جہنم کا بیان

عقیدہ :جہنم اللہ عزوجل کے قہر و جلال کا مظہر ہے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے ،’’ڈرو ا س آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ،تیار رکھی ہے کافروں کے لیے ‘‘۔(البقر ۃ :۲۴)قرآن کریم میں اسکے مختلف طبقات کا ذکر کیا گیا ہے ۔

۱)۔ جہنم (البقرۃ :۲۰۶) ۲)۔ حجیم (المائدہ :۱۰) ۳)۔ سعیر (فاطر :۶)

۴)۔ لظیٰ (المعارج :۱۵) ۵) ۔ سقر (المد ثر :۲۶) ۶)۔ حاویہ (القارعہ :۹)

۷)۔ حطمہ (الھمزۃ :۵)

جہنم میں مختلف وادیاں اور کنوئیں بھی ہیں اور بعض وادیاں توایسی ہیں کہ ان سے جہنم بھی ہر روز ستر مرتبہ یااس سے زیادہ بار پناہ مانگتا ہے ۔دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر اجزا ء میں سے ایک جز ہے ۔(بخاری )

دنیا کی آگ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہے کہ وہ اسے پھر جہنم میں نہ لے جائے ،تعجب ہے کہ انسان جہنم میں جانے کے کام کرتا ہے اور اس آگ سے نہیں ڈرتا جس سے آگ بھی پناہ مانگتی ہے ۔ جہنم کی چنگاریاں اونچے اونچے محلوں کے برابر اُڑتی ہیں ۔جیسے بہت سارے زرد اونٹ ایک قطار کی صورت میں آرہے ہوں ۔(المر سلٰت آیت ۳۳)