فلمی گانوں کا ہولناک منظر

مفتی محمد نظام الدین رضوی ( صدر مفتی الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپوریوپی)

کراہتمام بھی ایمان کی روشنی کے لئے

آج ہمارے مسلم معاشرے کانوجوان طبقہ کچھ عجیب بھول بھلیوں کا شکار ہے نہ اسے اپنی متاعِ گمشدہ (علوم شریعت) کی تلاش ہے ــ‘‘ نہ اپنے وقت عزیز کی قیمت کا کچھ پاس و احساس۔

یہ وقت کا کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہمارے پاس سب سے قیمتی سرمایہ سرمایۂ ایمان ہے اور ہم آج اس عظیم سرمایہ کے ساتھ ایسی راہ پر چل رہے ہیں جس پر اس کے لٹیرے پہلے ہی سے پر کشش انداز میں تاک لگائے بیٹھے ہیں آپ کو حیرت ہوگی کہ فلمی گانوں کا نشانہ بھی ہمارے ایمان و عمل ہی کی سمت ہے انہیں فتنوں سے خبردار کیا تھا ایک عاشق رسول  ﷺ نے کہ :

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کا لی ہے

سونے والے جاگتے رہیو،چوروںکی رکھوالی ہے

آنکھ سے کاجل صاف چرالیں یاںوہ چور بلا کے ہیں

تیری گٹھری تا کی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے

سونا بن ہے سوناپاس ہے سونا زہر ہے اُٹھ پیارے

تو کہتا ہے میٹھی نیند ہے تیری مت ہی نرالی ہے

دنیا کو تو کیا جانے یہ بس کی گانٹھ ہے حرّافہ

صورت دیکھو ظالم کی تو کیسی بھولی بھالی ہے

شہد دکھائے زہر کھلائے قاتل ڈائن شوہر کُش

اس مردار پہ کیا للچانا دنیا دیکھی بھالی ہے

کچھ فلمی اشعار کی ہلاکت خیزیوں کا احساس ہمارے اسلامی بھائیوں کو ہواتوفوراً اصلاح قبول فرمالی ،مگر ساتھ ہی کئی ایک سوالات بھی اٹھ کھڑے ہوئے مثلاً:

(۱) کفری اشعار کی وجہ سے اعمال صالحہ اکارت ہوئے ان سب کا اعادہ کس طور پر ممکن ہوگا؟

(۲)جسے ان اشعار کے پڑھنے یاسننے والے کے بارے میں شک ہو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

(۳)کیا کفر کا حکم ہر پڑھنے اور سننے والے کے لئے ہے ؟

(۴) عام طور سے لوگوں کو ان اشعار کا کفر ہونا معلوم نہیں تھا ان پر اتنا بڑا فرد جر م کیونکر عا ئد ہوگا ۔۔۔۔؟

ہم ذیل میں اختصار کے ساتھ ان امور پر ایک ہلکی سی روشنی ڈالتے ہیں جس سے انشاء اللہ العزیز آپ کو تشفی حاصل ہوگی ۔

ٔ ٔ جو اعمال اکارت گئے دوبارہ انکی ادائیگی کا حکم نہیں ہے ۔ ہاں اگر حج کی استطاعت ہو تو اس کا اعادہ فرض ہے۔

٭ جس نے یہ کفری گانے سن کر دل میں انہیں برا جانا ،ان سے نفرت کی یا کسی ،مصلحت شرعی کی بنا پر بطور نقل لکھا یا پڑھا اس پر کوئی الزام نہیں بلکہ کفر سے نفرت تو سچے ایمان کی علامت ہے۔

ہاں جس نے یہ اشعار دلچسپی کے ساتھ پڑھے،سنے ،گائے ،ان پر راضی ہوئے اس پر حکم کفر ہے۔

ٔجسے یہ شک ہو کہ اس نے یہ اشعار دلچسپی و پسندیدگی کے ساتھ گائے ،سنے ،پڑھے ہیں یا نہیں؟مگر اس کی عادت فلمی گانوں کے سننے ،گنگنانے کی رہی ہے تو اسے بھی احتیاطاً توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح کرلینا چاہئے اسی میں دنیا وآخرت کی بھلائی ہے توبہ اور تجدید ایمان تو یوں بھی باعث ِ اجرو ثواب ہے۔

مدارک شریف میں ہے کہ :’’جسے یہ وہم ہو کہ اسے تو بہ کی حاجت نہیں ہے اسکوسب سے زیادہ توبہ کی حاجت ہے‘‘ (۱۴۲؍۳)

ٔ کلماتِ کفر دو طرح کے ہیں کچھ تو وہ ہیں جن میں لاعلمی کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا ،جیسے کوئی اللہ عزوجل کے خالق ہونے کاانکار کردے پھر لا علمی کا عذر پیش کرے تو وہ مسموع نہ ہو گا ، یونہی کوئی اللہ کے سوا دوسرے کو بھی عبادت وپرستش کاحقدار سمجھے پھر کہے کہ مجھے اس کا شرک ہو نا معلوم نہیں تھا تو یہ عذر قبول نہ کیا جائے گا کہ آخر جب وہ مسلمان ہے تو اتنا کیوں نہیں جانتاکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہی سب کاخالق ہے لہٰذا جو شخص دلچسپی و پسندیدگی کے ساتھ یہ شعر گنگناتا ہے

خدا جب بھی زمیں پر دیکھتا ہو گا

میر ے محبوب کو کس نے بنایا سوچتا ہوگا

میری نگا ہ میں کیا بن کے آپ رہتے ہیں

قسم خدا کی خدا بن کے آپ رہتے ہیں

وہ حقیقت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے خالق اور علیم وخبیر ہو نے کا انکار کرتا ہے یونہی جو شخص ان اشعار کو اچھا سمجھ کر پڑھتا ہے:

کسی پتھر کی مورت سے محبت کا ارادہ ہے

پرستش کی تمنا ہے عبادت کا ارادہ ہے

پتھر کے صنم تجھے ہم نے محبت کا خدا جا نا

بڑی بھول ہوئی ارے ہم نے یہ کیا سمجھا یہ کیامانا

وہ غیراللہ کو عبادت کا حقدار سمجھتا ہے جو کھلے طور پر’’لا الہ الا اللّٰہ‘‘ کا رد ہے کلمہ پڑھ کر ایک شخص ایسے نا پاک کلمات بکتا ہے پھر یہ کہتا ہے کہ مجھے اس کا کفر و شرک ہونا معلوم نہیں تھا ،یہ نا قابل قبول ہے ۔دنیا کے قانون میں بھی جو جرم کھلے ہوئے ہوتے ہیں ان میں لاعلمی کا عذر مسموع نہیں ہو تا جیسے قتل ناحق ،چوری، بے ٹکٹ سفر وغیرہ ۔

آئیے ہم اس مسئلہ کی ذرا قدرے تفصیل کے ساتھ وضاحت کریں مسلما نوں کو جن امور کاعقیدہ رکھنا واجب ہے وہ دو طرح کے ہیں ایک تو وہ جن کا دین سے ہو نا عوام و خواص سبھی کو معلوم ہو اور دوسرے وہ جن کا دین سے ہونا اس قدر عام نہ ہو، اول کو ضرویات دین کا نام دیا جاتاہے اس کی تشریح بہار شریعت میں ان الفاظ میں کی گئی ہے ۔ ضرویات دین وہ مسائل ہیں جن کو ہر خاص وعام جانتے ہوںجیسے اللہل کی وحدانیت ،انبیاء کی نبوت ،جنت ،نار ،حشر ونشرو غیرہا۔

عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقۂ علماء میں نہ شمار کئے جاتے ہوں اگر علماء کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائل علمیہ سے زوق رکھتے ہوں ۔نہ وہ کہ کوردہ اور جنگل اور پہاڑوں کے رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے کہ ایسے لوگوں کا ضروریات دین سے نا واقف ہونا اس ضروری کو غیر ضروری نہ کرے گا ‘‘(ج؍۱ص؍۵۲)

اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا خالق ہے اسی نے سب کو پیدا کیا۔ ایک وہی عبادت کے لائق ہے اس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ۔وہ سب کچھ جانتا ہے ۔علیم وخبیر ہے۔ یہ عقائد بھی ضروریات دین سے ہیں کہ دینی شعور رکھنے والے عوام حتیٰ کہ مکتب کے بچے بھی ان عقائد سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ۔

لہٰذا اگر کوئی شخص نثر یا نظم میں کوئی ایسی بات بول دے جو اس طرح کسی ضروری دین کا انکار ہو تو وہ بالاتفاق اسلام کی صف سے باہر ہوجائے گا ۔

شرح فقہ اکبر میں امامِ اجل حضرت علامہ علی قاری علیہ رحمۃ الباری فرماتے ہیں :اما اذاتکلم بکلمۃ ولم یدرِ انھا کلمۃکفر ۔ففی فتاویٰ قاضیخاںحکایۃ خلاف من غیر ترجیح۔

حیث قال :۔قیل :لا یکفر لعذرہ بالجھل، وقیل:یکفر ولا یعذر بالجھل۔

اقول :والاظہر الاول ۔الا اذا کان من قبیل ما یعلم من الدین بالضرورۃ فانہ حینئذ یکفر ولا یعذر بالجھل (شرح فقہ اکبر ص؍۲۰۲)

ترجمہ:۔کفر کی بات زبان سے بک دی اور اسے یہ نہیں معلوم کہ یہ بات کفر کی ہے ،وہ کافر ہوا یا نہیں ؟ اس کے متعلق فتاویٰ قاضیخاں میںعلماء کا اختلاف نقل کیا ہے ان کے الفاظ یہ ہیں:۔

ایک قول یہ ہے کہ کافر نہ قرار دیا جائے کیونکہ جہل اور لاعلمی کے باعث سے وہ معذور ہے ۔اور ایک قول یہ ہے کہ کافر قرار دیا جائے اور جہل و لاعلمی کے باعث معذور نہ مانا جائے ۔ میں کہتا ہوں کہ اظہر پہلا قول ہے البتہ اگر وہ کفری بات ضروریات دین کے زمرے سے ہو تب تو بلا شبہ اسے کافر قرار دیا جائے گا اور جہل اور لاعلمی کے باعث معذور نہ ہو گا ۔

اس عبارت سے بخوبی عیاں ہوتا ہے کہ کلمۂ کفر کا تعلق’’ضروریات دین‘‘سے ہوتو وہاں جہل و لاعلمی کا عذر مسموع نہ ہوگا کہ مسلمان ہو کر اتنی کھلی ہوئی بات جانتا کیوں نہیں ۔ہاں اگر کفر کا تعلق’’ضروریات دین‘‘سے نہ ہوتو یہاںجہل ولاعلمی کا عذر مسموع ہوسکتا ہے تا ہم یہاں بھی ایک جماعت علماء کا موقف یہی ہے کہ معذور نہ قرار دیا جائے ۔

غمز العیون والبصائر شرح الاشباہ والمنظائر میں ہے:۔

والجھل بالضروریات فی باب المکفرات لایکون عذرا بخلاف غیرھا ،فانہ یکون عذرا علی المفتیٰ بہ۔(غمز العیون ص؍۲۶۷کتاب السیر،باب الردۃ)

ترجمہ:۔ تکفیر کے باب میں ضروریات دین سے لاعلمی عذر نہیں ہے اس کے بر خلاف غیر ضروریات دین سے لاعلمی عذر ہے یہی مفتیٰ بہٰ ہے ۔

اب ایک حدیث نبوی سے اپنی ایمانی نگاہوں کو تازہ کیجئے بخاری شریف کتاب الرقاق میں ہے:۔

عن ابی ہریرۃ عن النبی ﷺ ،قال : ان العبد لیتکلم بالکلمۃ من رضوان اللہ لا یلقی لہا بالا یرفع اللہ تعالیٰ لھا درجات ۔وان العبد لیتکلم بالکلمۃ من سخط اللہ لا یلقی لھا بالا یھوی لھا فی جھنم۔ وفی روایۃ:۔ان العبد یتکلم بالکلمۃ ما یتبین فیھا یزل بھا فی النار ابعد ما بین المشرق والمغرب (بخاری شریف ص؍۹۵۹ج؍۲ باب حفظ اللسان)

ترجمہ:۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ بندہ کبھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی بات کہتا ہے اور اس کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا ۔اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے بہت درجے بلند کردیتا ہے ،اور کبھی بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی بات کرتا ہے اور اس کا خیال بھی نہیں کرتا اس کی وجہ سے جہنم میں گرتا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان میں جو فاصلہ ہے اس سے بھی زیادہ فاصلہ پر جہنم میں گرتا ہے ۔اسے ایک تمثیل کے ذریعہ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ’’ضرورئی دینی کا انکار‘‘ایسا کفر ہے جو ایمان کے لئے زہر ہلاہل ہے تو جیسے کوئی انجانے میں یا بے خیالی میں زہر ہلاہل پی لے تو اس کی جان نہ بچ سکے گی ۔یونہی اگر کوئی شخص کفر ضروری کا انجا نے میں یا بے خیالی میں مرتکب ہو جائے تو اس کا ایمان محفوظ نہ رہ سکے گا۔پھر حیرت ہے کہ بھول یا انجانے میں شاید وباید ہی کوئی زہر پیتا ہوگا مگر فلمی گانوں کے کفری اشعار میں ایک جم غفیر مبتلا نظر آرہا ہے۔حیات جسمانی کا اس قدر پاس و لحاظ اور حیات ایمانی سے ایسی غفلت و لا پروائی؟

توبہ وتجدید ایمان کا طریقہ:اے ارحم الراحمین !مجھ گنہگار سے جان بوجھ کر یا لا پروائی میں جو بھی کفر سر زد ہوا خاص طور پر فلاں فلاں کفر (مثلاًفلمی کفر یہ اشعار کو دلچسپی کے ساتھ سنا ،یا پڑھا ،یا گنگنایا)یا اس کے سوا اور بھی جو گناہ ہوئے چھوٹے یا بڑے ،نئے یا پرانے ،ان سب سے نفرت وبیزاری کا اظہار کرتا ہوں ،اور عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی بھی ایسے کفر یا گناہ کا ارتکاب نہ کروں گا ،تو ہی سب کا خالق ہے ،علیم وخبیر ہے ہر عیب سے پاک ومنزہ ہے ۔اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ا تیرے سچے رسول ہیں ۔اشہد ان لا الٰہ الا اللہ واشہد ان محمداً عبدہ ورسولہ۔توبہ بھی ہو گئی اور تجدید ایمان بھی ۔

اس کیلئے خصوصیت کے ساتھ ان امور کا لحاظ ضروری ہے کہ :

٭ جو کفر یا گناہ ہوا اس کا ذکر کر کے اس سے نفرت و بیزاری ظاہر کی جائے ۔

٭ سچے دل سے اس پر نادم وشرمندہ ہو ں۔

٭ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں آئندہ اس کے نہ کرنے کا پختہ عہدکریں۔

٭ کفر کے ارتکاب سے جس عقیدئہ اسلامی کا انکار ہوا ہے دل سے اسکی تصدیق اور زبان سے اس کا اعتراف کریں ۔

٭ پھرکلمئہ شہادت پڑھکر مسلمان ہوں ۔

یہ کام گھر میں بھی ہو سکتا ہے اور مسجد میں بھی ، مجمع عام میں بھی ہو سکتا ہے اور تنہائیو ں میں بھی ،ہاں گناہ علانیہ سرزد ہوا ہو تو اس کی توبہ مجمع عام میں ہونی چاہئے ۔اور اگر کثیر افراد اس میں مبتلا ہوں تو اجتماعی طور پر بھی توبہ ہو سکتی ہے ۔

تجدید نکاح کا طریقہ: تجدید نکاح کا مطلب ہے ’’نئے مہر سے نیا نکاح کرنا‘‘اس کیلئے یہ ضروری نہیں کہ محفل منعقد کی جائے اور وہ رسمیں ادا کی جائیں جو نکاح اول میں کی گئی تھیں،نکاح نام ہے ایجاب وقبول کا ،جب ایجاب وقبول ہو گیا تو نکاح منعقد ہو گیا البتہ اس موقع سے گواہوں کی حاضری شرط صحت نکاح ہے اور اس کیلئے صرف اتنا کافی ہے کہ دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں نکاح کر لیا جائے ،گواہ گھر کے افراد حتیٰ کہ ماں ،باپ ، بہن، بیٹا،بیٹی بھی ہو سکتے ہیں خطبہ صرف مستحب ہے خطبہ یاد نہ ہو تو اس کی جگہ اعوذ باللہ وبسم اللہ کے ساتھ الحمد للہ ، شریف بھی پڑھ سکتے ہیں ۔

دو مردوں یا ایک مرد دو عورتوں کی موجودگی میں مرد خطبہ یا سورئہ فاتحہ شریف پڑھ کر عورت سے کہے ’’ میں نے اتنے مہر (مثلاً؍۲۵۱ روپے)کے عوض تم سے نکاح کیا پھر عورت کہے ’’میں نے قبول کیا ‘‘نکاح ہو گیا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عورت پڑھی لکھی ہو تو وہی خطبہ و سورئہ فاتحہ شریف پڑھ دیاور ایجاب کرے پھر مرد کہے ’’میں نے قبول کیا ‘‘۔

عورت مہر معاف کرنا چاہے تو معاف کر سکتی ہے اور اس کی وجہ سے ثواب کی حقدار ہو گی مگر اس کیلئے اس پر دبائو نہ ڈالا جائے گزارش کی جا سکتی ہے ویسے یہ بات مرد کی حاکمیت کے شایان شان نہیں کہ وہ معمو لی سی رقم کے لئے اپنی محکوم عورت سے معافی کی گزارش کرے۔پہلے نکاح میں جو مہر مقرر ہوا تھا فوراً ادا کر دیا جائے اور فوری وسعت نہ ہو تو عورت سے مہلت طے کی جائے ۔

کفر سے محفوظ رہنے کا سستا نسخہ

بہار شریعت میں ہے ’’حدیث میں فرمایا کہ شرک سے بچو کہ وہ چیونٹی کی چال سے زیادہ مخفی ہے اور اس سے بچنے کی حدیث میں ایک دعا ارشاد فرمائی ، اسے ہر روز تین بار پڑھ لیا کرو ،حضور اقدس اکا ارشاد ہے کہ شرک سے محفوظ رہو گے وہ دعا یہ ہے ، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ شَیْئاً وَّاَنَا اَعْلَمُ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا اَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ (ج ۹ص ؍ ۱۶۲۔۱۶۳)

کفر بھی شرک کے ہی حکم میں ہے اس لئے اس دعا کی برکت سے شرک وکفر دونوں سے ہی حفاظت رہے گی البتہ اس کے لئے فلمی خرافات اور فلمی گانوں سے پرہیز شرط ہے ۔اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے حبیب ا کے صدقے میں تمام مسلمانوں کو اس بلا سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔

٭٭٭