حدیث نمبر :583

روایت ہے حضرت عبادہ بن صامت سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد تم پر ایسے حکام ہوں گے جنہیں کچھ چیزیں وقت پر نماز پڑھنے سے روک دیں گی ۱؎ یہاں تک کہ ان کے وقت نکل جایا کریں گے تو تم وقت پر نماز پڑھ لیا کرو۲؎ ایک صاحب بولے کہ یارسول اﷲ ان کے ساتھ بھی ہم نماز پڑھاکریں فرمایا ہاں۳؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ اس میں خطاب صحابہ سے ہے اور اس میں غیبی خبرہے اور یہ خبرہوبہوپوری ہوئی،چنانچہ یزید ابن معاویہ اورحجاج ابن یوسف کے زمانہ میں ایسے حکام مقررہوئے جو نمازوں میں سستی کرتے اور مکروہ وقت میں پڑھتے تھے اوران کے بغیر امام نماز نہ پڑھا سکتے تھے۔یہ ہے حضور کاعلم غیب اب تو حکام کو نمازسے کچھ تعلق ہی نہیں انہوں نے مسجد کا راستہ بھی نہیں دیکھا۔اِلَّامَاشَآءَاﷲُ!

۲؎ یعنی ان کی وجہ سے تم نمازمکروہ وقت میں نہ پڑھنا بلکہ اپنے گھروں میں یامسجدوں میں اکیلے یا اپنی جماعت الگ کرکے وقت مستحب پر اداکرلیاکرنا۔

۳؎ تاکہ ان کے شر سے بچو کیونکہ اگرتم ان کے ساتھ نمازوں میں شامل نہ ہوگے تو وہ تم پربدگمانی کرکے تمہیں ایذاپہنچائیں گے۔