ترجمۂ قرآن۔ انبیائے سابقین کی امتوں کے گمراہی میں مبتلا ہو نے کا ایک خاص سبب یہ بھی تھا کہ انھوں نے آسمانی کتابوں میں ترمیم و تنسیخ کر ڈالی ۔ اپنی نفسانی خواہشات کے تابع بنانے کے لئے خداوند قدوس کی نازل کردہ کتابوں میں ہر طرح کے تغیر و تبدل سے کام لیا ۔ تحریف لفظی بھی کی گئی اور تحریف معنوی بھی ۔ چونکہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جسکی حفاظت کا وعدہ رب کریم نے خود فرمایا ہے۔ تو اس میں لفظی تبدیلی تو کوئی کر ہی نہیں سکتا تھا کہ جس سے لوگ گمراہ ہو تے اور اصل نظم کلام باری نسیا منسیا ہو جاتا ۔ البتہ معنوی تحریفا ت سے لوگوں نے ہر دور میں کچھ نہ کچھ شوشہ چھوڑا، اس طریقہ سے کتاب اللہ پر تو کوئی فرق نہ پڑا کہ اسکی معنوی تحریف کبھی اجماعی عقیدہ اور معمول بہ نہ بن سکی لیکن معنیٔ مراد کو غلط جامہ پہنا کر لوگوں کو اسلامی نطریات سے ہٹانے کی کوشش کی جا تی رہی۔

امام احمد رضا قدس سرہ کے زمانے میں لوگوں کو راہ حق سے ہٹا نے کے لئے جہاں دوسرے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے وہیں ترجمۂ قرآن میں اپنی خواہش نفس کے مطابق تبدیلیاں کی گئیں ۔

مثلا :۔ آیت کریمہ

و مکروا و مکر اللہ واللہ خیر الما کرین ۔

اور انہوں نے بنایا ایک فریب اور اللہ نے بنایا ایک فریب۔

انا فتحنالک فتحا مبینا، لیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاٗخر ۔

ہم نے فیصلہ کر دیا تیرے واسطہ صریح تاکہ معاف کرے تجھ کو اللہ تعالیٰ جو آگے ہو چکے تیرے گناہ اور پیچھے رہے۔( محمود الحسن )

بیشک ہم نے آپ کو کھلم کھلا فتح دی ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے۔ ( تھانوی )

اللہ یستھزیٗ بہم ویمدہم فی طغیانہم یعمہون۔

اللہ ا ن سے ٹھٹھا کرتا ہے ۔ ( سر سید )

اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے۔ (محمود الحسن )

وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین۔

اور ہم نے ایسے ( مضامین نافعہ دیکر ) آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا مگر دنیا جہان کے لوگوں (یعنی مکلفین) پر مہربانی کر نے کے لئے ۔( تھانوی)

ان حالات میں ضروری تھا کہ ترجمۂ قرآن مستند تفاسیر کی روشنی میں عام فہم طریقے پر پیش کیا جائے۔ لہذا قوم مسلم کے ایمان کی حفاظت کیلئے امام احمد رضا قدس سرہ نے

کنز الایمان ( ایمان کا خزانہ ) امت مسلمہ کو عطا فرمایا جس کے چرچے آج پورے عالم اسلام میں ہو رہے ہیں۔ ترجمہ کے جملوں بلکہ ہر ہر لفظ کی خوبیاں بیان کی جارہی ہیں۔ موزوں الفاظ اور حسن بیان کے سا تھ ساتھ فصاحت و بلاغت کا مرقع اہل اسلام کے ا یمان میں قوت اور روحانی بالیدگی کا منظر پیش کر تاہے ۔ کتنے حضرات نے اس ترجمہ کے محاسن بیان کرتے کرتے مستقل کتابیں لکھ دیں ۔ محقیقن نے مقالے لکھے۔ اور حال ہی میں کراچی پاکستان سے پروفیسر مجید اللہ صاحب قادری نے آٹھ سو سے زیادہ صفحات پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔


Kanz-ul-Eman Aur Marouf Tarajum Quran