أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا لَـكُمۡ اَلَّا تَاۡكُلُوۡا مِمَّا ذُكِرَ اسۡمُ اللّٰهِ عَلَيۡهِ وَقَدۡ فَصَّلَ لَـكُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَيۡكُمۡ اِلَّا مَا اضۡطُرِرۡتُمۡ اِلَيۡهِؕ وَاِنَّ كَثِيۡرًا لَّيُضِلُّوۡنَ بِاَهۡوَآئِهِمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُعۡتَدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اس ذبیحہ سے نہیں کھاتے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، حالانکہ حالت اضطرار کے سوا جو چیزیں تم پر حرام ہیں ان کی تفصیل اللہ نے تمہیں بتادی ہے ‘ اور بیشک بہت سے لوگ بغیر علم کے اپنی خواہشوں سے گمراہی پھیلاتے ہیں اور بیشک آپ کا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اس ذبیحہ سے نہیں کھاتے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، حالانکہ حالت اضطرار کے سوا جو چیزیں تم پر حرام ہیں ان کی تفصیل اللہ نے تمہیں بتادی ہے ‘ اور بیشک بہت سے لوگ بغیر علم کے اپنی خواہشوں سے گمراہی پھیلاتے ہیں اور بیشک آپ کا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ (الانعام : ١١٩) 

مکی سورت میں مدنی سورت کے حوالہ کا اشکال اور اس کا جواب : 

حالانکہ حالت اضطرار کے سوا جو چیزیں تم پر حرام ہیں ‘ ان کی تفصیل تمہیں بتادی ہے۔ اس کے متعلق اکثر مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس تفصیل سے مراد وہ تفصیل ہے جو سورة مائدہ : ٣ میں بیان فرمائی ہے : 

(آیت) ” حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ (الایہ) 

ترجمہ : تم پر حرام کیا گیا ہے مردار اور خون ‘ اور خنزیر کا گوشت اور جس پر وقت ذبح غیر اللہ کا نام پکارا گیا ‘۔ 

لیکن اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ سورة المائدہ مدنی ہے اور سورة الانعام مکی ہے ‘ لہذا یہ تفصیل اس سورت کے بعد نازل ہوئی ہے۔ تو اس سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں اس کے بعد نازل ہونے والی سورت کا حوالہ کس طرح دیا جاسکتا ہے۔ امام رازی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ سورة الانعام میں بھی یہ تفصیل بیان کی گئی ہے اور وہ یہ آیت ہے۔ : 

(آیت) ” قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتہ او دما مسفوھا او لحم خنزیر فانہ رجس اوفسقا اھل لغیر اللہ بہ “ (الانعام : ١٤٥) 

ترجمہ : آپ کہئے کہ مجھ پر جو وحی کی جاتی ہے اس میں کسی کھانے والے پر جو وہ کھاتا ہو ‘ صرف مردار ‘ بہنے والے خون اور خنزیر کے گوشت کو میں حرام پاتا ہوں ‘ کیونکہ وہ نجس ہے ‘ یا نافرمانی کی وجہ سے جس جانور پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو۔ 

اب اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آیت ١١٩ میں آیت ١٤٥ کا حوالہ دینا کس طرح درست ہوگا ؟ اس کا امام رازی نے یہ جواب دیا ہے کہ یہ ترتیب وضع کے اعتبار سے ہے ‘ ہوسکتا ہے اس کا نزول پہلے ہوگیا ہو۔ 

لیکن یہ جواب اس لیے درست نہیں ہے کہ سورة الانعام پوری کی پوری یکبارگی نازل ہوئی ہے اور اس میں کوئی آیت دوسری آیت پر نزول کے اعتبار سے مقدم یا موخر نہیں ہے۔ میرے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ حرام چیزوں کی یہ تفصیل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو پہلے ہی بتادی تھی اور مکہ مکرمہ کی زندگی میں بھی یہ چیزیں حرام تھیں ‘ اگرچہ ان کے متعلق آیت بعد میں نازل ہوئی۔ اس کی نظیریہ ہے کہ مکہ میں وضوء کرنا مشروع تھا اور مسلمان وضو کرکے نماز پڑھتے تھے اگرچہ آیت وضوء مدینہ میں سورة مائدہ میں نازل ہوئی ہے۔ 

تقلید صحیح اور تقلید باطل کا فرق : 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور بیشک بہت سے لوگ بغیرعلم کے اپنی خواہشوں سے گمراہی پھیلاتے ہیں۔ 

ایک قول یہ ہے کہ ان لوگوں سے مراد عمرو بن لحی اور اس کے بعد کے مشرکین ہیں ‘ کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے دین میں تغیر کیا اور بحیرہ اور سائبہ کو حرام قرار دیا اور مردار کھانے کو جائز کہا اور عمرو بن لحی نے محض اپنی جہالت سے یہ مذہب نکالا۔ 

ابو اسحاق ابراہیم بن السدی الزجاج المتوفی ٣١١ ھ لکھتے ہیں : 

اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مردار کو حلال کہتے ہیں اور تم سے اس کے حلال ہونے کے متعلق مناظرے کرتے ہیں اور اس طرح وہ تمام لوگ جو اس گمراہی میں مبتلا ہیں ‘ وہ محض اپنی ہواء وہوس کی اتباع کرتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی بصیرت ہے ‘ نہ کوئی علم ہے۔ (معانی القرآن واعرابہ للزجاج ‘ ج ٤‘ ص ٢٨٧‘ مطبوعہ عالم الکتب ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ محض ہواء نفسانی کی بنا پر تقلید کرنا مذموم اور حرام ہے اور ہم جو ائمہ دین کی تقلید کرتے ہیں ‘ وہ اس لیے کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے ائمہ کے اقوال قرآن اور حدیث کی نصوص پر مبنی ہیں اور ہمارے ائمہ نے یہ تصریح کی ہے کہ اگر ہمارا قول کسی حدیث صحیح کے خلاف ہو تو اس قول کو چھوڑ کر حدیث پر عمل کرو اور تقلید صحیح اور تقلید باطل میں یہی فرق ہے کہ تقلید صحیح کا مبنی قرآن اور حدیث ہے اور تقلید باطل کا مبنی ہوائے نفس ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 119