أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ تُطِعۡ اَكۡثَرَ مَنۡ فِى الۡاَرۡضِ يُضِلُّوۡكَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور (اے مخاطب ! ) اگر تو زمین کے اکثر لوگوں کی اطاعت کرے تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے گمراہ کردیں گے ‘ وہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور صرف قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مخاطب ! ) اگر تو زمین کے اکثر لوگوں کی اطاعت کرے تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے گمراہ کردیں گے ‘ وہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور صرف قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ (الانعام : ١١٦) 

عقیدہ اور عمل کی گمراہیوں کی تفصیل : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر کفار کے شبہات بیان کیے اور ان کے جوابات دیئے۔ اس کے بعد فرمایا جب حق واضح ہوگیا ‘ پھر بھی اگر کوئی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرے اور آپ کے پیغام کو نہ مانے ‘ تو وہ محض اپنے گمان کی پیروی کرنے والا ہوگا اور گمراہ ہوگا۔ 

اس آیت میں فرمایا ہے کہ زمین کے اکثر لوگ تمہیں گمراہ کردیں گے اور گمراہ کرنا گمراہ ہونے کی فرع ہے ‘ اور گمراہی تین چیزوں میں متصور ہوسکتی ہے۔ الوہیت کے اعتقاد میں ‘ نبوت کے اعتقاد میں اور احکام شرعیہ کے اعتقاد میں۔ 

الوہیت کے اعتقاد میں گمراہی یہ ہے کہ کوئی شخص خدا کے وجود کو نہ مانے۔ جیسے دہریے ہیں ‘ یا متعدد خدا مانے ‘ جیسے مشرکین اور بت پرست ہیں ‘ یا وہ لوگ جو خدا کے بیٹے مانتے ہیں۔ جیسے عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو۔ 

نبوت کے اعتقاد میں گمراہی یہ ہے کہ مطلقا نبی کو نہ مانے۔ جیسے ہندو ‘ سکھ اور بدھ مذہب والے یا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے اور ختم نبوت کے بعد کسی اور نبی کی بعثت کا اعتقاد رکھے۔ جیسے مرزائی ‘ بہائی اور دیندار جو صدیق چن بشو شور کو مانتے ہیں ‘ یا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو لعنت اور تبرا کرنے والے جیسے رافضی ہیں ‘ یا آپ کی آل اطہار کو برا کہنے والے جیسے ناصبی ہیں ‘ یا دونوں کو برا کہنے والے جیسے خارجی ہیں ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نتقیص اور بےادبی کرے ‘ آپ کی زیارت کے لیے سفر کو حرام کہے اور بتوں کے حق میں نازل شدہ آیات کو آپ پر منطبق کرے ‘ آپ کے فضائل اور کمالات کو کم کرنے اور چھپانے میں کوشاں رہے ‘ یا جو دوسری جانب غلو کرے ‘ آپ کے بشر ہونے کا انکار کرے ‘ یا آپ کے لیے ذاتی علم غیب اور ذاتی قدرت مانے یا آپ کے کمالات اللہ تعالیٰ کے مساوی یا زائد قرار دے۔ 

احکام شرعیہ میں گمراہی یہ ہے کہ جس کام کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہو ‘ اس کو مستحب جاننا۔ جیسے شیعہ ماتم کرنے کو مستحب جانتے ہیں ‘ یا جس کام کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام نہ کہا ہو ‘ اس کو حرام کہنا ‘ جیسے کوئی شخص عرفا تاریخ مقرر کرکے ایصال ثواب کرے جیسے سوئم ‘ چہلم ‘ عرس اور گیارہوں شریف میں ایصال ثواب کیا جاتا ہے تو اس کو حرام کہا جائے ‘ یا میلاد شریف کے عنوان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل آپ کی سیرت اور آپ کا ذکر خیر کیا جائے تو اس کو حرام کہا جائے تو یہ احکام شرعیہ میں گمراہی ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص سوئم ‘ چہلم ‘ عرس ‘ گیارہوں شریف اور میلاد شریف کو فرض یا واجب کہے یا ان کے ساتھ فرض اور واجب کا معاملہ کرے بایں طور کہ نہ کرنے والے کو ملامت کرے اور گمراہ جانے یا اذان سے پہلے یا بعد صلاۃ وسلام پڑھنے کو واجب کہے ‘ یا اللہ کے بجائے اولیاء اللہ کی نذر اور منت مانے یا ان کی قبروں کا طواف کرے ‘ یا سجدہ تعظمی کرے ‘ یا اولیاء اللہ کو مستقل فی التصرف جانے ‘ اور یہ جان کر ان کو پکارے اور ان سے چاہے تو کوئی شبہ نہیں کہ یہ امور احکام شرعیہ میں گمراہی ہیں۔ 

اتباع ظن کی مذمت کی وضاحت : 

اس آیت میں اتباع ظن کی مذمت کی گئی ہے۔ اس پر یہ اعتراض ہوگا کہ اخبار آحاد اور قیاس پر جو عمل کیا جاتا ہے وہ بھی توظن کے درجہ میں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مشرکین جو ظن کی اتباع کرتے تھے تو اس کا استناد کسی قطعی دلیل پر نہیں تھا۔ اس کے برخلاف اخبار آحاد اور قیاس کا استناد ‘ دلیل قطعی پر ہے جو قرآن مجید ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 116