کی نماز کا وقت سال بھر میں مندرجہ ذیل نقشہ کے مطابق گھٹتا بڑھتا ہے :-

پھر کیا ہوتا ہے منٹ

گھنٹہ

کب نمبر
پھر بڑھتا ہے ۱۸

۱

آخر مارچ ۱
پھر گھٹتا ہے ۳۵

۱

آخر جون ۲
پھر بڑھتا ہے ۱۸

۱

آخر ستمبر ۳
رہ جاتا ہے ۲۴

۱

آخر دسمبر ۴

 

(بحوالہ فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۲۲۶)

نوٹ: مغرب کی نماز کا یہ وقت بھی ان شہروں کیلئے ہے جو بریلی شریف کے طول البلد اور عرض البلد پر واقع ہیںدیگر بلاد میںکچھ منٹ کے فرق کا امکان ہے۔

 ہر روز نماز فجر اور نماز مغرب کے وقت کی مقدار برابر ہوتی ہے ۔ ( بہار شریعت )

نماز مغرب کے متعلق اہم مسائل :-

مسئلہ:مغرب کی اذان کے بعد تین چھوٹی آیات یا ایک بڑی آیت پڑھنے کے وقت کی مقدار جتنا وقفہ کرکے اقامت دے دینی چاہئے ۔ ( عالمگیری)

مسئلہ:اذان مغرب میں بلا وجہ شرعی تاخیر خلاف سنت ہے ۔(فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص۳۵۵)

مسئلہ:اگر ایک نقطہ بھر سورج کا کنارہ غروب ہونے کو باقی ہے اور نماز مغرب کی تکبیر تحریمہ کہی تو نماز نہ ہوگی ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۳۶۰)

مسئلہ:غروب آفتاب اور مغرب کے فرض کے درمیان نفل نماز پڑھنا منع ہے ۔ (در مختار ، عالمگیری)

مسئلہ:مغرب کی نماز میں اتنی دیر کرنا کہ چھوٹے چھوٹے ستارے بھی چمک آئیں مکروہ ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ،جلد ۲ ، ص ۲۲۶)

مسئلہ:بادل کے دن کے سوا مغرب میں ہمیشہ تعجیل ( جلدی)کرنا مستحب ہے ۔ (درمختار)

حدیث :- ابوداؤد نے حضرت عبدالعزیز بن رفیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں ’’ دن کی نماز ( عصر کی نماز) بادل کے دن میں جلدی پڑھو اور مغرب میں تاخیر کرو ۔‘‘

حدیث :- امام احمد و ابوداؤد حضرت ابوایوب اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں ’’ میری امت ہمیشہ فطرت پر رہے گی جب تک مغرب میں اتنی تاخیر نہ کریں کہ ستارے گتھ جائیں ۔‘‘

حدیث غروب آفتاب کے بعد دو رکعت پڑھنے کے وقت کی مقدار سے زیادہ تاخیر( دیر ) کرنا مکروہ تنزیہی ہے اور اتنی تاخیر کرناکہ ستارے گتھ گئے تو مکروہ تحریمی ہے لیکن عذر شرعی ، سفر یا مرض کی وجہ سے اتنی تاخیر ہوجائے تو حرج نہیں ۔ ( درمختار)

حدیث :- حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر میں تھا اور وہ بہ سرعت چلتے تھے ۔ اثناء راہ سورج ڈوب گیا اور انہوں نے مغرب کی نماز نہ پڑھی حالانکہ میں نے ان کی ہمیشہ کی عادت یہی پائی تھی کہ نماز کی محافظت فرماتے تھے۔جب نماز میں دیر لگائی تو میں نے کہا خدا آپ پر رحم فرمائے نماز ۔ آپ نے میری طرف دیکھا اور آگے روانہ ہوئے ۔ جب شفق کا اخیر حصہ رہا اتر کر مغرب پڑھی ۔ پھر عشاء کی تکبیر اس حال میں کہی کہ شفق ڈوب چکی تھی اس وقت عشاء پڑھی پھر ہماری طرف منہ کرکے فرمایاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی ایسا ہی کرتے ۔ ‘‘ ( نسائی )

( بحوالہ :- فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۲۴۰)

مسئلہ:مغرب کے فرض کے بعد دونوں سنتیں جلدی پڑھ لینی چاہئے اور فرض و سنت کے درمیان کلام نہ کرنا چاہئے ۔

حدیث :- حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں ’’ کہ جو بعد مغرب کلام کرنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے ، اس کی نماز علیین میں اٹھائی جاتی ہے ۔ ( طبرانی)

مسئلہ:جس مقتدی کو مغرب کی جماعت کی تیسری رکعت ملی ہو وہ جب اپنی فوت شدہ دو رکعتیں پڑھے تب پہلی رکعت کے بعد قعدہ ضرور کرے یعنی ایک رکعت کے بعد قعدہ کرے اور اس میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہوجائے پھر دوسری پڑھے اور قعدہ ٔ اخیرہ کرے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۳۹۲)

مسئلہ:بعد نماز مغرب ’’ صلوۃ الاوابین‘‘ پڑھنے کی بہت فضیلت ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ’’ جو مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔‘‘ ( طبرانی)

نوٹ: فرائض کی ادائیگی بہت ہی لازمی ہے نوافل کی مقبولیت کا دارومدارفرائض کی ادائیگی پر ہے مذکورہ بالا حدیث میں مغرب کے بعد چھ رکعت ’’صلوٰۃ الاوابین‘‘پڑھنے کی جو فضیلت بیان فرمائی گئی ہے اس کا ثواب ان لوگوں کیلئے ہے جن پر کسی فرض یاواجب نماز کی قضا پڑھنا باقی نہ ہو ۔