وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّۘ-اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِؕ-قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَؕ-قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ(۲۷)

اور انہیں پڑھ کر سناؤ آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر (ف۷۹)جب دونوں نے ایک ایک نیاز (قربانی)پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ قبول ہوئی بولا قسم ہے میں تجھے قتل کردوں گا (ف۸۰) کہا اللہ اسی سے قبول کرتا ہے جسے ڈر ہے (ف۸۱)

(ف79)

جن کا نام ہابیل اور قابیل تھا ۔ اس خبر کو سنانے سے مقصد یہ ہے کہ حسد کی برائی معلوم ہو اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسد کرنے والوں کو اس سے سبق حاصل کرنے کا موقع ملے ۔ عُلَماءِ سِیَر و اَخبار کا بیان ہے کہ حضرت حوّا کے حمل میں ایک لڑکا ایک لڑکی پیدا ہوتے تھے اور ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی کے ساتھ نکاح کیا جاتا تھا اور جب کہ آدمی صرف حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں منحصر تھے تو مناکحت کی اور کوئی سبیل ہی نہ تھی اسی دستور کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کا نکاح لیودا سے جو ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی اور ہابیل کا اقلیما سے جو قابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی کرنا چاہا ، قابیل اس پر راضی نہ ہوا اور چونکہ اقلیما زیادہ خوبصورت تھی اس لئے اس کا طلب گار ہوا ۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ تیرے ساتھ پیدا ہوئی لہٰذا تیری بہن ہے اس کے ساتھ تیرا نکاح حلال نہیں ، کہنے لگا یہ تو آپ کی رائے ہے اللہ تعالٰی نے یہ حکم نہیں دیا ، آپ نے فرمایا تو تم دونوں قربانیاں لاؤ جس کی قربانی مقبول ہو جائے وہی اقلیما کا حقدار ہے ، اس زمانہ میں جو قربانی مقبول ہوتی تھی آسمان سے ایک آ گ اُتر کر اس کو کھا لیا کرتی تھی ، قابیل نے ایک انبار گندم اور ہابیل نے ایک بکری قربانی کے لئے پیش کی ، آسمانی آ گ نے ہابیل کی قربانی کو لے لیا اور قابیل کے گیہوں چھوڑ گئی ، اس پر قابیل کے دل میں بہت بغض و حسد پیدا ہوا ۔

(ف80)

جب حضرت آدم علیہ السلام حج کے لئے مکّہ مکرّمہ تشریف لے گئے تو قابیل نے ہابیل سے کہا کہ میں تجھ کو قتل کروں گا ، ہابیل نے کہا کیوں ؟ کہنے لگا اس لئے کہ تیری قربانی مقبول ہوئی ، میری نہ ہوئی اور تو اقلیما کا مستحق ٹھہرا اس میں میری ذلّت ہے ۔

(ف81)

ہابیل کے اس مقولہ کا یہ مطلب ہے کہ قربانی کا قبول کرنا اللہ کا کام ہے وہ متّقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے تو متّقی ہوتا تو تیری قربانی قبول ہوتی ، یہ خود تیرے افعال کا نتیجہ ہے ، اس میں میرا کیا دخل ہے ۔

لَىٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَۚ-اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ(۲۸)

بے شک اگر تو اپنا ہاتھ مجھ پر بڑھائے گا کہ مجھے قتل کرے تو میں اپنا ہاتھ تجھ پر نہ بڑھاؤں گا کہ تجھے قتل کروں(ف ۸۲) میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو مالک سارے جہان کا

(ف82)

اور میری طرف سے ابتدا ہو باوجود یکہ میں تجھ سے قوی و توانا ہوں یہ صرف اس لئے کہ ۔

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِۚ-وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ(۲۹)

میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا (ف۸۳) اور تیرا گناہ (ف۸۴) دونوں تیرے ہی پلہ پڑے تو تو دوزخی ہوجائے اور بے انصافوں کی یہی سزا ہے

(ف83)

یعنی مجھ کو قتل کرنے کا ۔

(ف84)

جو اس سے پہلے تو نے کیا کہ والد کی نافرمانی کی ، حسد کیا اور خدائی فیصلہ کو نہ مانا ۔

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۳۰)

تو اس کے نفس نے اسے بھائی کے قتل کا چاؤ دلایا(قتل پراُبھارا) تو اُسے قتل کردیا تو رہ گیا نقصان میں (ف۸۵)

(ف85)

اور متحیّر ہوا کہ اس لاش کو کیا کرے کیونکہ اس وقت تک کوئی انسان مرا ہی نہ تھا ، مدّت تک لاش کو پُشت پر لادے پھرا ۔

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِؕ-قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْۚ-فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ(۳۱)ﮊ

تو اللہ نے ایک کوّا بھیجا زمین کریدتا کہ اسے دکھائے کیونکر(کس طرح) اپنے بھائی کی لاش چھپائے (ف۸۶) بولا ہائے خرابی میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ میں اپنے بھائی کی لاش چھپاتا تو پچتاتارہ گیا (ف۸۷)

(ف86)

مروی ہے کہ دو کوّے آپس میں لڑے ان میں سے ایک نے دوسرے کو مار ڈالا پھر زندہ کوّے نے اپنی مِنقار (چونچ) اور پنجوں سے زمین کُرید کر گڈھا کیا ، اس میں مرے ہوئے کوّے کو ڈال کر مٹی سے دبا دیا ، یہ دیکھ کر قابیل کو معلوم ہوا کہ مُردے کی لاش کو دفن کرنا چاہئے چنانچہ اس نے زمین کھود کر دفن کر دیا ۔(جلالین ، مدارک وغیرہ)

(ف87)

اپنی نادانی و پریشانی پر اور یہ ندامت گناہ پر نہ تھی کہ توبہ میں شمار ہو سکتی یا ندامت کا توبہ ہونا سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اُمّت کے ساتھ خاص ہو ۔ (مدارک)

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ ﳎ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ٘-ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ(۳۲)

اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کئے (ف۸۸) تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا(ف۸۹) اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا(ف۹۰) اس نے گویا سب لوگوں کو جِلالیا اور بیشک ان کے (ف۹۱) پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے (ف۹۲) پھر بے شک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں (ف۹۳)

(ف88)

یعنی خونِ ناحق کیا کہ نہ تو مقتول کو کسی خون کے بدلے قِصاص کے طور پر مارا ، نہ شرک و کُفر یا قطعِ طریق وغیرہ کسی موجِبِ قتل فساد کی وجہ سے مارا ۔

(ف89)

کیونکہ اس نے حقُّ اللہ کی رعایت اور حدودِ شریعت کا پاس نہ کیا ۔

(ف90)

اس طرح کہ قتل ہونے یا ڈوبنے یا جلنے وغیرہ اسبابِ ہلاکت سے بچایا ۔

(ف91)

یعنی بنی اسرائیل کے ۔

(ف92)

معجزاتِ باہرات بھی لائے اور احکام و شرائع بھی ۔

(ف93)

کہ کُفر و قتل وغیرہ کا ارتکاب کر کے حدود سے تجاوز کرتے ہیں ۔

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳)

وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے (ف۹۴) اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب

(ف94)

اللہ تعالٰی سے لڑنا یہی ہے کہ اس کے اولیاء سے عداوت کرے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ، اس آیت میں قطاعِ طریق یعنی رہزنوں کی سزا کا بیان ہے ۔

شانِ نُزول : ۶ھ میں عُرَیْنہ کے چند لوگ مدینہ طیّبہ میں آ کر اسلام لائے اور بیمار ہو گئے ، ان کے رنگ زرد ہو گئے ، پیٹ بڑھ گئے ، حضور نے حکم دیا کہ صدقہ کے اونٹوں کا دودھ اور پیشاب ملا کر پیا کریں ، ایسا کرنے سے وہ تندرست ہو گئے مگر تندرست ہو کر مرتَد ہو گئے اور پندرہ اونٹ لے کر وہ اپنے وطن کو چلتے ہو گئے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طلب میں حضرت یسار کو بھیجا ان لوگوں نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے اور ایذائیں دیتے دیتے شہید کر ڈالا پھر جب یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گرفتار کر کے حاضر کئے گئے تو ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ (تفسیرِ احمدی)

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْۚ-فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۳۴)

مگر وہ جنہوںنے توبہ کرلی اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ (ف۹۵) تو جان لوکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف95)

یعنی گرفتاری سے قبل توبہ کر لینے سے وہ عذابِ آخرت اور قطعِ طریق (رہزنی ) کی حد سے تو بچ جائیں گے مگر مال کی واپسی اور قصاص حقُ العباد ہے یہ باقی رہے گا ۔ (احمدی)