أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَاۡكُلُوۡا مِمَّا لَمۡ يُذۡكَرِ اسۡمُ اللّٰهِ عَلَيۡهِ وَاِنَّهٗ لَفِسۡقٌ ؕ وَاِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ لَيُوۡحُوۡنَ اِلٰٓى اَوۡلِيٰٓـئِـهِمۡ لِيُجَادِلُوۡكُمۡ‌ ۚ وَاِنۡ اَطَعۡتُمُوۡهُمۡ اِنَّكُمۡ لَمُشۡرِكُوۡنَ۞

ترجمہ:

اور اس ذبیحہ کو نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا بیشک اس کو کھانا گناہ ہے ‘ بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے بحث کریں ‘ اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو تم مشرک ہو جاؤگے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس ذبیحہ کو نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا بیشک اس کو کھانا گناہ ہے ‘ بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے بحث کریں ‘ اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو تم مشرک ہو جاؤگے۔ (الانعام : ١٢١) 

جس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ‘ اس کے متعلق مذاہب فقہاء : 

جس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ‘ اس کے متعلق فقہاء مذاہب کے مختلف آراء ہیں۔ امام شافعی کے نزدیک مسلمان نے جس جانور کو ذبح کیا ہو اس کا کھانا حلال ہے۔ خواہ اس نے عمدا بسم اللہ نہ پڑھی ہو یانسیانا “۔ (تفسیر کبیر ج ٥ ص ١٣٠ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ) 

امام احمد کے نزدیک اگر بھولے سے بسم اللہ نہیں پڑھی تو ذبیحہ حلال ہے ‘ اور اگر عمدا بسم اللہ کو ترک کردیا ہے تو اس میں ان کے دو قول ہیں۔ (زادالمسیر ج ٣‘ ص ١١٥‘ طبع بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک اگر عمدا بسم اللہ کو ترک کردیا تو وہ ذبیحہ حرام ہے اور نسیانا بسم اللہ کو ترک کردیا تو پھر وہ ذبیحہ حلال ہے۔ (بدایۃ المجتہد ‘ ج ١‘ ص ٣٢٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

امام ابوحنیفہ کے مذہب پر دلائل : 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ اس پر دلیل قائم کرتے ہیں کہ عمدا بسم اللہ ترک کرنے سے ذبیحہ حرام ہوجاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں : 

اس آیت کا ظاہر یہ تقاضا کرتا ہے کہ جس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو وہ حرام ہے۔ خواہ عمدا نام نہ لیا ہو یا نسیانا۔ لیکن احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نسیانا بسم اللہ کو ترک کرنا موجب حرمت نہیں ہے۔ اس لیے ہم نے کہا یہاں نسیان مراد نہیں ہے ‘ اب اگر بسم اللہ کو عمدا ترک کرنا بھی جائز ہو تو اس آیت پر بالکل عمل نہیں ہوگا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” واذکرواسم اللہ علیہ “۔ (المائدہ : ٤) 

ترجمہ : شکار پر (سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لو۔ 

اور امر وجوب کا تقاضا کرتا ہے ‘ اس لیے شکار پر شکاری جانور چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھنا واجب ہے اور سنت سے بھی اس پر دلیل ہے۔ حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکاری کتے کے متعلق سوال کیا ؟ آپ نے فرمایا جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اس کو کھالو ‘ بشرطیکہ اس نے تمہارے لیے شکار کو (کھانے سے) روک رکھا ہو ‘ اور جب تم اس کے سوا دوسرا کتا دیکھو جس نے ہلاک کیا ہو تو اس کو نہ کھاؤ‘ کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے اور دوسرے کتے پر بسم اللہ نہیں پڑھی۔ اس آیت اور اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ذبیحہ پر بھی بسم اللہ پڑھنا واجب ہے اور اس کو عمدا ترک کرنا جائز نہیں ہے۔ (احکام القرآن ‘ ج ٣‘ ص ٧۔ ٦‘ ملخصا ‘ مطبوعہ لاہور) 

اور اگر بھولے سے بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو ذبیحہ کے حلال ہونے پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ مسلمانوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں ‘ ہمیں پتا نہیں کہ انہوں نے ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں ! آپ نے فرمایا تم اس پر بسم اللہ پڑھ کر کھالو ‘ حضرت عائشہ (رض) نے کہا اس وقت لوگ نئے نئے کفر سے نکلے تھے۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٥٠٧‘ سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤٤٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣١٧٤‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٨٧٩٥‘ کنزالعمال ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٥٩٨‘ سنن دارقطنی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٧٦٣) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان کے لیے اللہ کا نام کافی ہے۔ اگر وہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا بھول گیا تو وہ کھانے کے وقت بسم اللہ پڑھ کر کھالے۔ (اس حدیث کی سند حسن ہے) 

(سنن دارقطنی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٧٦٢‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٩ ص ٢٤) 

حلال کو حرام کرنے یا حرام کو حلال کرنے کا شرعی حکم : 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے رہتے ہیں ‘ تاکہ وہ تم سے بحث کریں۔ 

اس وسوسہ کا بیان اس حدیث میں ہے۔ امام ابن ماجہ متوفی ٢٦٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ مشرکین یہ کہتے تھے کہ جس پر اللہ کا نام لیا جائے ‘ اس کو نہ کھاؤ اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اس کو کھالو۔ 

(سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣١٧٣‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨١٨) 

اور وہ بحث یہ کرتے تھے کہ یہ کیا بات ہے جس کو اللہ نے مارا ہے اس کو تم نہیں کھاتے اور جس کو تم نے قتل کیا ہے اس کو کھالیتے ہو۔ اس کے بعد فرمایا اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو تم مشرک ہوجاؤ گے۔ 

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حلال کیے ہوئے کو حرام کیا یا اس کے حرام کیے ہوئے کو حلال کیا ‘ تو وہ مشرک ہوجائے گا۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال اعتقاد کرے۔ تب وہ کافر اور مشرک ہوگا اور اگر وہ اللہ کے حرام کیے ہوئے کاموں کو اپنی نفسانی خواہش سے کرتا ہو ‘ لیکن وہ ان کاموں کو حرام ہی جانتا ہو تو وہ فاسق اور مرتکب معصیت کبیرہ ہوگا ‘ کافر اور مشرک نہیں ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 121