یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۳۵)

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو (ف۹۶) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ

(ف96)

جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۳۶)

بے شک وہ جو کافر ہوئے جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کی برابر اور ، اگر ان کی مِلک ہو کہ اسے دے کر قیامت کے عذاب سے اپنی جان چھڑائیں تو ان سے نہ لیا جائے گا اور ان کےلیے دکھ کا عذاب ہے(ف۹۷)

(ف97)

یعنی کُفّار کے لئے عذاب لازم ہے اور اس سے رہائی پانے کی کوئی سبیل نہیں ۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا٘-وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ(۳۷)

دوزخ سے نکلنا چاہیں گے اور وہ اس سے نہ نکلیں گے اور اُن کو دوامی(ہمیشہ ہمیشہ کی) سزا ہے

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۳۸)

اور جو مرد یا عورت چو رہو (ف۹۸) تو ان کا ہاتھ کاٹو (ف۹۹) ان کے کیے کا بدلہ اللہ کی طرف سے سزا اور اللہ غالب حکمت والا ہے

(ف98)

اور اس کی چوری دو مرتبہ کے اقرار یا دو مَردوں کی شہادت سے حاکم کے سامنے ثابت ہو اور جو مال چُرایا ہے وہ دس درہم سے کم کا نہ ہو ۔ (کما فی حدیثِ ابنِ مسعود)

(ف99)

یعنی داہنا اس لئے کہ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں ” اَیْمَا نَھُمَا” آیا ہے ۔

مسئلہ : پہلی مرتبہ کی چوری میں داہنا ہاتھ کاٹا جائے گا پھر دوبارہ اگر کرے تو بایاں پاؤں ، اس کے بعد بھی اگر چوری کرے تو قید کیا جائے یہاں تک کہ توبہ کرے ۔

مسئلہ : چور کا ہاتھ کاٹنا تو واجب ہے اور مالِ مسروق موجود ہو تو اس کا واپس کرنا بھی واجب اور اگر وہ ضائع ہو گیا ہو تو ضمان واجب نہیں ۔ (تفسیرِ احمدی)

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۹)

تو جو اپنے ظلم کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو اللہ اپنی مہر سے اس پر رجوع فرمائے گا(ف۱۰۰) بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف100)

اور عذابِ آخرت سے اس کو نجات دے گا ۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۴۰)

کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی سزا دیتا ہے جسے چاہے اور بخشتا ہے جسے چاہے اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف۱۰۱)

(ف101)

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ عذاب کرنا اور رحمت فرمانا اللہ تعالٰی کی مشیّت پر ہے وہ مالک ہے جو چاہے کرے کسی کو مجالِ اعتراض نہیں ، اس سے قدریہ و معتزلہ کا اِبطال ہو گیا جو مطیع پر رحمت اور عاصی پر عذاب کرنا اللہ تعالٰی پر واجب کہتے ہیں ۔

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْۚۛ-وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْاۚۛ-سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَۙ-لَمْ یَاْتُوْكَؕ-یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖۚ-یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْاؕ-وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـاؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ۚۖ-وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۴۱)

اے رسول تمہیں غمگین نہ کریں وہ جو کفر پر دوڑتے ہیں(ف۱۰۲) کچھ وہ جو اپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور ان کے دل مسلمان نہیں(ف۱۰۳) اور کچھ یہودی جھوٹ خوب سنتے ہیں (ف۱۰۴) اور لوگوں کی خوب سنتے ہیں(ف۱۰۵) جو تمہارے پاس حاضر نہ ہوئے اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں کے بعد بدل دیتے ہیں کہتے ہیں یہ حکم تمہیں ملے تو مانو اور یہ نہ ملے تو بچو (ف۱۰۶) اور جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے تو ہر گز تو اللہ سے اس کا کچھ بنا نہ سکے گا وہ ہیں کہ اللہ نے ان کا دل پاک کرنا نہ چاہا اُنہیں دنیا میں رُسوائی ہے اور انہیں آخرت میں بڑا عذاب

(ف102)

اللہ تعالٰی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کو ” یٰاَ یُّھَا الرَّسُوْلُ ” کے خطابِ عزّت کے ساتھ مخاطب فرما کر تسکینِ خاطر فرماتا ہے کہ اے حبیب میں آپ کا ناصر و مُعِین ہوں ، منافقین کے کُفر میں جلدی کرنے یعنی ان کے اظہارِ کُفراور کُفّار کے ساتھ دوستی و موالات کر لینے سے آپ رنجیدہ نہ ہوں ۔

(ف103)

یہ ان کے نفاق کا بیان ہے ۔

(ف104)

اپنے سرداروں سے اور ان کے افتراؤں کو قبول کرتے ہیں ۔

(ف105)

ماشاء اللہ حضرت مترجِم قدّس سرّہ نے بہت صحیح ترجمہ فرمایا ، اس مقام پر بعض مُترجِمین و مفسِّرین سے لغزش واقع ہوئی کہ انہوں نے لِقَوْ مٍ کے لام کو علّت قرار دے کر آیت کے معنی یہ بیان کئے کہ منافقین و یہود اپنے سرداروں کی جھوٹی باتیں سنتے ہیں ، آپ کی باتیں دوسری قوم کی خاطر سے کان دَھر کر سنتے ہیں جس کے وہ جاسوس ہیں مگر یہ معنٰی صحیح نہیں اور نظمِ قرآنی اس سے بالکل موافقت نہیں فرماتی بلکہ یہاں لام مِنْ کے معنٰی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے سرداروں کی جھوٹی باتیں خوب سنتے ہیں اور لوگ یعنی یہودِ خیبر کی باتوں کو خوب مانتے ہیں جن کے احوال کا آیت شریف میں بیان آرہا ہے ۔ (تفسیر ابوالسعود و جمل)

(ف106)

شانِ نُزول : یہودِ خیبر کے شرفاء میں سے ایک بیاہے مرد اور بیاہی عورت نے زنا کیا ، اس کی سزا توریت میں سنگسارکرنا تھی یہ انہیں گوارا نہ تھا اس لئے انہوں نے چاہا کہ اس مقدمے کا فیصلہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرائیں چنانچہ ان دونوں (مجرموں) کو ایک جماعت کے ساتھ مدینہ طیّبہ بھیجا اور کہہ دیاکہ اگر حضور حد کا حکم دیں تو مان لینا اور سنگسار کرنے کا حکم دیں تو مت ماننا ، وہ لوگ یہودِ بنی قُرَیظہ وبنی نُضَیرکے پاس آئے اور خیال کیا کہ یہ حضور کے ہم وطن ہیں اور ان کے ساتھ آپ کی صلح بھی ہے ، ان کی سفارش سے کام بن جائے گا چنانچہ سردارانِ یہود میں سے کعب بن اشرف و کعب بن اسد و سعید بن عمرو و مالک بن صیف و کنانہ بن ابی الحقیق وغیرہ انہیں لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ دریافت کیا ، حضور نے فرمایا کیا میرا فیصلہ مانو گے ؟ انہوں نے اقرار کیا ، آیتِ رجم نازل ہوئی اور سنگسار کرنے کا حکم دیا گیا ، یہود نے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا ، حضور نے فرمایا کہ تم میں ایک نوجوانِ گور ایک چشمِ فَدَ ک کا باشندہ ابنِ صوریا نامی ہے ، تم اس کو جانتے ہو ؟ کہنے لگے ہاں ، فرمایا وہ کیسا آدمی ہے ؟ کہنے لگے کہ آج روئے زمین پریہود میں اس کے پایہ کا عالِم نہیں ، توریت کا یکتا ماہر ہے ، فرمایا اس کو بلاؤ چنانچہ بلایا گیا ، جب وہ حاضر ہوا تو حضور نے فرمایا تو ابنِ صوریا ہے ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں فرمایا یہود میں سب سے بڑا عالِم تو ہی ہے ؟ عر ض کیا لوگ تو ایسا ہی کہتے ہیں ، حضور نے یہود سے فرمایا اس معاملہ میں اس کی بات مانو گے ؟ سب نے اقرار کیا تب حضور نے ابنِ صوریا سے فرمایا میں تجھے اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے حضرت موسٰی پر توریت نازل فرمائی اور تم لوگوں کو مِصر سے نکالا ، تمہارے لئے دریا میں راہیں بنائیں ، تمہیں نجات دی ، فرعونیوں کو غرق کیا ، تمہارے لئے اَبر کو سایہ بان بنایا ” مَنُّ و سلوٰی ” نازل فرمایا ، اپنی کتاب نازل فرمائی جس میں حلال و حرام کا بیان ہے کیا تمہاری کتاب میں بیاہے مرد و عورت کے لئے سنگسار کرنے کا حکم ہے ؟ ابنِ صوریا نے عرض کیا بے شک ہے اسی کی قَسم جس کا آپ نے مجھ سے ذکر کیا عذاب نازل ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اقرار نہ کرتا اور جھوٹ بول دیتا مگر یہ فرمائیے کہ آپ کی کتاب میں اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا جب چار عادل و معتبر شاہدوں کی گواہی سے زنا بصراحت ثابت ہو جائے تو سنگسار کرنا واجب ہو جاتا ہے ، ابنِ صوریا نے عرض کیا بخدا بعینہٖ ایسا ہی توریت میں ہے پھر حضور نے ابنِ صوریا سے دریافت فرمایا کہ حکمِ الٰہی میں تبدیلی کس طرح واقع ہوئی ، اس نے عرض کیا کہ ہمارا دستور یہ تھا کہ ہم کسی شریف کو پکڑتے تو چھوڑ دیتے اور غریب آدمی پر حد قائم کرتے ، اس طرزِ عمل سے شرفاء میں زنا کی بہت کثرت ہو گئی یہاں تک کہ ایک مرتبہ بادشاہ کے چچا زاد بھائی نے زنا کیا تو ہم نے اس کو سنگسار نہ کیا پھر ایک دوسرے شخص نے اپنی قوم کی عورت سے زنا کیا تو بادشاہ نے اس کو سنگسار کرنا چاہا ، اس کی قوم اٹھ کھڑی ہوئی اور انہوں نے کہا جب تک بادشاہ کے بھائی کو سنگسار نہ کیا جائے اس وقت تک اس کو ہرگز سنگسار نہ کیا جائے گا ، تب ہم نے جمع ہو کر غریب شریف سب کے لئے بجائے سنگسار کرنے کے یہ سزا نکالی کہ چالیس کوڑے مارے جائیں اور منھ کالا کر کے گدھے پر الٹا بٹھا کر گشت کرائی جائے ، یہ سن کر یہود بہت بگڑے اور ابنِ صوریا سے کہنے لگے تو نے حضرت کو بڑی جلدی خبر دے دی اور ہم نے جتنی تیری تعریف کی تھی تو اس کا مستحق نہیں ، ابنِ صوریا نے کہا کہ حضور نے مجھے توریت کی قسم دلائی اگر مجھے عذاب کے نازل ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں آپ کو خبر نہ دیتا ، اس کے بعد حضور کے حکم سے ان دونوں زنا کاروں کو سنگسار کیا گیا اور یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔ (خازن)

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِؕ-فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْۚ-وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْــٴًـاؕ-وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۴۲)

بڑے جھوٹ سننے والے بڑے حرام خور (ف۱۰۷) تو اگر تمہارے حضور حاضر ہوں (ف۱۰۸) تو ان میں فیصلہ فرماؤ یا ان سے منہ پھیرلو (ف۱۰۹) اور اگر تم ان سے منہ پھیر لو گے تو وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے (ف۱۱۰)اور اگر ان میں فیصلہ فرماؤ تو انصاف سے فیصلہ کرو بے شک انصاف والے اللہ کو پسند ہیں

(ف107)

یہ یہود کے حُکّام کی شان میں ہے جو رشوتیں لے کر حرام کو حلال کرتے اور احکامِ شرع کو بدل دیتے تھے ۔

مسئلہ : رشوت کا لینا دینا دونوں حرام ہیں ۔حدیث شریف میں رشوت لینے دینے والے دونوں پر لعنت آئی ہے ۔

(ف108)

یعنی اہلِ کتاب ۔

(ف109)

سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخیّر فرمایا گیا کہ اہلِ کتاب آپ کے پاس کوئی مقدمہ لائیں تو آپ کو اختیار ہے فیصلہ فرمائیں یا نہ فرمائیں ۔ بعض مفسّرین کا قول ہے کہ یہ تخییر آیۃ ” وَاَنِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ ”سے منسوخ ہوگئی امام احمد نے فرمایا کہ ان آیتوں میں کچھ منافات نہیں کیونکہ یہ آیت مفیدِ تخییر ہے اور آیت ” وَاَنِ احْکُمْ الخ” میں کیفیّتِ حکم کا بیان ہے ۔ (خازن و مدارک وغیرہ)

(ف110)

کیونکہ اللہ تعالٰی آپ کا نگہبان ۔

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَؕ-وَ مَاۤ اُولٰٓىٕكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠(۴۳)

اور وہ تم سے کیونکر فیصلہ چاہیں گے حالانکہ ان کے پاس توریت ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے (ف۱۱۱) بایں ہمہ(اس کے باوجود) اسی سے منہ پھیرتے ہیں (ف۱۱۲) اور وہ ایمان لانے والے نہیں

(ف111)

کہ بیاہے مرد اور شوہر دار عورت کے زنا کی سزا رجم یعنی سنگسار کرنا ہے ۔

(ف112)

باوجود یکہ توریت پر ایمان لانے کے مدعی بھی ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ توریت میں رجم کا حکم ہے اس کو نہ ماننا اور آپ کی نبوّت کے منکِر ہوتے ہوئے آپ سے فیصلہ چاہنا نہایت تعجّب کی بات ہے ۔