’’نماز عشاء ‘‘

نماز عشاء کی فضیلت :-

(۱)ابن ماجہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی حضور اقدس ﷺفرماتے ہیں ’’جو مسجد میں باجماعت چالیس راتیں نماز عشاء پڑھے کہ پہلی رکعت فوت ہونے نہ پائے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دوزخ سے آزادی لکھ دیتا ہے ‘‘

(۲)سب نمازوں میں منافقین پر گراں نماز فجر اور عشاء ہے ‘‘ (الحدیث ، طبرانی )

(۳)جو نماز عشاء کے لئے حاضر ہوا گویا اس نے نصف شب قیام کیا۔‘‘ ( الحدیث ،بیہقی)

(۴)’’ وتر حق ہے ۔ جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ‘‘۔ (الحدیث ، ابوداؤد)

(۵)’’ جس نے قصداً نماز چھوڑی جہنم کے دروازے پر اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے ۔( الحدیث ، ابونعیم )

تعداد نماز عشاء کی رکعتیں
۴ سنت غیرمؤکدہ

۴

فرض

۲

سنت مؤکدہ

۲

نفل

۳

وتر( واجب)

۲

نفل

 

نماز عشاء کا وقت مغرب کا وقت ختم ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے اور طلوع فجر صادق تک رہتا ہے ۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۲۲۶ )

عشاء کی نماز میں تہائی رات (۳/۱) تک تاخیرکرنا مستحب ہے اور آدھی رات تک تاخیر مباح ہے ۔ ( درمختار)

نماز عشاء کی نصف شب سے زائد تاخیر مکروہ ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۳۵۵)

 ابر ( بادل) کے دن عصر اور عشاء میں تعجیل ( جلدی) مستحب ہے اور باقی نمازوں میں تاخیر مستحب ہے ۔ ( بہار شریعت )

 اگرچہ عشاء کی فرض نماز اور وترنماز کا ایک ہی وقت ہے لیکن دونوں میں باہم ترتیب فرض ہے کہ اگر کسی نے عشاء کے فرض سے پہلے وتر کی نماز پڑھ لی تو وتر کی نماز ہوگی ہی نہیں ۔ وتر کو فرض کے بعد ہی پڑھنا لازمی ہے۔ ( درمختار ، عالمگیری)

نماز عشاء کے معتلق اہم مسائل :-

مسئلہ:اگر کسی نے فرض کے پہلے کی چار رکعتیں سنت غیرمؤکدہ نہ پڑھی ہوں اور جماعت کے بعد پڑھنا چاہتا ہے تو جماعت کے بعد کی دو رکعت سنت بعدیہ کے بعد پڑھ سکتا ہے ۔ اس میں کوئی ممانعت نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۱۷)

مسئلہ:فرض کے پہلے کی چار سنتیں شروع کی تھیں اور جماعت قائم ہوگئی تو دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے اور جماعت میں شریک ہوجائے ۔ سنتوں کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۱۱)

مسئلہ:نماز عشاء سے پہلے سونا اور بعد نماز عشاء دنیا کی باتیں کرنا ، دنیوی قصّے کہانیاں کہنا سننا مکروہ ہے ۔ البتہ ضروری باتیں ، تلاوت قرآن ، ذکر ، دینی مسائل ، صالحین کے واقعات ، وعظ و نصیحت اور مہمان سے بات چیت کرنے میں حرج نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ:نماز عشاء میں آخری دو رکعت نفل کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے اور دونا ثواب ہے اور بیٹھ کر پڑھنے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۶۱)

ٰوتر نماز کے متعلق اہم مسائل :-

حدیث::-ابودؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیںکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ و سلم فرماتے ہیں ’’ اللہ وتر ( ایک) ہے اور وتر کو محبوب رکھتاہے ۔ لہٰذا اے قرآن والوں وتر پڑھو ۔‘‘

مسئلہ:نماز وتر کی تین ۳؎ رکعتیں ہیں اور اس میں قعدہ ٔ اولیٰ واجب ہے ۔ قعدہ ٔ اولیٰ میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہوجاناچا ہئے ۔ اگر قعدہ اولیٰ میں نہیں بیٹھا اور بھول کر کھڑا ہوگیا تو لوٹنے کی اجازت نہیں بلکہ سجدہ ٔ سہو کرے ۔ ( بہار شریعت ، درمختار ، رد المحتار )

مسئلہ:وتر کی تینوں رکعتوں میں قرأت فرض ہے اور ہر رکعت میں سورہ ٔ فاتحہ کے بعد سورت ملانا واجب ہے ۔ ( بہار شریعت ، جلد ۴ ، ص ۴ )

مسئلہ:وتر کی تیسری رکعت میں قرأت کے بعد اور رکوع سے پہلے کانوں تک ہاتھ اٹھاکر ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر ہاتھ باندھ لینا چاہئے اور پھر دعائے قنوت پڑھ کر رکوع کرنا چاہئے ۔ (بہارشریعت ، جلد ۴ ، ص ۴)

مسئلہ:وتر میں دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے ۔ اگر دعائے قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں چلاگیا تواب رکوع سے واپس نہ لوٹے بلکہ نماز پوری کرے اور سجدہ ٔ سہو کرے ۔( بہار شریعت ، عالمگیری ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۴۵)

مسئلہ:دعائے قنوت آہستہ پڑھنی چاہئے ۔ امام ہو یامقتدی یا منفرد ہو ، یا ادا پڑھتا ہو یا قضا پڑھتا ہو یا پھر رمضان میں پڑھتا ہو یا اور دنوں میں پڑھتا ہو ۔ ہر صورت میں دعائے قنوت آہستہ پڑھے ۔ ( ردالمحتار)

مسئلہ:جس کو دعائے قنوت یاد نہ ہو وہ ایک مرتبہ ’’ ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار ‘‘ پڑھ لے یا تین مرتبہ ’’ اللہم اغفر لنا ‘‘ کہے ( عالمگیری)

مسئلہ:وترکی قنوت میں مقتدی امام کی متابعت کرے ۔ اگر مقتدی دعائے قنوت سے فارغ نہ ہوا تھاکہ امام رکوع میں چلا گیا تو مقتدی امام کاساتھ دیتے ہوئے رکوع کرے ۔ ( عالمگیری ، رد المحتار)

مسئلہ:جس مسبوق کو وتر کی جماعت کی تیسری رکعت کا رکوع ملا ہو وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد جب دو رکعت پڑھے گا اس میں قنوت نہیں پڑھے گا ۔( عالمگیری)

مسئلہ:جس مسبوق مقتدی کی وتر کی جماعت کی تینوں رکعتیں چھوٹ گئی ہوں اور وہ قعدہ ٔ اخیرہ میں جماعت میں شامل ہوا ہو وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد جب تین رکعت پڑھے گا ا س میں قنوت پڑھے گا ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۸۸)

مسئلہ:عشاء کی نماز قضا ہوگئی تو وتر کی قضا پڑھنی بھی واجب ہے اگرچہ کتنا ہی زمانہ گزر گیا ہو ۔ قصداً قصا کی ہو یا بھولے سے قضا ہوگئی ہو ۔ جب قضا پڑھے تو وتر کی بھی قضا پڑھے اور وتر میں دعائے قنوت بھی پڑھے ۔ البتہ قضا پڑھنے میں تکبیر قنوت کے لئے ہاتھ نہ اٹھائے جبکہ لوگوں کے سامنے پڑھتا ہو تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ یہ قضا پڑھتا ہے البتہ گھر میں یاتنہائی میں وتر کی قضا پڑھتا ہو تو تکبیر قنوت کے لئے ہاتھ اٹھائے اور نماز کا قضا کرنا گناہ ہے اور گناہ کا اظہار کرنا بھی گناہ ہے لہٰذا قضا نماز پڑھتے وقت کسی پر ظاہر نہ ہونے دے کہ قضا پڑھتا ہے ۔ ( رد المحتار ، عالمگیری ، فتاوٰی رضویہ ، جلد۳ ، ص ۶۲۴)

مسئلہ:رمضان میں عشاء کی فرض کی جماعت میں جو شامل نہیں ہوا وہ وتر کی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا ۔ جس نے فرض تنہا پڑھے ہوں وہ وتر بھی تنہا پڑھے ۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۴۸۱)

مسئلہ:فجر میں اگر حنفی المذہب مقتدی نے شافعی المذہب امام کی اقتداء کی اور امام نے اپنے مذہب کے موافق دعائے قنوت پڑھی تو حنفی مقتدی دعائے قنوت نہ پڑھے بلکہ ہاتھ لٹکائے ہوئے اتنی دیر چپ کھڑا رہے ۔ ( در مختار)

مسئلہ:جو شخص جاگنے پر اعتماد رکھتا ہو اس کو آخر شب میں وتر پڑھنا مستحب ہے ورنہ سونے سے پہلے پڑھ لے ۔ پھر اگر پچھلے پہر آنکھ کھلی تو تہجد پڑھے اور وتر کا اعادہ( دوبارہ پڑھنا) جائز نہیں ۔ ( درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ:وتر کے بعد دو(۲) رکعت پڑھنا افضل ہے ۔ اس کی پہلی رکعت میں ’’ اذا زلزلت الارض‘‘ اور دوسری رکعت میں ’’ قل یاایہا الکافرون ‘‘ پڑھنا افضل ہے ۔ حدیث میں ہے کہ اگر رات میں بیدار نہ ہوا تو یہ دو (۲) رکعتیں تہجد کے قائم مقام ہوجائیں گی ۔ (بہارشریعت)

مسئلہ:نماز عشاء پڑھنے کے بعد بے حاجت دنیوی باتو ں میں اشتغال مکروہ ہے ۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ، ص ۱۹۷)

مسئلہ:عشاء کی نماز کے فرض سے پہلے جو چار رکعت ہیں وہ سنت غیر مؤکدہ ہیں ۔ ان چاروں رکعت کو ایک سلام سے پڑھناچاہئے اور دو رکعت کے بعد قعدہ ٔ اولیٰ کرنا چاہئے اور قعدہ ٔ اولیٰ میں التحیات کے بعد درود شریف بھی پڑھناچاہئے اور تیسری رکعت کے لئے جب کھڑا ہو توثنا یعنی ’’ سبحانک ‘‘ پوری اور ’’ تعوذ‘‘ یعنی اعوذ پورا پڑھے ۔ کیونکہ سنت غیر مؤکدہ مثل نفل ہے اور نفل نماز کا ہر قعدہ مثل قعدہ ٔ اخیرہ ہے لہٰذا ہر قعدہ میں ’’ التحیات‘‘ اور ’’ درود شریف‘ ‘ پڑھنا چاہئے اور پہلے قعدہ کے بعد والی رکعت کے شروع میں ثنا اور تعوذ بھی پڑھنا چاہئے ۔ علاوہ ازیں ہر رکعت میں سورہ ٔفاتحہ کے بعد سورت بھی ملانا چاہئے ۔ ( درمختار ، بہار شریعت ، جلد ۴ ، ص ۱۵ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۶۹)

مسئلہ:عوام میں سے بہت سے حضرات وتر نماز کے بعد سجدہ میں سر رکھ کر ’’ سبوح قدوس ربنا و رب الملئکۃ والروح ‘‘ پڑھتے ہیں اور اس عمل کے متعلق یہ گمان رکھتے ہیں کہ اس عمل کی حدیث شریف میں بہت ہی فضیلت آئی ہے اور بزرگان دین یہ عمل ہمیشہ کرتے آئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فعل فقہاکے نزدیک مکروہ ہے اور اس عمل کی فضیلت میں جو حدیث ذکر کی جاتی ہے وہ حدیث موضوع ، باطل اور بے اصل ہے ،اس پر عمل جائز نہیں ۔ فقہ کی مشہور کتاب غنیہَ، تاتار خانیہ اور درمختار و نیز طحطاوی علی الدر میں اس کو مکروہ لکھا ہے کیونکہ ایک خارجی اندیشہ کے سبب کہ جاہل اسے سنت یا واجب نہ سمجھنے لگیں ۔ ( بحوالہ :- السنیۃ الانیقہ فی فتاوٰی افریقہ ، از اعلٰحضرت محدث بریلوی ، مسئلہ نمبر ۳۷ ، ص ۳۴)