حکایت نمبر237: ستائیس سال مسلسل جہاد کرنے والا

حضرتِ سیِّدُنا عبدالوَھَّاب بن عَطَاء خَفَّاف علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق سے مروی ہے کہ” مجھے مدینۂ منورہ زَادَہَااللہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا کے مشائخ نے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا ابو عبدالرحمن فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بنو اُمیہ کے دورِ خلافت میں سرحدوں کی حفاظت کے لئے خُرَاسَان گئے ۔ آپ کی زوجۂ محترمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا اُمید سے تھیں اورآپ کا بیٹاربیعہ ماں کے پیٹ میں تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی زوجہ کے پاس تیس(30)ہزار دینارچھوڑکر گئے ۔ ستائیس سال بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ واپس مدینۂ منورہ زَادَہَااللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا آئے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ہاتھ میں نیزہ تھا اورآپ گھوڑے پر سوار تھے ۔ گھر پہنچ کر نیزے سے دروازہ اندر دھکیلا تو حضرتِ سیِّدُنا ربیعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ باہر نکلے۔ جیسے ہی انہوں نے ایک مسلَّح شخص کو دیکھا تو بڑے غضب ناک انداز میں بولے :” اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے! کیا تو میرے گھر پر حملہ کرنا چاہتاہے ؟”

حضرتِ سیِّدُنافَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” نہیں ، میں حملہ نہیں کرنا چاہتا۔ تم یہ بتاؤ کہ تمہیں میرے گھر میں داخل ہونے کی جراء َت کیسے ہوئی۔” پھر دونوں میں تلخ کلامی ہونے لگی ۔قریب تھا کہ دونوں دست وگریبان ہوجاتے۔ لیکن ہمسائے بیچ میں آگئے اور لڑائی نہ ہوئی ۔ جب حضرت سیِّدُنا مالک بن اَنس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اوردوسرے بزرگ حضرات کو خبرہوئی تو وہ فوراً چلے آئے ۔لوگ انہیں دیکھ کر خاموش ہو گئے۔ حضرت سیِّدُنا ربیعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس شخص سے کہا:” خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !میں اس وقت تک تمہیں نہ چھوڑوں گا جب تک تمہیں سلطان کی عدالت میں نہ لے جاؤں ۔” 

حضرتِ سیِّدُنا فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا: ”خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں بھی تجھے سلطان کی عدالت میں لے جائے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ایک تو تم میرے گھر میں بلا اجازت داخل ہوئے اورپھر مجھی سے جھگڑا کر رہے ہو۔” حضرت سیِّدُنا مالک بن انس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابو عبدالرحمن فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے فرمایا:” اے شیخ! یہ گھر تمہارا نہیں ہے ۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ” میرا نام فَرُّوخ ہے اوریہ میرا ہی گھر ہے۔” یہ سن کر آپ کی زوجۂ محترمہ جو دروازے کے پیچھے ساری گفتگو سن رہی تھیں، باہر آئیں اورکہا:”یہ میرے شوہر ہیں اورربیعہ ان کا بیٹا ہے ۔ جس وقت یہ جہاد پر گئے تھے توربیعہ میرے پیٹ میں تھا۔” یہ سن کر دونوں باپ بیٹے گلے ملے اور ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے ۔حضرتِ سیِّدُنا ابو عبدالرحمن فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خوشی خوشی گھر میں داخل ہوئے اورخوش ہوتے ہوئے اپنی زوجۂ محترمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا سے پوچھا:”یہ میرا بیٹا ہے؟”انہوں نے فرمایا: ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ !یہ تمہاراہی بیٹاہے۔”پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا:”اچھا وہ تیس ہزار دینارکہاں ہیں جو میں چھوڑ کر گیا تھا؟” عرض کی:” وہ میں نے ایک جگہ دفنا دئیے تھے، کچھ دن بعدنکال لوں گی۔”پھر حضرت سیِّدُنا ربیعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسجد چلے گئے اوراپنے حلقۂ درس میں بیٹھ گئے۔ حضرت سیِّدُنا مالک بن انس ، حسن بن زید،ابن ابی علی لَہَبِی، مُسَاحِقِی اورمدینہ شریف کے دوسرے معزز حضرات رحمہم اللہ تعالیٰ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اردگردبیٹھ گئے ۔ پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ درسِ حدیث دینے لگے۔حضرتِ سیِّدُنا فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ گھرہی میں تھے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زوجۂ محترمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے کہا:” آپ مسجد نبوی شریف عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں جاکر نماز ادا فرمالیں ۔” چنانچہ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسجد میں گئے تو دیکھا کہ ایک حلقہ لگا ہوا ہے اورلوگ بڑے ادب وتوجہ سے علمِ دین سیکھ رہے ہیں اورایک خوبرونوجوان انہیں درس دے رہا ہے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قریب گئے تو لوگوں نے آپ کے لئے جگہ کشادہ کی۔آپ بیٹھ گئے۔ حضرتِ سیِّدُنا ربیعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنا سر تھوڑا نیچے کرلیا۔حضرتِ سیِّدُنا ابوعبدالرحمن فَرُّوخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کو پہچان نہ سکے ۔آپ نے لوگوں سے پوچھا:” یہ کون صاحب ہیں، جو علم کے موتی لٹا رہے ہیں؟” لوگوں نے بتایا:”یہ ربیعہ بن ابوعبدالرحمن ہیں ۔” یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بے حد خوش ہوئے اور فرمایا:” اللہ ربُّ العزَّت نے میرے بیٹے کو کیسا عظیم مرتبہ عطافرمایا۔” پھرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خوشی خوشی گھر تشریف لائے اور اپنی زوجہ سے فرمایا:”میں نے تمہارے لختِ جگر کو آج ایسے عظیم مرتبے پر فائز دیکھا کہ اس سے پہلے میں نے کسی علم والے کو ایسے مرتبے پر نہیں دیکھا۔ وہ تو علم کے موتی لٹانے والا سمندر ہے۔”آپ کی زوجۂ محترمہ نے کہا :” آپ کو اپنے تیس ہزار دینار چاہیں یا اپنے بیٹے کی یہ عظمت ورفعت ۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:” خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم !مجھے تو اپنے بیٹے کی اس عظیم نعمت کے بدلے کچھ بھی نہیں چاہے۔ ”آپ کی زوجۂ محترمہ نے کہا:” تو پھر سنئے! میں نے وہ تمام مال تمہارے بیٹے پر خرچ کر کے اسے علمِ دین سکھایا۔ ”یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ” خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم!تم نے مال ضائع نہیں کیا بلکہ بہت اچھی جگہ خرچ کیاہے ۔” (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)(اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ !تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ انتظام علم وعمل کی دولت لوگو ں کو منتقل کرنے کے لئے کئی جامعات و مدارس بنام جامعۃالمدینہ اور مدرسۃ المدینہ قائم ہیں۔ یہاں نہ صرف علم کی لازوال دولت تقسیم ہوتی ہے بلکہ عمل کا جذبہ بھی دیا جاتا ہے۔ہزارہا طلباء وطالبات یہاں سے فیض یاب ہوکر اپنی اور ساری دنیا کے لوگو ں کی اصلاح کی کو شش کے لئے مصروفِ عمل ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کو دن دُگنی رات چُگنی ترقی عطا فرمائے ۔(آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو