حدیث نمبر :588

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں رات اور دن کےفرشتے باری باری سے آتے ہیں اورفجراور عصرکی نمازوں میں جمع ہوجاتے ہیں ۱؎ پھرجوتم میں رات گزاریں وہ چڑھ جاتے ہیں۲؎ ان سے ان کا رب پوچھتاہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتاہے کہ تم نے میرے بندوں کوکس حال میں چھوڑا۳؎ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں نمازپڑھتے چھوڑا اورجب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نمازپڑھ رہے تھے۴؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہاں فرشتوں سے مرادیاتو اعمال لکھنے والے دو فرشتے ہیں یا انسان کی حفاظت کرنے والے ساٹھ فرشتے۔ہر نابالغ کے ساتھ ساٹھ فرشتے رہتے ہیں اور بالغ کے ساتھ۶۲،اسی لئے نماز کے سلام اور دیگر سلاموں میں ان کی نیت کی جاتی ہے،ان ملائکہ کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں دن میں اور رات میں مگر فجروعصرمیں پچھلے فرشتے جانے نہیں پاتے کہ اگلے ڈیوٹی والے آجاتے ہیں تاکہ ہماری ابتداءوانتہا کے گواہ زیادہ ہوں۔

۲؎ اپنے ہیڈکوارٹرکی طرف جہاں ان کا مقام ہے۔

۳؎ یہ سوال یا تو ان فرشتوں کوگواہ بنانے کے لئے ہے یانمازوں کی عظمت ان کے دلوں میں قائم کرنے کے لئے کیونکہ انسان کی پیدائش کے وقت فرشتوں نے کہاتھا کہ اے رب تو فسادی اورخون ریزیاں کرنے والوں کو خلافت کیوں دے رہا ہے؟معلوم ہوا کہ پوچھنا بے علمی کی دلیل نہیں اگرحضور نے کسی سے کوئی بات پوچھی تو اس سے آپ کی بے علمی ثابت نہیں ہوتی۔

۴؎ اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ فرشتے نمازیوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں کہ آس پاس کی نیکیوں کاذکراور درمیان کے گناہوں سے خاموشی یا یہ مطلب ہے کہ اے مولاجن بندوں کی ابتداءاورانتہا ایسی اعلی ہو ان کے درمیانی اعمال بھی اچھے ہوں گے،جس دکان کی بونی اچھی ہو اس میں ہمیشہ برکت ہی رہتی ہے۔